Bismillah

581

 ۱۹تا۲۵جمادی الاولیٰ۱۴۳۸ھ   ۱۷ تا۲۳فروری۲۰۱۷ء

بُت ٹوٹ رہے ہیں (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 569 - Saadi kay Qalam Say - But Toot rahe hein

بُت ٹوٹ رہے ہیں

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 569)

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے… زمانے کے بڑے بڑے ’’بت‘‘ ٹوٹ رہے ہیں…گر رہے ہیں … اہل ایمان اور اہل جہاد کی استقامت کو سلام

کاش اذان دیتے ذبح ہوتا

استقامت بڑی عظیم نعمت ہے… اہل استقامت کی زندگی بھی بہترین ہوتی ہے اور موت بھی شاندار… مگر جو ’’استقامت‘‘ سے محروم ہو جاتا ہے… وہ کہیں کا نہیں رہتا… کسی نے بڑی اچھی مثال پیش کی ہے… ایک ’’مرغا‘‘ تھا … اونچی آواز، اُٹھتا قد اور بلندکلغی والا… اذان دیتا تو میلوں تک آواز جاتی… مگر پھر اس پر امتحان آ گیا … مالک نے اسے کہا آئندہ اگر اذان دی تو ذبح کر دوں گا… ’’مرغا‘‘ موت کے ڈر سے جھک گیا… اور اذان چھوڑ دی… چند دن بعد مالک نے کہا تم نے اگر آئندہ مرغیوں کی طرح آواز نہ نکالی تو ذبح کر دوں گا… مرغے نے جان بچانے کے لئے ’’مرغی‘‘ کی آواز نکالنا شروع کر دی…چند دن بعد مالک نے کہا تمہارے سر کی اُٹھی ہوئی کلغی اگر نہ جھکی تو ذبح کر دوں گا… مرغے نے جان بچانے کے لئے… اپنی کلغی زمین پر رگڑ رگڑ کر توڑ دی… چند دن بعد مالک نے کہا…اگر تم نے کل سے ’’ مرغی‘‘ کی طرح روز ایک انڈہ نہ دیا تو تمہیں ذبح کر دوں گا… روشن خیال مرغا لرز کر رہ گیا…

اب انڈہ کیسے دے … بے اختیار رونے لگا اور کہنے لگا …ہائے کاش اذان دیتے ہوئے ذبح ہو جاتا… کسی اچھے کام پر تو جان جاتی…جان بچانے کے لئے اذان سے محروم ہوا… خود کو ’’مؤنث ‘‘ بنایا…ہر ذلت برداشت کی… مگر ظالم دباتے ہی چلے گئے … اور آج وہ مطالبہ کر دیا جو میں پورا کر ہی نہیں کر سکتا …ذبح آج بھی ہونا ہے، دو چار دن پہلے ہو جاتا … لیبیا کا کرنل قذافی مضبوط رہا، ڈٹا رہا…اپنی قوم کی آنکھوں کا تارا رہا مگر جب بڑھاپے میں جھکنا شروع کیا تو پھر دبانے والے دباتے ہی چلے گئے اور بالآخر جس قوم کی آنکھ کا تارا تھا… اسی قوم نے لاتوں، مکوں ، گھونسوں سے کچومر نکال دیا …شیخ عمر مختار بھی اسی لیبیا سے تعلق رکھتے تھے…اُن کو بھی موت آئی… مگر اذان دیتے ہوئے…لوگ آج بھی اُن کی زندگی محسوس کرتے ہیں… اور قذافی کو بھی موت آئی مگر کس قدر ذلت ناک… اللہ تعالیٰ کی پناہ… اب ہمارے ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے…’’مودی‘‘ نے پٹھان کوٹ حملے پر شور اُٹھایا اورپاکستان حکومت پردباؤ ڈالا… حکومت کے پاس ’’ استقامت‘‘ کا راستہ موجود تھا…وہ مودی کو دو ٹکا جواب دے دیتی کہ…کشمیر کے حالات ٹھیک کرو …یہ حملے کشمیر کی وجہ سے ہیں… مگر ’’حکومت‘‘ جھک گئی،دب گئی… پٹھان کوٹ کا مقدمہ پاکستان کی سرزمین پر دائر ہوا… اور پھر بزدلی کے اس فیصلے نے ہر طرف خون ہی خون پھیلا دیا … انڈین حکمران یہ سمجھ بیٹھے کہ اب ہم پاکستان کو جھکاتے جائیں گے اور اسے کمزور کرتے جائیں گے… چنانچہ پھر ہر حملے پر انہوں نے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ شروع کر دیا… اور جب مطالبہ پورا نہ ہوا تو بارڈروں پر آگ لگا دی … کیونکہ ان کے حوصلے بڑھ چکے تھے اور عادت بگڑ چکی تھی… پس اسی تناؤ میںیہ تماشے کر رہے ہیں…لیکن اگر آج بھی پٹھان کوٹ مقدمے کی ایف آئی آر ختم کر دی جائے… اس سلسلے میں پاکستان نے جو غلط اقدامات کئے ہیں وہ واپس لے لئے جائیں تو انڈیا اپنی اوقات پر آ جائے گا… کیونکہ ’’مشرکین ‘‘ استقامت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے… لیکن اگر خدانخواستہ اس وقت انڈیا کے دباؤ کو قبول کیا گیا تو پھر… تباہی بڑھے گی… اور وہ  ’’انڈہ‘‘ دینے کے مطالبے تک آ جائیں گے… اے ایمان والو … کافروں کے سامنے نہ جھکو، یہ اللہ تعالیٰ کا تاکیدی حکم ہے…یہ قرآن مجید کا فرمان ہے… اور اسی میں ہماری نجات، عزت،حفاظت اور فلاح ہے…

