Bismillah

609

۲۳تا۲۹ذی الحجہ۱۴۳۸ھ   بمطابق  ۱۵تا۲۱ستمبر۲۰۱۷ء

استقامت کا مینار (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 568 - Saadi kay Qalam Say - Isteqamat ka Meenar

استقامت کا مینار

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 568)

اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہو…حضرت سیدناابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر… ان کا اسم گرامی ہے…خالد بن زید الخزرجی النجاری… سلام اللّٰہ علیہ ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ ورضی اللّٰہ عنہ وارضاہ …

اللہ تعالیٰ ہماری آج کی اس مجلس اور اس کالم کو قبول فرما کر اس کا ثواب حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمائے…اور ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہم سب کو مرتے دم  تک … دین اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ پر استقامت عطاء فرمائے…

 

دلکش منظر

حضور اقدسﷺاپنی اونٹنی پر تشریف فرما ہیں…’’قباء‘‘ سے مدینہ منورہ کی طرف روانگی ہے… حضرات انصار پروانوں کی طرح اردگرد بھاگتے دوڑتے جا رہے ہیں… ہر دل میں ایک ہی خواہش دھک دھک کر رہی ہے کہ… حضرت آقا مدنیﷺ میرے گھر میں قیام فرمائیں… انصار کے قائدین حضرات نے… دل اور نظریں بچھا رکھی تھیں…اور جگہ جگہ محبت کے ناکے لگا رکھے تھے… اونٹنی ایک شان کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی… پہلے ناکے پر کچھ سچے عاشق سامنے آ کر گڑگڑانے لگے… یا حضرت! یہاں قیام فرمائیے جان ، مال ، کنبہ اور سرفروشی حاضر ہے… سب کچھ آپ پر قربان کر دیں گے اور آپ پر دشمن کا سایہ تک نہیں پڑنے دیں گے… ارشاد ہوا … اونٹنی کو چھوڑ دو… یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے … جہاں حکم ہو گا وہاں بیٹھے گی… وہ عاشق تھے مگر فرمانبردار، وہ سچے محب تھے مگر غلامی ہی ان کا ناز تھی دل پکڑ کر راستے سے ہٹ گئے… اگلے محلے پر گذر ہوا تو وہاں بھی بڑے بڑے عزتمند حضرات بھکاری بنے… راستہ روکے کھڑے تھے…حضرت! یہاں قیام فرمائیے…لشکر، اسلحہ، جان،مال اور حفاظت سب کچھ پیش خدمت ہے… مگر یہاں بھی وہی جواب ملا… اسی طرح چار پانچ جگہ ہوا…اب ہر آنکھ اُس ہستی کو دیکھنے کی مشاق تھی…جس کے نام سعادت کا قرعہ نکلنا تھا…بالآخر یہ اونٹنی مسجد نبوی شریف کی جگہ کے قریب… حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تشریف فرما ہوئی… سحان اللہ! سعادت کا وہ لمحہ جس کی صدیاں منتظر تھیں… ابو ایوب کے دروازے پر دستک دے چکا تھا… وہ بھاگ بھاگ کر سامان اُٹھا رہے تھے اور کائنات کے سب سے مبارک مہمان کو اپنے گھر لے جا رہے تھے…وہ اور اُن کی خوش نصیب اہلیہ کھانا تیار کرتے…پھر جب حضرت آقا مدنیﷺتناول فرما لیتے تو میاں بیوی میں مقابلہ شروع ہو جاتا کہ…حضرت آقا مدنیﷺکی مبارک انگلیوں کے نشان والی جگہ کا بچا ہوا کھانا کس کو ملتا ہے… مبارک ہو ابو ایوب مبارک… اور پھر زمانے کے پچاس سال گذر گئے…تاریخ کے صفحات ایک اور منظر کی عکس بندی کر رہے ہیں … مسلمانوں کا ایک لشکر رومیوں کے ساتھ جہاد کرنے جا رہا ہے… لشکر میں گھوڑے، اونٹ اور مجاہدین تو ہوتے ہی تھے…مگر آج ایک اور چیز بھی ہے… جی ہاں! ایک جنازہ ہے ہاں … ایک جنازہ بھی لشکر کے کندھوں پر ہے… اور مجاہدین اسے نہایت احترام سے اُٹھا کر آگے بڑھ رہے ہیں… یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ کی دیوار تک پہنچ گئے… آگے دشمنوں کا لشکر اور اس کے مورچے تھے… یہاں قبر کھودی گئی… اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا… دراصل وہ راستے ہی میں انتقال فرما چکے تھے…مگر وصیت کر گئے تھے کہ… میرے جنازے کو بھی جہاد میں ساتھ ساتھ لے جانا… گویا کہ یوں فرمایا کہ میں نے حضرت آقا مدنیﷺ سے اسلام اور جہاد کی بیعت کی ہے… میرا بڑھاپا مجھے جہاد سے نہیں روک سکا… تو میں چاہتا ہوں کہ…میری موت بھی مجھے جہاد سے نہ روک سکے… پس جہاں تک لشکر جا سکتا ہو وہاں تک میرا جنازہ لے جایا جائے…اور مجھے وہاں دفن کیا جائے… استقامت کا یہ مینارجب قسطنطنیہ کی دیوار کے پاس … نصب ہوا تو پورے’’ ترک خطے‘‘ میں اسلام اور جہاد کی لہر دوڑ گئی…لوگوں نے اس قبر سے نور اٹھتے دیکھا… رومی وہاں جمع ہو کر بارش کے لئے دعاء کرتے تھے … اور پھر یہ پورا خطہ اسلام میں داخل ہو گیا… سلام ہو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پر…بے شمار سلام… سلام اللّٰہ علیہ ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ …رضی اللّٰہ عنہ وارضاہ

