Bismillah

595

۲۹شعبان تا۵رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۶مئیتا۱جون۲۰۱۷ء

افضل،بابری،نگروٹہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 571 - Saadi kay Qalam Say - Afzal Babari Nagrota

افضل،بابری،نگروٹہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 571)

اللہ تعالیٰ ’’مجاہدین ‘‘ کو جزائے خیر عطاء فرمائے…شہداء کرام کی ’’شہادت ‘‘ قبول فرمائے… ’’نگروٹہ‘‘ میں جانبازوں نے کیسا زبردست ’’جہاد ‘‘اُٹھایا…کیسا شاندار ’’حملہ ‘‘ کیا …کیسا واضح نظر آنے والا سرجیکل سٹرائیک کیا …

اَللّٰہُ اکْبَر کَبِیْرا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلَا

واقعی کشمیری مجاہدین کسی سے کم نہیں … نگروٹہ کے شہداء کو سلام، اُن کے خوش نصیب والدین کو سلام…کمال کر دیا واقعی کمال… ایک ہی جھٹکے میں شہید افضل گورو اور کشمیر کے معصوم شہید بچوں کا کیسا جاندار انتقام لیا… یا اللہ! ان شہداء کرام کو اپنا دیدار اور اعلیٰ مقام عطاء فرما… آمین یا ارحم الراحمین…

 

6 دسمبر سے 6 دسمبر تک

6 دسمبر کی تاریخ ہمارے جذبات کو اُٹھاتی ہے، ہماری سستی کو بھگاتی ہے اور ہمارے اندر نئے عزم اور فدائی ولولے جگاتی ہے… 6 دسمبر 1992؁ء بندروں کی اولاد نے ہماری ’’بابری مسجد ‘‘ کو شہید کیا تھا… وہ اسے ہندوستان سے اسلام کے خاتمے کا آغاز قرار دے رہے تھے …اُنہیں دنوں آر ایس ایس نے مزید تین ہزار مساجد کی فہرست جاری کر دی تھی کہ اب ان کو گرایا جائے گا…مگر شہید بابری مسجد کے پتھر اورمینار جنہوں نے صدیوں سے اذان کی آواز اپنے اندر بسا رکھی تھی… ایک دَم زندہ ہو گئے… اور پھر کنیا کماری سے کپواڑہ تک مجاہدین اُٹھنے لگے… کشمیر کی تحریک انڈیا کے دارالحکومت تک جا پہنچی… اور پورا انڈیا جگہ جگہ سے عدم استحکام کا شکار ہو گیا …جی ہاں! دو واقعات نے ’’غزوۂ ہند‘‘ کو موجودہ ہندوستان میں بے حد طاقت دی… ایک بابری مسجد کی شہادت اور دوسرا بھائی محمد افضل گورو کی شہادت یہ دونوں مظلوم شہید تھے… اور مظلوم شہید اپنے ظالم قاتل پر بہت بھاری پڑتا ہے… بے حد بھاری … ہندوستان خوامخواہ پاکستان کو اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتا ہے… حالانکہ پاکستان نے تو انڈیا توڑنے کے کئی سنہری مواقع گنوا دیئے …کشمیر کی حالیہ چار ماہ کی خونی تحریک … بنگلہ دیش کی مکتی باہنی سازش سے بہت طاقتور تھی… انڈیا نے مکتی باہنی سازش کا فائدہ اُٹھا کر پاکستان کو توڑ دیا… مگر پاکستان نے اتنی سخت ، اتنی گرم اور اتنی وسیع تحریک کا بھی کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا… حقیقت یہ ہے کہ ’’انڈیا‘‘ پاکستان میں بہت زیادہ مداخلت اور دہشت گردی کرتا ہے… جبکہ پاکستان ’’انڈیا‘‘ میں بہت کم… پھر بھی انڈیا زیادہ شور مچاتا ہے… انڈیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار خود ’’انڈیا‘‘ ہے… بابری مسجد کی شہادت کو روکا جا سکتا تھا مگر انڈیا نے نہیں روکا… اب وہ بابری مسجد کے انتقام کو بھی نہیں روک سکتا … محمد افضل گورو کی شہادت کو روکا جا سکتا تھا مگر انڈیا نے نہیں روکا… اب وہ افضل گورو کے انتقام کو بھی نہیں روک سکتا… انڈیا میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ بابری مسجد اور افضل گورو کی یلغار کو روک سکے… اسی مبارک یلغار کی ایک تازہ کڑی … نگروٹہ کا حملہ تھا… آج انڈیا رو رہا ہے… جبکہ افضل گورو کی قبر اور بابری مسجد کی مٹی مسکرا رہی ہے…