اچھی قسمت کا سوال

بات استقامت پر چل رہی تھی تو…ایک اور منظر ذہن میں آ گیا… کئی مسلمان جوں جوں بوڑھے ہوتے جاتے ہیں… اسی قدر موت، قبر اور آخرت سے غافل ہوتے جاتے ہیں… کئی بوڑھے حضرات کو دیکھا گیا کہ… اُن کی آخری عمر میں یہ فکر بن جاتی ہے کہ…شہر سے باہر کھلی فضا میں کوٹھی ہو، فارم ہو…کیونکہ اب شہر والے مکان میں دم گھٹتا ہے… اب اچھا سا کارخانہ اور کاروبار ہو وغیرہ وغیرہ… ہم ان کی بات نہیں کر رہے جن کو نعوذ باللہ آخری عمر میں حرام قسم کے شوق ہو جاتے ہیں… غیر محرم عورتوں سے اختلاط، شراب نوشی اور دیگر نشے وغیرہ… بات ان کی ہو رہی ہے جو کچھ نیک ہیں…اللہ اور اس کے رسولﷺ کو مانتے ، پہچانتے ہیں… مگر بد نصیبی کہ اب جبکہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت آن پہنچا ہے تو اُن کو… اس کی تیاری کی کوئی فکر ہی نہیں … بلکہ وہ اپنی اولاد در اولاد مکان در مکان… اور جائیداد در جائیداد میں اُلجھتے جا رہے ہیں… شہر سے باہر کوٹھی اور فارم بھی بن رہا ہے…مگر جنازہ پہلے اُٹھ جاتا ہے اور قصہ ختم… اب پیچھے والے اس جائیداد پر لڑتے مرتے ہیں… دوسری طرف ایسے افراد بھی ہیں کہ… جیسے ہی بڑھاپا آیا فوراً…محبوب سے ملاقات کی تیاری میں ذوق و شوق سے مصروف ہو گئے … پہلے چلنا آسان تھا اب مسجد جانے میں دشواری ہوئی تو… عصر سے عشاء تک مسجد میں بیٹھے رہتے ہیں کہ… تین نمازیں پوری کر کے جائیں گے… کبھی ظہر میں آئے تو عشاء تک مسجد میں ہی رکے رہے… کبھی سوچا کہ فلاں پلاٹ ویسے ہی پڑا ہوا ہے… چلو آخرت کا گھر بنا لیتا ہوں…وہاں مسجد بنوا لی اور متصل اس کے ساتھ اپنا اٹیچ باتھ حجرا بنوا لیا… سبحان اللہ! دو قدم اُٹھائے اور مسجد میں… اب جہاد میں نہیں جا سکتے تو…دو تین مجاہدین کا وظیفہ اور خرچہ اپنے ذمہ لے لیا… گویا کہ دلہن رخصتی کے انتظار میں آ بیٹھی… اور اب رخصتی کے سوا کوئی سوچ نہیں… اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق تو…رخصتی کے شوق سے بہت بلند،بہت لذیذ اور بہت تسکین آور ہے… بس قسمت کی بات ہے… کچھ لوگ بڑھاپے میں اولاد کی جھڑکیوں… جائیداد کے زخم … اور زمانے کی ناقدری کا شکار ہو جاتے ہیں…جبکہ کچھ لوگ… بہت نورانی،پاکیزہ،باعزت اور شاندار بڑھاپا گزارتے ہیں…بات وہی استقامت کی ہے …جو لوگ دین، ایمان اور جہاد پر استقامت رکھتے ہیں… وہ ہر آئے دن مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں… اور اُن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص رحمتیں نازل ہوتی ہیں… یا اللہ! استقامت کا سوال ہے…