استقامت کا مینار

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی خاص صفت … ’’استقامت‘‘ تھی… اور استقامت ہی سب سے بڑی کرامت ہے… قرآن مجید سمجھاتا ہے کہ… جس میں استقامت ہو اس پر فرشتے اُترتے ہیں…زندگی میں بھی اور موت کے وقت بھی… ایمان پر استقامت ایسی صفت ہے جو کروڑوںاربوں میل سے فرشتوں کو کھینچ لاتی ہے …یہ استقامت کی کشش تھی کہ…حضرت آقا مدنیﷺ کی مبارک اونٹنی…نہ قبیلہ اوس کے سرداروں کے محلے میں اُتری… اور نہ قبیلہ خزرج کے رؤسا کے دروازوں پر رکی… وہ نہ مدینہ کے مالداروں کے ہاں ٹھہری… اور نہ وہ مدینہ کے سخیوں اور نامور بہادروں کے پاس رکی… استقامت تو تمام انصار میں تھی… تمام صحابہ کرام میں تھی… مگر کسی پر کسی چیز کا رنگ غالب ہوتا ہے … حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پر ’’استقامت‘‘ کا رنگ ایسا غالب تھا کہ… اونٹنی سب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے… ان کے گھر جا اُتری… اے مجاہدو! غور کرو…دین اور جہاد پر استقامت کتنی بڑی طاقت ہے اور کتنی بڑی نعمت … اور یہ کیسی کیسی سعادتوں کو…آپ کے دروازے پر لے آتی ہے…