تاخیر کی وجہ

’’معرکۂ نگروٹہ‘‘ کے بارے میں ’’رنگ و نور ‘‘ تاخیر سے آ رہا ہے… وجہ یہ کہ گذشتہ ہفتے جب کالم لکھا جا رہا تھا تو… یہ مبارک معرکہ جاری تھا … مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندش کی وجہ سے مکمل تفصیل آنے میں دیر ہو جاتی ہے… مگر وہاں کے مجاہدین جدید مواصلاتی نظام کو استعمال کر کے… پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیر کے حقائق اور جہادی حملوں کی تفصیلات پہنچاتے رہتے ہیں… اور حقیقی، سچی تفصیلات وہی ہوتی ہیں جو مجاہدین کی طرف سے آتی ہیں… انڈین میڈیابے چارہ تو ’’پٹھان کوٹ‘‘ اور ’’اُڑی‘‘ کے بعد حکومت کے عتاب کا شکار ہے …اس پر طرح طرح کی پابندیاں لگ چکی ہیں … وہ تو اب ہمارے ’’بیانات‘‘ اور ’’رنگ و نور‘‘  بھی نہیں سناتا… بس ’’رنگ و نور‘‘ کے چند جملے پکڑ کر … اُن پہ تبصرے کرتا رہتا ہے… حقیقی معلومات تک میڈیا کو رسائی نہیں دی جا رہی … اسے بس یہ کہا جاتا ہے کہ … انڈیا نے ایک ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کیا ہے… وہ سرجیکل سڑائیک کہیں نظر نہیں آ رہا … مگر تم اسی کی ’’بین‘‘ بجاتے رہو… چنانچہ میڈیا سرجیکل، سرجیکل کا شور ڈال دیتا ہے… پھر اسے بتایا جاتا ہے کہ … مجاہدین نے ’’نگروٹہ ‘‘ پر نظر آنے والا حملہ کیا ہے… مگر تم نے وہ دور، دور رہ کر دیکھنا اور سنانا ہے … چنانچہ میڈیا والے بے چارے اس حملے سے پانچ سو کلومیٹر دور کھڑے ہو کر موویاں اور ڈرامے بناتے رہتے ہیں… آج انڈیا بالکل پرانے زمانے والا ’’سوویت یونین ‘‘ نظر آ رہا ہے… وہاں کرنسی پر پابندی تھی، میڈیا مفلوج تھا…  سیکورٹی کے نام پر لوگوں کو ہر جگہ ستایا جا رہا تھا اور … اپنی فوجوں کی جھوٹی فتوحات کے چرچے تھے…

چنانچہ یہ مصنوعی صورتحال ’’سوویت یونین ‘‘ کو لے ڈوبی… اب یہ صورتحال انڈیا پر آئی ہے تو اس کو بھی لے ڈوبی گی…ان شاء اللہ

عرض یہ کر رہا تھا کہ… چونکہ نگروٹہ کا معرکہ جاری تھا … اور نام بھی ہمارے لگناتھا تو اس لئے ضروری تھا کہ …جب مکمل خبریں آ جائیں گی تب اس موضوع پر لکھا جائے گا… بس اسی وجہ سے تاخیر ہو گئی…

انڈیا پھنس گیا

نگروٹہ کی اتنی منظم ، مضبوط اور مستحکم کارروائی کو دیکھ کر پہلا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ… اس کارروائی کے لئے انڈین کرنسی کہاں سے آئی… سامان کیسے خریدا گیا؟… اس سوال کا جواب اس لئے بھی اہم ہے کہ… ’’نگروٹہ‘‘ کی فوجی چھاؤنی کوئی معمولی ٹارگٹ اور عام ہدف نہیں تھا… یہ انڈین فوج کی اہم ترین چھاؤنی ہے اور اس کی سیکورٹی فول پروف ہے… اور اسی چھاؤنی میں … جموں ، کشمیر اور پوری ’’ایل، او، سی‘‘ پر فوجی کارروائیوں کی پلاننگ تیار کی جاتی ہے… ایک ایسی چھاؤنی جسے انڈین آرمی کی شمالی کمان کا ’’دل‘‘ سمجھا جاتا ہے … اس پر حملہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے… اس چھاؤنی کے گرد تین حفاظتی حصار تھے… ان حفاظتی حصاروں کو توڑنے یا خریدنے پر کتنی رقم خرچ ہو سکتی ہے؟…

