Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

اللّٰہُ الْقَرِیْبُ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 572 - Saadi kay Qalam Say - Allah ul Qareeb

اللّٰہُ الْقَرِیْبُ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 572)

اللہ تعالیٰ ’’قریب‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ میرے ’’قریب‘‘ ہے…اللہ تعالیٰ آپ کے ’’قریب‘‘ ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کے ’’قریب ‘‘ہے…ہماری روح سے بھی زیادہ ’’قریب‘‘ ہماری جان سے بھی زیادہ ’’قریب‘‘… پھر کیوں نہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کے ’’قریب ‘‘ ہو جائیں… قریب، قریب، بہت قریب… ہم اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ کو محسوس کریں… ہم اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ کا فائدہ اُٹھائیں… ہم اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ کی حلاوت پائیں… اور ہم اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ پر فدا ہو جائیں، ’’قربان‘‘ ہو جائیں…

اَللّٰھُمَّ یَا قَرِیْبُ ، یَا قَرِیْبُ، یَا قَرِیْبُ قَرِّبْنَا اِلَیْکَ یَا قَرِیْبُ

میلاد کا تحفہ

ہم عید میلاد النبی نہیں مناتے… کیونکہ حضرات صحابہ کرام نے نہیں منائی… حالانکہ وہ سچے عاشق تھے، پکے عاشق تھے…عجیب بات ہے کہ آقا حضرت محمد ﷺ کے لئے پورے سال میں صرف ’’ایک دن‘‘ ؟ … نہیں ہرگز نہیں… حضرت آقا مدنی ﷺ سال کے تین سو چونسٹھ دن … ہمارے نبی ، ہمارے رسول ، ہمارے آقا ، ہمارے محبوب، ہمارے رہبر اور ہمارے قائد ہیں…

ﷺ… ﷺ… ﷺ

حضرت آقا مدنیﷺ کی محنت یہ تھی کہ… اللہ تعالیٰ کے بندوں کو براہ راست اللہ تعالیٰ سے جوڑ دیں… مکہ والے اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے… مگر دور دور سے … اور درمیان میں طرح طرح کے واسطے رکھ کر… حضرت آقا مدنی ﷺ نے سمجھایا کہ ایسے ماننے کا کیا فائدہ… اللہ تعالیٰ قریب ہے… شہ رَگ سے بھی زیادہ قریب … پھر درمیان میں بتوں کو کیوں لاتے ہو؟… خود اللہ تعالیٰ کو کیوں نہیں پکارتے…’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہہ دو… اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں … پھر تم کامیاب ہو جاؤ گے… مگر مشرکوں کی عقل میں یہ بات نہیں آئی… کیونکہ وہ ’’قریب‘‘ سے دور ہو چکے تھے… اور دور والوں سے قریب ہو چکے تھے … بت اُن سے دور دور تھے مگر وہ اُن کو قریب مانتے تھے …حالانکہ ’’ بت ‘‘ کسی حال میں بھی اُن کے ساتھ نہیں ہوتے تھے … بس کبھی کبھار تھوڑی دیر اُن کے سامنے ہوتے… بے جان، بے اختیار، بے حرکت ، بے حِس… مگر اللہ تعالیٰ ہر حال میں بندے کے ساتھ ہے… بندے کے پاس ہے… بندہ ہر حال میں اس کے سامنے ہے … وہی بندے کو کھلاتا ہے، وہی بندے کو پلاتا ہے … وہی بندے کو سانس لینے کے لئے ہوا دیتا ہے… پھر بھی ’’بندہ ‘‘ اس کو چھوڑ کر…دور دور والوں کو سجدے کرتا رہے… یہ شرک ہے، یہ کفر ہے… یہ ناشکری ہے… یہ ناقابل معافی جرم ہے… یہ ذلت ہے…

حضرت آقا مدنی ﷺ نے ہمیں… اس ذلت سے نکالنے کی محنت فرمائی… ارے ’’ قریب  والے ‘‘ کے ’’قریب‘‘ ہو جاؤ… اللہ وحدہ لا شریک لہ کے ’’قریب ‘‘ ہو جاؤ… اپنے ’’ اللہ ‘‘ کو پالو… اپنے ’’ اللہ ‘‘ کو منا لو… اپنے ’’ اللہ ‘‘ کو پہچان لو… اپنے ’’ اللہ ‘‘ سے فائدہ اُٹھا لو… اپنے ’’ اللہ ‘‘ کے قرب کو محسوس کرو… بس ایک اللہ … اَللّٰہُ اَحَد … صرف ایک اللہ … اَللّٰہُ الصَّمَدْ… بے مثال اللہ…

لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ… وَلَمْ یَکُن لَّہُ کُفُوًا اَحَدْ…