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّاب

بت گر رہے ہیں

جب حضرت آقا مدنیﷺنے مکہ مکرمہ میں …فریضہ رسالت سنبھالا تو مکہ مکرمہ بتوں سے بھرا پڑا تھا… ’’بت‘‘ بہت گندی اور ناپاک چیز ہے …قرآن مجید نے جگہ جگہ ’’بتوں‘‘ کی حقیقت بیان فرمائی ہے… اور انہیں گندگی ، غلاظت اور بیماری قرار دیا ہے… اگر کوئی مسلمان کسی ’’بت ‘‘ کو دیکھتا ہو اور اس کا دل کراہیت اور نفرت سے بھر جاتا ہو تو… یہ اس کے ایمان کی علامت ہے… اگر کوئی کتا مکمل خارش شدہ ہو پورے جسم سے بال اُکھڑ گئے ہوں ، کھال کئی جگہ سے پھٹ گئی ہو اور زخموں سے بدبوردار مادہ بہتا ہو…اس کتے کو دیکھنے سے جتنی نفرت ہوتی ہے… ایک ’’ بت‘‘ کو دیکھنے سے پیدا ہونی والی گھٹن اور نفرت… اس سے کہیں زیادہ ہے… قرآن مجید نے بتوں کے لئے …’’رجس‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے … انتہائی غلیظ گندگی…

اللہ تعالیٰ ہماری… اور ہماری آل واولاد کی … بتوں کے شر سے حفاظت فرمائے… ’’بت ‘‘ کچھ نہیں کر سکتے… ان کا شر یہ ہے کہ…ان کی ’’پوجا‘‘کی جائے …جس نے ان کی تعظیم اور پوجا کی وہ ہلاک ہو گیا… اور بے انتہا غلیظ ہو گیا…

اگر آپ میں سے کسی کو …میری یہ باتیں ’’مبالغہ‘‘ نظر آئیں تو وہ ازراہ کرم صرف ایک بار قرآن مجید کی وہ آیات مبارکہ پڑھ لے جن میں ’’بتوں ‘‘ کا تذکرہ ہے… تب وہ ضرور ان باتوں سے مکمل اتفاق کرے گا… ’’بتوں ‘‘ کے ساتھ نفرت ایمان کا اہم تقاضا ہے… آج کل جو تصویر بازی اور پینا فلیکسوں کی بوچھاڑ ہے…ان کو دیکھ کر بھی دل بہت پریشان اور تنگ ہوتا ہے… خیر یہ ایک الگ موضوع ہے… بس آپ سب سے اتنی گذارش ہے کہ…جاندار کی تصویر بنانے سے جس قدر بچ سکتے ہوں بچ جائیں…آپ ہی کا بھلا ہو گا… مکہ مکرمہ میں دو طرح کے بت تھے … ایک تو پتھر اور دھاتوں کے وہ ’’بت‘‘ جو کعبہ شریف اور دیگر اہم مقامات پر… پوجا کے لئے رکھے ہوئے تھے…لات، عزیٰ، منات اور ہبل وغیرہ… یہ اصل میں ماضی کی کچھ کامیاب اور مشہور شخصیتوں کے بت تھے… جو تدریجاً … محبت، ادب ، تعظیم سے ترقی کرتے کرتے نعوذ باللہ خدا، دیوتا اور بھگوان بنا دئیے گئے… اور دوسرے کچھ ’’بت‘‘ مکہ مکرمہ میں زندہ موجود تھے… ایسے معروف ، مشہور اور مؤثر افراد جن کے ہر حکم کی پوجا کی جاتی تھی… اور مرنے کے بعد انہوں نے بھی دیوتا اور بھگوان بن جانا تھا… حضرت آقا مدنیﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کی محنت اور استقامت نے…مکہ مکرمہ اور جزیرۃ العرب سے ان دونوں قسموں کے تمام’’ بتوں‘‘ کا صفایا کر دیا … ’’بت‘‘ کبھی بھی ایمانی استقامت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے…مکہ مکرمہ اور جزیرۃ العرب کے مردہ اور زندہ بت کیسے ٹوٹے اور گرے… یہ بڑی ایمان افروز داستان ہے… کبھی موقع ملے تو سیرت مبارکہ میں پڑھ لیں…