جب اونٹنی کے اترنے کا واقعہ پیش آ رہا تھا تو … اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھا کہ…کون آگے چل کر کیا کرے گا؟… مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ… ابو ایوب اس امت کے لئے استقامت کا وہ روشن مینار بنیں گے کہ… جن کو دیکھ کر ٹوٹتے حوصلے مضبوط ہو جایا کریں گے… اور مضمحل اعصاب میں بجلی دوڑ جایا کرے گی… چنانچہ ایسا ہی ہوا … غزوہ بدر سے لے کر غزوہ تبوک تک …دور نبوی کے ہر جہاد میں اللہ کے نبی کا یہ سچا عاشق دیوانہ… پہلی صف میں شریک رہا… بلکہ غزوہ خیبر کے موقع پر تو بہت عجیب واقعہ ہوا…فتح کے بعد حضور اقدس ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا… وہیں رخصتی کا انتظام کیا گیا… حضور اقدس ﷺ کا ہر نکاح اللہ تعالیٰ کے حکم سے… اور اس امت کی بھلائی کے لئے تھا …جنگ ختم ہو چکی تھی… کسی طرف سے مزاحمت کا کوئی خطرہ اندیشہ نہیں تھا… اس لئے اسلامی لشکر اطمینان سے سویا… حضرت آقا مدنیﷺ جب صبح خیمہ مبارک سے باہر تشریف لائے تو …دیکھا ابو ایوب ہاتھ میں تلوار لئے مستعد پہرہ دے رہے ہیں… وجہ پوچھی تو عرض کیا…مجھے اندیشہ ہوا کہ… آپ کا نکاح یہودیوں کے سردار کی بیٹی سے ہوا ہے تو آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے تو… ساری رات اسی طرح پہرہ دیتا رہا… آپ ﷺ خوش ہوئے اور دعاء دی…

یا اللہ! ابو ایوب کی حفاظت فرما جس طرح انہوں نے پوری رات میری حفاظت کے لئے پہرہ دیا… اسی مبارک دعاء کا اثر تھا کہ… حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو قتل ہونے والی شہادت نہیں ملی… بلکہ وفات والی شہادت ملی … اور بعض اوقات وفات والی شہادت کا مقام قتل ہونے والی شہادت سے بڑا ہوتاہے…

پھر خلفاء راشدین کا دور شروع ہوا تو… ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے لے کر …حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک… مسلسل جہاد میں حصہ لیا…صرف ایک لشکر میں نہیں گئے… اور اس پر بھی خود کو ہمیشہ ملامت کرتے تھے…ہاں ایک بات رہ گئی…حضور اقدس ﷺ کے زمانے میں… مدینہ کے منافقین بعض اوقات مسجد نبوی میں بیٹھ کر اسلام کے خلاف سازشیں اور مسلمانوں کی غیبتیں کرتے تھے… حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ایک بار ان کو دیکھ لیا…’’استقامت‘‘ انسان کو ہمیشہ ایک رنگ پر رکھتی ہے… اور کبھی دو رنگی یا مداہنت اختیار نہیں کرنے دیتی… مدینہ کے یہ منافق اوس اور خزرج کے معزز لوگ شمار ہوتے تھے… اور ان میں سے بعض تو ماضی میں اپنے قبیلوں کے سردار بھی رہے تھے… مگر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو اپنی یا اپنے نام کی کوئی فکر نہیں تھی… وہ اسلام کے تھے، جہاد کے تھے اور حضرت آقا مدنی ﷺ کے تھے اور بس… چنانچہ آگے بڑھے اور ایک منافق کے پاؤں پکڑ کر اسے گھسیٹتے ہوئے مسجد سے باہر پھینک آئے… وہ چیختا رہا …عار دلاتا تھا…

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج سے تھے…اور جس کو گھسیٹ رہے تھے وہ خزرج کا سردار رہ چکا تھا…وہ قوم پرستی جگانے کی کوشش کرتا رہا… مگر کہاں ابو ایوب استقامت کے مینار اور کہاں بدبودار قوم پرستی… اس کو باہر پھینک کر پھر مسجد میں گئے اور دوسرے کو پکڑ کر تھپڑ لگائے اور گھسیٹ کر باہر لے آئے…فرمایا …رسول اللہﷺ کی مسجد میں… ایسی باتیں کرنے والوں کو ابو ایوب برداشت نہیں کر سکتا… بے شک! ہر کسی کی ہاں میں ہاں ملانے والے… کبھی سچی استقامت کی خوشبو نہیں پا سکتے…