چھاؤنی کے اندر کا نقشہ حاصل کرنا… یہ بھی آسان اور سستا کام نہیں ہے… چھاؤنی کے راستوں اور اندر کے اہداف کی فوٹیج بنانا یا بنوانا یہ بھی کوئی معمولی کام نہیں ہے… کوئی ایسا آدمی جو پہلے اس علاقے میں نہ آیا ہو وہ تو چند قدم چل کر ہی پکڑا اور مارا جا سکتا ہے… اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے افراد استعمال ہوں جو بار بار اس علاقے میں آ چکے ہوں… اور پھر ایک مضبوط حملے کے لئے…اندر کی مدد بھی ضروری ہوتی ہے … افضل گورو شہید سکواڈ … کشمیری مجاہدین کا قابل فخر عسکری بازو ہے…

انہوں نے یہ سارے مرحلے ان حالات میں طے کئے کہ جب …انڈیا میں ہر جیب خالی ہے … اور ہر شخص کرنسی کے لئے پریشان ہے… مگر اندر کے ذرائع بتاتے ہیں کہ …مودی حکومت نے کرنسی پر پابندی لگا کر…خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے… اور وہ خود اپنے جال میں پھنس گئی ہے… دراصل صنعتکاروں اور ’’ منی چینجرز‘‘ کو پہلے ہی اس پابندی کا علم ہو گیا تھا اور انہوں نے بڑی مقدار میں چھوٹے نوٹ حاصل کر لئے تھے… یہ نوٹ، ڈالر، پونڈ اور یورو کے عوض آسانی سے ملتے ہیں… اور اب مجاہدین کے لئے کام کرنے والے افراد بھی ’’ڈالر ‘‘ زیادہ پسند کرتے ہیں… اس طرح کشمیری مجاہدین ،ماؤ نواز حریت پسند اور خالصتان کے فریڈم فائٹر… کسی بھی طرح کی مالی مشکلات کا شکار نہیں ہوئے … بلکہ اُن کا کام مزید آسان ہو گیا ہے… جبکہ انڈین عوام انتہائی سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں… مودی جیسے بے عقل، دہشت گرد کو اپنا حکمران بنانے والوں کو یہی انجام ملنا تھا جو انہیں مل رہا ہے…

دوسرا رُخ

لوگ سمجھ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بہتر ہو رہے ہیں … وہاں اب ہڑتال ، کرفیو، سنگ بازی اور احتجاج میں کمی آئی ہے… حالانکہ ایسا نہیں ہے… اہل کشمیر کی اس طویل قربانی نے … کشمیر کے عسکری جہاد کو مضبوط کر دیا ہے… بہت سے نوجوان اور پڑھے لکھے افراد تحریک میں شامل ہو چکے ہیں… اور وہ اس تحریک کو اپنی آزادی تک جاری رکھنے کے لئے پُر عزم ہیں… نگروٹہ کا حملہ اسی عزم کا ایک اظہار ہے … اندرونی ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں درجنوں بھارتی فوجی مارے گئے…جن میں سے سات کا اعتراف خود بھارتی حکومت نے بھی کیا ہے…بہرحال یہ کارروائی…جہادکشمیر کو ان شاء اللہ ایک نئی طاقت فراہم کرے گی… پانچ مجاہدین اتنا بڑا حملہ کریں… تین شہید ہو جائیں … اور باقی دو اگلے ہدف کے قریب جا بیٹھیں …یہ سب کچھ سوچنا آسان ہے مگر کرنا بہت مشکل ہے… اور جو لوگ اتنی عظیم اور مشکل کارروائیاں کر لیتے ہوں… اُن کی فتح میں کون شک کر سکتا ہے؟… اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ اور تمام مجاہدین کو اپنی رحمت، مغفرت، نصرت … اور اعانت عطاء فرمائے … آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online