تم ہر جگہ اللہ تعالیٰ کو پا سکتے ہو… تم ہر جگہ اللہ تعالیٰ کو منا سکتے ہو… تم ہر وقت اللہ تعالیٰ سے مانگ سکتے ہو… تم ہر جگہ، ہر وقت اللہ تعالیٰ سے پا سکتے ہو… آ جاؤ … اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ کی قدر کرو… ’’ اِحْفَظِ اللّٰہَ ‘‘… تب تم اسے ہر جگہ اپنے ساتھ پاؤ گے …

تَجِدْہُ تُجَاھَکَ…

ہم نے نہ میلاد کے موقع پر دیگیں چڑھائیں … نہ گلی بازار سجائے… نہ کوئی ایک روزہ جشن منایا… ہمیں اپنے آقاﷺ کے میلاد مبارک کی خوشی الحمد للہ… ہر روز اور ہر وقت نصیب ہے … ہمارے نزدیک ہر دن ’’ جشن میلاد ‘‘ ہے… کیونکہ حضرت آقا مدنی ﷺ کے احسانات بے شمار ہیں… حضرت آقا مدنی ﷺ نے ہمیں ’’ اللہ وحدہ لا شریک لہ ‘‘ سے جوڑا… ہم تک اللہ تعالیٰ کا کلام پہنچایا… ہم تک اللہ تعالیٰ کا دین پہنچایا… دین زندگی کے ہر سانس پر نافذ ہوتا ہے تو… ہمارے ہر سانس پر حضرت آقا مدنیﷺ کا ’’ احسان ‘‘ ہے…

ﷺ… ﷺ … ﷺ

اللہ تعالیٰ کا ’’قرب‘‘ ہم سب کو محسوس ہو جائے، ہم سب کی سمجھ میں آ جائے … اور ہم سب کو اس کی حلاوت نصیب ہو جائے… یہ ’’ میلاد ‘‘ کا بڑا تحفہ ہے… بندے اللہ تعالیٰ سے دور دور بھٹک رہے تھے… حضرت آقا مدنی ﷺ تشریف لائے تو… بندوں کو ’’اللہ تعالیٰ‘‘ کے ’’قرب ‘‘ کا راستہ دکھایا… ہاں بے شک جسے ’’ اللہ تعالیٰ ‘‘ مل جائے اسے سب کچھ مل جاتا ہے… اور جو اللہ تعالیٰ سے کٹ جائے اسے کچھ بھی نہیں ملتا…

مستجاب الدعوات کی تلاش

کئی لوگوں کی آرزو ہوتی ہے کہ… انہیں کوئی ’’مستجاب الدعوات ‘‘ بزرگ مل جائیں… ایسے بزرگ جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں … تاکہ وہ اُن سے بہت سی دعائیں کرا سکیں … ایسے ہی ایک شخص نے …ایک فقیر سے کہا… کیا آپ کسی ’’ مستجاب الدعوات ‘‘ بزرگ کو جانتے ہیں؟… فقیر نے کہا… نہیں میں کسی ایسے ’’ مستجاب الدعوات ‘‘ بزرگ کو نہیں جانتا… ہاں ’’ مجیب الدعوات‘‘ کو جانتا ہوں… ’’مجیب الدعوات‘‘ یعنی دعائیں قبول فرمانے والا… وہ بہت قریب ہے، بہت قریب… مجھ سے بھی  بہت قریب… اور تم سے بھی بہت قریب… وہ ہر کسی کی سننے والا… وہ ہر کسی کو عطاء فرمانے والا … کیوں دور دور لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہو کہ وہ تمہارے لئے دعاء کریں… انہوں نے جس سے مانگنا ہے … وہ تو تمہارے بھی اسی قدر قریب جتنا اُن کے قریب ہے… تو پھر خود کیوں نہیں مانگ لیتے…

وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ

تمہارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ… مجھ سے مانگو میں دوں گا…

آخر تم نے خود کو اپنے محبوب رب سے اتنا ’’ دور‘‘ کیوں سمجھ رکھا ہے؟… کوئی نیک ہو یا گناہگار… وہ سب کے ’’قریب ‘‘ ہے… سب کے ’’قریب‘‘ … بہت قریب ، بے حد قریب… گناہگار ہو تو معافی مانگ لو… وہ معاف کرنے سے نہیں تھکتا، نہیں اُکتاتا… مانگنا نہیں آتا تو اسی سے مانگنے کا طریقہ بھی مانگ لو… مگر یہ کیا بدگمانی کہ وہ تمہاری نہیں سنتا اور دوسروں کی سنتا ہے… توبہ توبہ ایسے محبوب، ایسے کریم ، ایسے وہاب ’’رب ‘‘ سے بدگمانی… اپنے گمان کو اچھا کرو اور خود اس سے مانگو… اسے مانگنے والے اچھے لگتے ہیں … پیارے لگتے ہیں… ہاں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے بھی دعاء کرایا کرو… مجاہدین اور اولیاء سے بھی دعاء کرایا کرو… مگر تمہاری اپنی دعاء تمہیں اپنے رب کے قریب کر دے گی… بہت قریب، بہت قریب… مانگو، مانگو دل بھر کر مانگو، دل کھول کر مانگو، دل لگا کر مانگو، دل بِچھا کر مانگو، دل سجا کر مانگو… دل کے یقین سے مانگو… اور اپنے رب سے اچھا گمان کرو ، اچھا گمان… وہ فرماتا ہے … مجھ سے جیسا گمان کرو گے میں تمہارے ساتھ ویسا معاملہ فرماؤں گا…

