Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

موتی پا لیجئے (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 443 - Saadi kay Qalam Say - moti pa lijye

موتی پا لیجئے

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 443)

اﷲ تعالیٰ … تمام مجاہدین اسلام کو’’سورۂ فاتحہ‘‘ کی قوت عطاء فرمائے

بے شک: سورہ فاتحہ قوت  و طاقت کا خزانہ ہے

اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَُ

اﷲ تعالیٰ…تمام اسیران اسلام کو’’سورہ فاتحہ‘‘ کی وہ تأثیر عطاء فرمائے جس سے ہر بند چیزکُھل جاتی ہے… ہر قید،ہرہتھکڑی، ہر تالا کھل جاتا ہے

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اﷲ تعالیٰ… تمام بیماروں کو’’سورہ فاتحہ‘‘ کی ’’شفائ‘‘ عطاء فرمائے

بے شک: سورہ فاتحہ ہر بیماری کا علاج ہے… جسمانی بیماری ہو یاروحانی… کوئی زہر ہو یا پاگل پن… کوئی جادوہو یا نظر… کوئی دردہویا وبا…

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ

اﷲ تعالیٰ… مالی تنگی میں مبتلا ہر مسلمان کو سورہ فاتحہ کے’’رزق حلال‘‘ والے تحفے عطاء فرمائے… بے شک سورہ فاتحہ قرضہ سمیت ہر مالی تنگی کا بہترین علاج ہے

مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ

اﷲ تعالیٰ… ہر گناہ گار،گمراہ، مایوس اور بھٹکے ہوئے مسلمان کو سورہ فاتحہ کی ہدایت والا نور اور فیض عطاء فرمائے… بے شک سورہ فاتحہ ہر طرح کی’’ہدایت‘‘ اور روشنی سے لبریز ہے…

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ، صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ

 سچی بات یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے فضائل، مناقب اور خواص کو کسی ایک مضمون یا کتاب میں سمیٹنا ناممکن ہے…  بالکل ناممکن… بس ایک مثال لے لیجئے

ایک شخص کے پاس اﷲ تعالیٰ کے فضل سے ہر طرح کا وافر سامان موجود ہو… گندم کی ہزاروں بوریاں، گوشت کے لئے بکریوں کے ریوڑ… پہننے کے لئے کپڑوں کے انبار… علاج اور صحت کیلئے ہزاروں غذائیں اور دوائیں… خدمت کے لئے سینکڑوں نوکر، غلام اور خادم… رہنمائی اور تعلیم کے لئے بہترین علماء اور اساتذہ… تفریح کے لئے ہر طرح کا سامان…

