Bismillah

595

۲۹شعبان تا۵رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۶مئیتا۱جون۲۰۱۷ء

استقامت کا ایک نسخہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 570 - Saadi kay Qalam Say - Isteqamat ka aik  Nuskha

استقامت کا ایک نسخہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 570)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’اسلام‘‘ پر زندہ رکھے اور ’’ایمان ‘‘ پر موت عطاء فرمائے…

رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْراً وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ

غزوہ بدر نے ہمیں سکھایا کہ …اگر تمہیں شاندار فتح مل جائے ، مال غنیمت کے انبار مل جائیں تب اس مال کے جھگڑے اور مصروفیت میں گم نہ ہو جاؤ … بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو…

غزوہ احد نے ہمیں سکھایا کہ …اگر تمہیں ظاہری شکست پہنچے اور تم غموں اور زخموں سے چور چور ہو جاؤ تب مایوسی اور کمزوری میں نہ ڈوب جاؤ …بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو…

 

غزوہ احزاب نے ہمیں سکھایا کہ…اگر ساری کفریہ طاقتیں …اور منافقین متحد ہو کر تم پر اندر اور باہر سے حملہ آور ہو جائیں تو…خوف ، بزدلی اور پستی میں نہ گرو… بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو ، ڈٹے رہو… غزوہ حدیبیہ نے ہمیں سکھایا کہ… جب تمہارے منصوبے اُلٹ جائیں اور حالات تمہاری سمجھ سے بالاتر ہو جائیں تو… شک، تردداور بے یقینی میں نہ لڑھک جاؤ …بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو… اور غزوہ تبوک نے ہمیں سکھایا کہ …سفر جتنا لمبا ہو،منزل جتنی دور ہو، نقصانات جتنے زیادہ ہوں تو… تھکاوٹ، اُکتاہٹ اور بے چینی میں نہ پھنسو بلکہ … ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو…

یا اللہ! ہم سب کو ایمان اور جہاد پرا ستقامت عطاء فرما

یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلیٰ دِیْنِکَ

ہم تھکے نہیں

افغانستان کا جہاد…اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہے… یہ جہاد جب سے شروع ہوا یہ آگے ہی بڑھ رہا ہے… افغان مسلمانوں نے پہلے ’’برطانیہ‘‘ کو شکست دی یوں وہ ’’غلامی ‘‘ سے محفوظ رہے… ’’غلامی‘‘ بڑی خطرناک چیز ہے… یہ انسانوں کے عقائد، اخلاق اور مزاج تک کو بدل دیتی ہے… برصغیر پونے دو سو سال تک انگریز کی غلامی میں رہا… آپ دیکھیں یہاں کیسے کیسے لوگ پیدا ہو گئے… غلامی پر فخر کرنے والے… غلامی کو کامیابی سمجھنے والے…اور مسلمان کہلوا کر بھی اسلام کے دشمن… افغان مسلمانوں کو ’’ برطانیہ ‘‘ غلام نہ بنا سکا… اللہ تعالیٰ نے اس قوم سے بڑا کام لینا تھا… اور بڑا کام وہی کرتے ہیں جو ذہنی غلامی سے آزاد ہوتے ہیں… سوویت یونین نے افغانستان پر ڈورے ڈالے… ایک طبقہ کمیونزم کا ذہنی غلام بن گیا… دو پارٹیاں وجود میں آ گئیں… ایک کا نام ’’خلق‘‘ تھا اور دوسری کا ’’پرچم ‘‘ … خلق اور پرچم سے تعلق رکھنے والے ’’افغان ‘‘ ایمان، عزت اور  غیرت سے محروم ہوتے چلے گئے… یہ روس اور کریملن جاتے، وہاں تعلیم پاتے اور واپس آکر افغانستان میں گندگی پھیلاتے … جب یہ دو پارٹیاں مضبوط ہو گئیں تو انہوں نے … افغانستان میں کھلم کھلا ’’ کمیونزم ‘‘ کا پرچار شروع کر دیا… مگر افغان ’’آزاد‘‘ تھے… انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر جہاد شروع کیا… سوویت یونین اپنے حلیفوں کی مدد کے لئے افغانستان میں کود پڑا اور یوں … افغان جہاد کا پہلا بڑا مرحلہ شروع ہوا… لمبی داستان ہے…آج عرض یہ کرنا ہے کہ جب اس مرحلے کے جہاد نے طاقت پکڑی اور مجاہدین کو پاکستان کی صورت میں ایک چھاؤنی مل گئی تو … اس وقت افغان مجاہدین کی سات بڑی تنظیمیں بن گئیں… ان سات تنظیموں میں ’’حزب اسلامی‘‘ زیادہ نمایاں تھی… پھر حزب اسلامی بھی دو حصوں میں بٹ گئی… ایک حصے کی قیادت گلبدین حکمت یار کے پاس تھی… جبکہ دوسرے کی کمان مولوی محمد یونس خالص صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھی … مولانا یونس خالص نہایت با اصول ، دیانتدار ، جری اور صاحب علم بزرگ تھے…زندگی کے آخری چالیس سال ایک گردے کے ساتھ گزارے مگر … صحت اور مصروفیت قابل داد تھی … اسی جہادی مرحلے کے دوران ایک بار لاہور تشریف لائے… بندہ اُن کے ساتھ تھا… اردو سمجھ لیتے تھے مگر بول نہیں سکتے تھے…ان کی عربی بہت عمدہ تھی… چنانچہ وہ عربی میں بات کرتے اور بندہ اردو میں ان کی ترجمانی کرتا… ایک اہم ملاقات کے دوران انہوں نے بڑی عجیب بات فرمائی… کہنے لگے… لوگ تاریخیں گن گن کر ہمیں تھکانے کی کوشش کرتے ہیں کہ… جہاد کو دس سال ہو گئے،بیس سال ہو گئے…حالانکہ ہم تھکنے والے لوگ نہیں ہیں… ہم آج بھی اسی طرح پر عزم اور پرجوش ہیں جس طرح جہاد کے آغاز میں تھے…بندہ اس وقت جہاد میں نیا نیا آیا تھا… اس لئے مولانا خالص مرحوم کی یہ بات اچھی طرح نہ سمجھ سکا…بس سن لی، یاد کر لی اور آگے ترجمہ کر دیا…مگر بعد میں معلوم ہوا کہ … تھکاوٹ کیا چیز ہوتی ہے؟… کیسے کیسے عزیمت کے ستون …تھک ہار کر منہ کے بل جا گرے… کیسے کیسے نامور پہاڑ تھک کر مٹی کا ڈھیر بن گئے … اور کیسے کیسے اونچے نام تھکاوٹ کا شکار ہو کر ’’بدنام ‘‘ ہو گئے… استاد سیاف… پہلے جھٹکے ہی میں امریکہ کے اتحادی بن گئے… پروفیسر ربانی کتنا جلدی لڑھک گئے… پیر جی گیلانی کا تو اتا پتا ہی بدل گیا… اور مجددی صاحب کتنے دور نکل گئے…اور اب سنا ہے کہ گلبدین نے بھی بڑھاپے میں اپنا پرچم گرا دیا ہے…