مقوی اعصاب

گذشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ…آج کل کا جو جہاد ہے وہ بہت طویل اور اعصاب شکن ہے … آج یہ عرض کرنا تھا کہ مجاہدین اپنے اعصاب کو کس طرح سے مضبوط رکھ سکتے ہیں… طویل جنگ جس طرح بڑے بڑے ملکوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے… اسی طرح وہ جماعتوں، تنظیموں اور افراد کو بھی تھکا کر گرا دیتی ہے… مگر الحمد للہ… مسلمانوں کے پاس … اعصاب اور حوصلے کو مضبوط رکھنے کے بڑے بڑے نسخے موجود ہیں… آج ان میں سے بعض نسخے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے عرض کرنے تھے…اور کالم کا نام رکھنا تھا ’’مقوی اعصاب‘‘… اس میں ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ… کئی ایسے افراد جو بیماریاں اور دوائیوں کے شوقین ہوتے ہیں وہ بھی… اس گمان سے کالم پڑھ لیتے کہ… شاید قوت و طاقت کی کوئی خاص ’’دواء‘‘ ہاتھ آ جائے… اسی کالم کے لئے مواد اور دلائل کو ذہن میں سوچ رہا تھا کہ … استقامت کے روشن اور خوبصورت مینار نے دل کو اپنی طرف کھینچ لیا…جی ہاں! حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کی یادیں … اور ان کی باتیں… ایک ٹوٹتے مسلمان کو بھی تھام لیتی ہیں… حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ … قرآن مجید کی آیت مبارکہ

’’اِنْفِرُوْ اخِفَافاً وَّثِقَالاً‘‘

کی چلتی پھرتی تفسیر تھے… اور وہ اس آیت مبارکہ کا حوالہ بھی دیتے تھے کہ… اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر حال میں…جہاد میں نکلنے کا حکم فرمایا ہے… اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ…جہاد کو چھوڑ کر …اپنے گھر بار اور کاروبار کی فکر و اصلاح میں لگ جانا… یہ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے… اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں… خود کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے

’’وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلیَ التَّھْلُکَۃِ ‘‘

اگر کوئی اس وجہ سے جہاد چھوڑتا ہے کہ … اس نے بہت کام کر لیا ہے تو وہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو دیکھے… انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی میزبانی سے لے کر بدر و رضوان جیسے کارنامے سرانجام دئیے… مگر پھر بھی نہ بیٹھے… اگر کوئی کسی صدمے کی وجہ سے… جہاد چھوڑتا ہے تو وہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو دیکھے… انہوں نے حضور اقدسﷺکی رحلت اور چار خلفاء راشدین کی رحلت و شہادت جیسے عظیم صدمے دیکھے… مگر جہاد میں چلتے رہے… اگر کوئی بڑھاپے کی وجہ سے جہاد چھوڑ رہا ہے تو وہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو دیکھے کہ… نوے سال سے زائد کی عمر میں بھی انہوں نے کسی لشکر سے پیچھے رہنا گوارہ نہ کیا…اگر کوئی مسلمانوں کے داخلی انتشار اور اختلافات کو دیکھ کر جہاد سے دل برداشتہ ہوتا ہے تو وہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو دیکھے… انہوں نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ …اور جمل ، صفین اور نہروان جیسے واقعات قریب سے دیکھے مگر پھر بھی جہاد فی سبیل اللہ میں چلتے رہے…

ہاں!بے شک استقامت کا یہ مینار… ہمارے لئے کوئی عذر کوئی بہانہ نہیں چھوڑتا… تو پھر کیوں نا… ہم بھی بھاگنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ’’استقامت‘‘ مانگ لیں… وہ اللہ تعالیٰ جو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو ’’استقامت‘‘ عطاء فرما سکتا ہے… وہ ہمیں بھی یہ نعمت دینے پر قادر ہے… ان اللّٰہ علی کل شیء قدیر

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online