آج یہ عرض کرنا ہے کہ … انڈیا بھی ناپاک بتوں کا مرکز ہے… وہاں پتھر، سونے اور کانسی کے بت بھی ہیں… اور زندہ بت بھی… جنہوں نے آگے چل کر’’ بت‘‘ بننا ہے … ان زندہ شر انگیز بتوں کا ایک خطرناک جتھہ’’ آر ایس ایس‘‘ نے تیار کیا … یہ بت انڈیا سے توحید کے خاتمے کے لئے ایک بڑی طاقت بن کر اُٹھے… ایڈوانی ، رجو بھیا، واجپائی، پرم راج ہنس، بال ٹھاکرے، کرشن لال شرما، سشما سوراج، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی… وغیرہ ان سب’’ بتوں‘‘ نے اپنی تمام تر محنت اور خباثت کو جمع کر کے …ایک انڈہ دیا جس کا نام ہے ’’مودی‘‘ … یہ آر ایس ایس کے بڑے بتوں کا… نچوڑ اور خلاصہ ہے… پھر مشرکین نے اپنی تمام ترسیاسی اور اقتصادی طاقت استعمال کر کے اور ساری دنیا سے اپنا سرمایہ استعمال کر کے… ’’مودی ‘‘ کے بت کو انڈیا کا حکمران بنایا …مقصد یہ تھا کہ…اب انڈیا سے اسلام اور مسلمانوں کو مکمل ختم کر دیا جائے گا… اور افغانستان و ایران کو ساتھ ملا کر… پاکستان کو بھی مٹا دیا جائے گا… اور یوں ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا سو سالہ خواب پورا ہو جائے گا… مگر اہل ایمان اور اہل جہاد کی استقامت کو سلام…بت پرستوں کا یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہو رہا ہے… اور اب تو ’’مودی‘‘ ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے کہ… بھارت کا ہر شخص اسے گالیاں دے رہا ہے… کل تک جو مودی… اُن کا بھگوان تھا آج وہی … پورے انڈیا میں سب سے قابل نفرت ہے…

اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ…سو سالہ منصوبہ کیسے ذلیل اور ناکام ہوا…بتوں کا جو طاقتور جتھہ آر ایس ایس نے تیار کیا تھا… وہ آج زرد پتوں کی طرح بکھر رہا ہے… تین چار تو مر چکے… ایڈوانی، واجپائی اپنی چارپائیوں پر پڑے ہیں… سشما سوراج کے گردے فیل ہو چکے… اوما بھارتی ذلتوں اور بدنامیوں میں ہے… اور مودی… آج انڈیا کی سب سے فحش گالی بن چکا ہے… بتوں کے اس بھیانک انجام کو دیکھ کر … دل چاہ رہا ہے کہ… وجد سے سورۂ اخلاص پڑھوں… چیخ چیخ کر کلمہ طیبہ کی گواہی دوں … بے شک اللہ ایک ہے… اللہ اکبر کبیرا…لا شریک لہ…لبیک اللھم لبیک … لبیک لا شریک لک لبیک … ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online