اللہ تعالیٰ رحم فرمائے… افغان قوم واقعی نہ تھکنے والی قوم ہے… آج وہ افغان جہاد کا تیسرا مرحلہ لڑ رہی ہے… اس کے دشمن ایک ایک کر کے کمزور ہو رہے ہیں…

مگر مولوی جلال الدین حقانی کا خاندان …افغان جہاد کے پہلے مرحلے سے… آج تیسرے مرحلے تک اپنے درجنوں جنازے اُٹھا کر بھی… اطمینان سے میدان میں ڈٹا ہوا ہے… اللہ تعالیٰ اہل کشمیر کو بھی جزائے خیر دے… کشمیری اگرچہ افغانوں کی طرح ٹھنڈے اور دھیمے مزاج کے نہیں ہیں… مگر انہیں بھی ماشاء اللہ پہاڑوں جیسی استقامت نصیب ہے… اور فلسطینی تو ہزاروں سال سے… اپنی استقامت کی ایک الگ تاریخ رکھتے ہیں… اسی لئے اُن کا جہاد بھی جاری ہے… جبکہ اسرائیل آگ اور پارلیمنٹ میں گونجنے والی اذان کے شعلوں میں جھلس رہا ہے … ہاں بے شک میدان چھوڑ کر بھاگنے والے بھی بالٓاخر مر جاتے ہیں… اور اہل استقامت بھی بالآخر مر جاتے ہیں…مگر دونوں کی موت میں کتنا فرق ہے… کتنا عظیم فرق… اے مسلمانو! کبھی اس فرق کو قرآن پاک میں جھانک کر دیکھو… پھر رات کی تنہائیوں میں …آنسو بہا بہا کر…اللہ تعالیٰ سے ایمان اور جہاد پر استقامت مانگو گے…