مگر اچانک اس شخص کو بہت دور کا اور بہت لمبا سفرپیش آگیا… اور سفر بھی سالہا سال کا… اس عقلمند شخص نے سوچا کہ اتنا سامان ساتھ تو نہیں اٹھا سکتا… چنانچہ اس نے سارا سامان اور ساری جائیداد… سونے کے بدلے بیچ دی… اب اس کے پاس ایک من سونا ہو گیا… مگر اسے یہ بھی بوجھ لگتا ہے تو اس نے سارا سونا چند قیمتی موتیوں کے بدلے بیچ دیا… ایسے موتی جو ہر جگہ اور ہر ملک میں بیچے جا سکتے ہیں… اب یہ شخص ہلکا پھلکا ہو گیا، اس کی جیب میں چند موتی ہیں… مگر ان چند موتیوں میں… گندم اورآٹے کے ڈھیر بھی موجود، گوشت والے جانور بھی موجود، پہننے کے  کپڑے بھی موجود… یہ جہاں بھی جائے گا موتی بیچ کر جو چاہے خریدلے گا… جیسے آج کل کے مالدار لوگ کروڑوں روپے اٹھانے کی بجائے ایک کریڈٹ کارڈ جیب میں ڈال لیتے ہیں… بس اسی سے’’سورہ فاتحہ‘‘ کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں… اگرچہ مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا … سورہ فاتحہ کی سات آیات میں… پوراقرآن مجید موجود ہے… سورہ فاتحہ کی سات آیات میں… سات آسمانوں اور سات زمینوں کے ہدایت والے، علم والے، روشنی والے، رزق والے، حفاظت والے اور برکت والے خزانے موجود ہیں… سورہ فاتحہ اگر آپ کے پاس ہے تو آپ نہ کسی بادشاہ کے محتاج، نہ کسی فقیر کے… سورہ فاتحہ آپ کے ساتھ ہے تو نہ آپ کو کسی انسان کی محتاجی، نہ کسی جن کی… آپ سورہ فاتحہ کا انتہائی قیمتی موتی ساتھ لے لیں… یہ وہ موتی ہے جسے بیچنا بھی نہیں پڑتا بس دکھانا پڑتا ہے… اسے دکھاتے جائیں اور دنیا کے سارے مسئلے حل کراتے جائیں… یہ موتی آپ کے پاس ہی رہے گا… اورپھر یہی موتی دکھا کر آخرت کے مسائل حل کراتے جائیں… ایک بار کسی دوسرے ملک کا سفر تھا… واپسی کے وقت میزبانوں نے بطور اکرام ایک شخص کو ساتھ کر دیا… ہم جب پہلے گیٹ پر پہنچے تو تلاشی لینے والے آگے بڑھے، اس شخص  نے جیب میں دو انگلیاں ڈال کر ایک کارڈ کو تھوڑا سا اونچا کیا… تلاشی لینے والے فوراً باادب ہو گئے اور راستہ چھوڑدیا… پھر سامان کی تلاشی کے وقت بھی یہی منظر… حتیٰ کہ جہاز کی طرف جانے والے آخری دروازے پر بھی یہی  ہوا… یہ زندگی کا پہلا ایسا سفرتھا جس میں نہ سامان کی تلاشی ہوئی اور نہ جسم کی… ایک کارڈ میںاتنی طاقت تھی… اندازہ لگائیںکہ قرآن پاک کی سب سے عظیم اور افضل سورت کی طاقت کتنی ہوگی… اگر ہم سورہ فاتحہ کو پالیں، اور سورہ فاتحہ کاکارڈ ہمارے دل میں ہو، ہماری آنکھوں میں ہو اور ہماری جیب میں ہو تو… ہر منزل کتنی آسان ہو جائے…

کراچی میںقیام کے دوران کبھی کبھارلانچ کرائے پر لیکر سمندر میں مچھلیاں پکڑنے چلے جاتے تھے… الحمدللہ اس حلال اور پرکشش تفریح میں کئی بڑے مجاہدین اور اولیاء کرام کی رفاقت نصیب ہوئی… جہاد کے ابتدائی رفقاء کمانڈر عبدالرشید شہیدؒ اور بھائی اختر شہیدؒ… اور پھر برادرم حافظ کمانڈر سجاد شہیدؒ… بندہ ان سب کو سمندر پر لے گیا اور خوب خوشگوار مجالس رہیں… حتیٰ کہ حضرت مولانا جلال الدین حقانی مدظلہ العالی بھی ایک بار ساتھ تشریف لے گئے اور انہوں نے خود چندمچھلیاں شکار کیں… سمندر کا یہ سفر بار بار ہوا… اور اس میں سورہ فاتحہ کے عجیب انوارات دیکھے… ایک طالب علم ساتھی جب بھی ڈور پھینکتے مچھلی آجاتی… انہوںنے بتایا کہ ڈور پھینکتے وقت وہ سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں… اس واقعہ کے بعدسمندری سفر کے ہر مرحلے میں سورہ فاتحہ کام آتی… سمندر میں کبھی موسم بہت خراب ہو جاتا  ہے سخت اندھیرا اور موجوں کے تھپیڑے…مگر الحمدللہ سورہ فاتحہ کی تلاوت سے ہر طرح کا طوفانی موسم کھل جاتا ہے … اور خوشگوار ہو جاتا ہے… آپ دیکھیں کہ ایک مسلمان کو سورہ فاتحہ سے جوڑنے کے لئے… اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے انتظامات فرما دیئے ہیں… پہلا تو یہ کہ قرآنی ترتیب میں… سورہ  فاتحہ کو سب سے پہلے رکھا گیا… اب قرآن مجیدکھولتے ہی سورہ فاتحہ سب سے پہلے سامنے آجاتی ہے… حالانکہ نزول قرآن کی ترتیب میں سورہ فاتحہ سب سے پہلے نازل نہیں ہوئی… پھر اسلام کے سب سے اہم فریضے نماز میںسورہ فاتحہ کو ہر رکعت میں لازمی قرار دے دیا گیا… آپ فرض نماز ادا کریں یا سنت اور وتر… ہر رکعت میں سورہ فاتحہ موجود ہے… پھر اس سورت کے الفاظ بھی  بے حد آسان رکھے گئے کہ انتہائی آسانی کے ساتھ اسے یاد کیا جا سکتا ہے… اس لئے کسی نے یہ خوب دعوت چلائی کہ… اپنے بچوں کو سورہ فاتحہ خود یادکراؤ… تاکہ یہ جب بھی سورہ فاتحہ پڑھیں تو تمہیں اجرو ثواب ملے…