اللہ والوں کی تلاش

کئی لوگ کہتے ہیں… کاش کوئی ’’اللہ والا ‘‘ مل جائے… اور وہ ہمیں ’’اللہ تعالیٰ ‘‘ تک پہنچا دے… ایسے لوگوں سے پوچھا جائے کہ…وہ ’’کس والے ‘‘ ہیں… ہر مومن ’’ اللہ والا‘‘ ہوتا ہے… ہر مسلمان ’’ اللہ والا‘‘ ہوتا ہے… جب ’’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کا دل کی تصدیق کے ساتھ زبان سے اقرار کر لیا تو … ’’ اللہ والا‘‘ بن گیا … اب خود کو ’’ اللہ والا ‘‘ محسوس کرو گے تو ’’ اللہ والے ‘‘ بنتے چلے جاؤ گے … تم خود کو ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ سے دور دور کیوں سمجھنے لگے ہو؟ اللہ تعالیٰ کی کسی سے رشتہ داری نہیں… اللہ تعالیٰ کو کسی قوم اور قبیلے سے خاص تعلق نہیں … اس کے سب بندے بس اسی کے بندے ہیں…

دوسری اور اصل بات یہ ہے کہ… تم ’’ اللہ تعالیٰ ‘‘ کو پانے کا پکا عزم کر لو… پھر اللہ تعالیٰ تمہاری رہنمائی کے لئے… خود تمہیں اپنے مقرب اولیاء تک پہنچا دے گا… یا اولیاء کو تمہارے دروازے تک پہنچا دے گا…تم پہلے کسی مدرسے، ادارے ، سکول یا کالج میں داخلہ لیتے ہو … پھر وہ ’’ادارہ ‘‘ خود تمہارے لئے استاذ کا بندوبست کر دیتا ہے… تلاش کی غلطی نے بڑے بڑے عقلمند کہلانے والوں کو گمراہ کر دیا… غلطی نہ کرو… اللہ کی تلاش کرو، اللہ والوں کی نہیں… جب تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کو پانے کا جذبہ سچا ہو گا تو… اب اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا راستہ عطاء فرما دے گا… وہ تمہیں ’’اللہ والوں‘‘ تک پہنچا دے گا… وہ تمہیں ’’اللہ والا ‘‘ بھی بنا دے گا… وہ تمہیں دھوکے بازوں سے بھی بچا لے گا… اور وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی شاہراہ پر چلا دے گا…

اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یُخْرِجُھُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلٰی النُّورْ

بس آج سے ’’اللہ والوں‘‘ کی تلاش چھوڑ دو … اور ’’ اللہ تعالیٰ ‘‘ کی تلاش شروع کر دو…تم ہر جگہ، ہر عمل اور ہر لمحہ میں اللہ تعالیٰ کو تلاش کرو… اذان میں بھی، نماز میں بھی، جہاد میں بھی… تسبیح میں بھی ، ذکر میں بھی… درود و سلام میں بھی… رکوع میں بھی،سجدے میں بھی …اور اپنی سانسوں میں بھی…

یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ

تب تمہیں ہر جگہ اللہ تعالیٰ کا قرب ملے گا، ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی محبت ملے گی، ہر جگہ اللہ تعالیٰ کا نور محسوس ہو گا… تم بندے ہو… تم نے اپنے حقیقی مالک کو ڈھونڈنا ہے… اسے پانا ہے… اسے منانا ہے…اُسی سے اپنا ہر مسئلہ حل کرانا ہے… اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے… جب تم اسے پانے کی سچی طلب اپنے اندر لے آؤ گے تو وہ تمہیں … اپنے مقرب بندوں تک بھی پہنچا دے گا… اور تمہاری رہنمائی کا انتظام بھی فرما دے گا… یا اللہ، یا قریب، یا قریب، یا قریب… ہمیں اپنا ’’قرب ‘‘ عطاء فرما …

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online