استقامت کا بڑا نسخہ

قرآن مجید نے صاف سنا دیا ہے کہ… جو راستہ بدل کر بھاگ جائے گا… وہ صرف اپنا ہی نقصان کرے گا… پچھلے اعمال غارت، ماضی کی ساری محنت تباہ اور انجام بھی خراب… معلوم ہوا کہ… دین پر استقامت…ہماری اپنی ضرورت ہے… یہ استقامت کیسے ملے گی؟ … قرآن مجید نے استقامت کے مضبوط اور مؤثر نسخے ارشاد فرما دئیے ہیں… اور ساتھ ساتھ اہل استقامت کے عجیب عجیب واقعات بھی سنا دئیے ہیں… آپ قرآن مجید میں صرف حضرت سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا قصہ پڑھ لیں… فرعون کی بیوی …ناز و نعمت میں پلی بڑھی ایک عورت… اس کے پاس نہ حسن و جمال کی کوئی کمی تھی… اور نہ مال ودولت کی… زمانے کے ایک بڑے بادشاہ اور حکمران کی…لاڈلی بیوی… اتنے زیادہ اختیارات کی مالک کہ…آج کی کوئی عورت ان اختیارات کا خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی… اس کے خاوند نے خدائی کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا… اور وہ اس جعلی خدائی کی ملکہ تھی… مگر وہ اس ماحول میں بھی… ایمان لے آئیں… تب آزمائشوں کا دور شروع ہوا… یہ آزمائشیں … پنجاب حکومت کے فورتھ شیڈول سے بہت زیادہ سخت تھیں… یہ آزمائشیں آج کل کی جیلوں اور عقوبت خانوں سے زیادہ بھیانک تھیں…یہ آزمائشیں اُن بہانوں سے بہت زیادہ شدید تھیں جو آج کل… شیطان ہمیں سُجھا کر جہاد سے بھگاتا ہے… ہماری آج کل کی مسلمان خواتین تو… صرف خاندان والوں کی باتوں سے بچنے کے لئے معلوم نہیں کتنے گناہ،کتنی رسومات او رکتنی بدعات کر گذرتی ہیں… مگر وہ جنت کی ملکہ سیدہ آسیہ اس وقت بھی ڈٹی رہی… جب خاندان والے اس کے جسم میں کیلیں گاڑ رہے تھے اور بڑے بڑے ہتھوڑوں کی ضربوں سے …یہ کیلیں اس کے ہاتھوں اور قدموں میں اُتار رہے تھے… ایک ظالم قصائی تیز چھری لے کر…اس کے سامنے کھڑا تھا… اور پھر وہ ان کے جسم کی کھال اُتارنے لگا… یہ سب کچھ کہنا آسان ہے… مگر حقیقت میں بے حد مشکل… مگر استقامت تو استقامت ہوتی ہے…یہ نصیب ہو جائے تو انسان… آسمان و زمین سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہو جاتا ہے… ہمارے آج کے مسلمانوں کو… حضرت سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے حالات پر غیرت کھانی چاہیے کہ… ہم کتنی چھوٹی چھوٹی آزمائشوں پر…ایمان سے بھاگ جاتے ہیں ، جہاد سے بھاگ جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے ’’استقامت‘‘ کی دولت عطاء فرمائے… ’’ کلمہ طیبہ‘‘ استقامت کا سب سے بڑا نسخہ ہے… یہ عجیب نکتہ ہے کہ…کلمے پر استقامت ، کلمے کے ذریعے نصیب ہوتی ہے… کلمہ طیبہ… قول ثابت ہے… یہ دلوں کو مضبوط کرنے اور قدموں کو جمانے والا وظیفہ ہے… یہ کلمہ انسان کے دل کو…عرش سے جوڑتا ہے… اور عرش کے فیض کو دل تک پہنچاتا ہے… الحمد للہ جماعت میں… جب سے ’’ کلمہ طیبہ‘‘ کی دعوت اور مہم ایک خاص انداز سے جاری ہوئی ہے… ترقی اور استقامت کے عجیب عجیب حالات سامنے آ رہے ہیں… الحمد للہ لاکھوں مسلمان اس دعوت کی برکت سے… کلمہ طیبہ کاکثرت سے ورد کرنے والے بن گئے ہیں… وہ ایک دوسرے کو کلمہ طیبہ سناتے اور سمجھاتے ہیں…اور کلمہ طیبہ کی برکت سے…دین کے ہر کام میں ترقی اور استقامت پاتے ہیں… کلمہ طیبہ ہی سب سے بڑی نعمت… اور سب سے بنیادی اور ضروری نعمت ہے…کلمہ طیبہ کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہے… اور کلمہ طیبہ پر استقامت ہی ہر مسلمان کی سب سے بڑی فکر ہونی چاہیے… کلمہ طیبہ پر یہ استقامت… کلمہ طیبہ کے ذریعے مل سکتی ہے… اس کلمہ کو یقین سے پڑھیں… اس کو سمجھیں، اس میں غور کریں، اس کا کثرت سے وردکریں… اس کلمہ کو محسوس کریں…اس کی قوت اور نور کو محسوس کریں…اس کلمہ کی دعوت دیں، اس کلمہ کو مشرق و مغرب تک پہنچائیں… اس کلمہ کی بلندی کے لئے قتال کریں…اس کلمہ کے تقاضوں کو پورا کریں… اور اس کلمہ سے ہمیشہ کی پکی یاری لگائیں…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online