اورایک مسلمان بچہ… جوان اور بوڑھا ہونے تک لاکھوں بار سورہ فاتحہ پڑھ لیتا ہے… اس لئے کوشش کرو کہ اس کی ساری زندگی کی ’’فاتحہ‘‘ تمہارے نامہ اعمال کو وزنی کرتی رہے… مگر اس سعادت کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ خود آپ کو’’سورہ فاتحہ‘‘ آتی ہو…کیا ہی اچھا ہوگا کہ آپ کسی عالم یا قاری کو اپنی’’سورہ فاتحہ‘‘ سنا دیں… وہ امریکی خلاباز جس نے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا چند ماہ پہلے مر گیا…میں نے خبر پڑھی اور اگلی رات آسمان پر دیکھا کہ چاند اپنی جگہ موجودتھا… جبکہ وہ خلا بازاکیلا قبر میں جاپڑا… مگر جو مسلمان سورہ فاتحہ کو پالیتا ہے سورہ فاتحہ اس کے ساتھ قبر  اور عالم برزخ میں جاتی ہے… ہر مسلمان کو چاہئے کہ سورہ فاتحہ کا ترجمہ اچھی طرح یاد کر لے… اور اسے دل میں بٹھائے اور اس میں جو عقیدہ بیان کیا گیا ہے… اس عقیدے کو اپنائے… ہم مسلمان جب سے قرآن اور سورہ فاتحہ سے دور ہوئے ہمارے اندر طرح طرح کے شرکیہ عقائد آگئے ہیں… بھائیو! اور  بہنو، شرک سب سے بڑا ظلم ہے، شرک سب سے بڑا گناہ ہے… شرک سب سے بڑی نجاست اور گندگی ہے… اور مشرک کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کی ناکامی ہے… سورہ فاتحہ کی ساتوں آیات شرک کو توڑتی ہیں… اور بندے کو صرف اللہ تعالیٰ سے جوڑتی ہیں…تعریف کے لائق صرف اللہ، شکر کے لائق صرف اللہ، رب العالمین صرف اللہ… رحمتوں کا مالک صرف اللہ… قیامت کا مالک صرف اللہ… عبادت  کے لائق صرف اللہ… اور مدد مانگنے کے لائق صرف اللہ…

ہمارے جدت پسندوں نے بندگی نما تعریف و ثنا کا حقدار ترقی اور ٹیکنالوجی کو قرار دے دیا ہے…

انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون

ہم نے آج کے نقلی طاقتور کفار کو اس قابل سمجھ لیا ہے کہ ہم اُن کی غلامی اختیار کریں اور اُن سے مدد مانگیں… بڑی بے حیائی سے کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں اکیلے تو نہیں رہ سکتے… ہم ان کافروں کی مدد کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے…اور پھر ہمارے حکمرانوں کے ماتھے ان طاغوتوں کے سامنے جھک جاتے ہیں

انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون

شرک کی اس بیماری نے ہمارے حکمرانوں… اورہمارے مالدار طبقے کو ایسا گھیر لیا کہ وہ ہر وقت ستاروں، پتھروں، نجومیوں اور پیشن گوئیوں کے تھپیڑے کھاتے رہتے ہیں… ہر حکمران کے پاس طرح طرح کے عامل ہیں… اور ان عاملوں میں سے کئی سی آئی اے، موساد اور را کے باقاعدہ ایجنٹ ہیں… ہمارے حکمران جب سورہ فاتحہ میں موجود:

اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَُ

کی طاقت سے محروم ہوئے تو پھر… کٹی ہوئی پتنگ کی طرح کہیں کے نہ رہے… اب جو بھی اُن کو اچھی قسمت، اچھی صحت اور ہمیشہ کے اقتدار کی لالچ دے دے یہ اس کے ہاتھوں… اپنا ایمان اور اپنی غیرت سب لٹوا بیٹھتے ہیں… مسلمانو! اللہ کے لئے سورہ فاتحہ کو سمجھو، سورہ فاتحہ کو سیکھو اور سورہ فاتحہ کو حاصل کرو… کم از کم ایک بار تو مکمل اخلاص کے ساتھ وضو کر کے دو رکعت ادا کریں… اور پھر دل کی توجہ اور گہرائی سے دعاء کریں کہ:

یا اللہ! … سورہ فاتحہ سکھا دیجئے، سورہ فاتحہ عطاء فرما دیجئے، سورہ فاتحہ پر یقین نصیب فرمادیجئے، سورہ فاتحہ کا نور میرے دل میں اتار دیجئے…

بس دعاء میں سورہ فاتحہ پڑھتے جائیں اور عاجزی، احتیاج اور آنسوؤں کے ساتھ سورہ فاتحہ مانگتے  جائیں… یا اللہ سورہ فاتحہ کی برکت سے سورہ فاتحہ عطاء فرما دیجئے

آمین یا ارحم الراحمین…

جہاں تک سورہ فاتحہ کے مجربات کا تعلق ہے تو حسب وعدہ ان میں سے چند پیش خدمت ہیں…

۱۔ گھر میں داخل ہو کر ایک بار سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھ لیں تو فقر و فاقہ دور ہو جاتا ہے اور گھر میں برکت آجاتی ہے

۲۔ ہر بیماری کے لئے چالیس بار پڑھیں اور پانی پر دم کر کے پی لیں

۳۔ اسیری سے رہائی کے لئے ایک سو اکیس بار پڑھیں

۴۔ رزق، قرضہ کی ادائیگی اور حلال وافر مال کے لئے تین سو چونسٹھ بار پڑھیں… اور ساتھ اتنی ہی تعداد میں سورہ اخلاص اور اتنی ہی تعداد میں درود شریف

۵۔ فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان چالیس دن تک روز چالیس بار یا اکتالیس بار پڑھنا ہر بیماری کا علاج ہے،خواہ کتنی بڑی بیماری ہو

۶۔اگر اولاد نافرمان ہو، خاوند نشے اور گناہوں کا عادی ہو تو پانی پر سورہ فاتحہ پڑھیں جب’ ’اِھْدِنَا‘‘ کے لفظ پر پہنچیں تو اسے ستر بار پڑھ کر سورت مکمل کریں اورپانی اولاد یا خاوندکوپلادیں

۷۔ نسیان یعنی بھولنے کی بیماری، عقل کی خرابی، سستی وغیرہ  دورکرنے کے لئے کسی برتن پر سورہ فاتحہ لکھیں، پھر اسے بارش کے پانی سے دھو لیں پھر اس پر سات بار سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کر کے پی لیں…

۸۔ سورہ فاتحہ کا ایک خاص الخاص ورد… ’’الغزالی‘‘کہلاتاہے…اہل علم نے اس ورد کے فضائل پر اشعار اور نظمیں لکھی ہیں… یہ ورد ہر طرح کی حاجات،ہر طرح کی پریشانیوں اورہر طرح کی مصیبتوں سے چھٹکارے کا ذریعہ ہے…

کچھ عرصہ پابندی سے کریں تو انسان نہ کسی کامحتاج رہتا ہے اور نہ کوئی اسے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے، اور قرضہ کی ادائیگی کے لئے بھی مجرب ہے… اس میں سورہ فاتحہ فجر کے بعد تیس بار، ظہر کے بار پچیس بار، عصر کے بعد بیس بار، مغرب کے بعد پندرہ بار اور عشاء کے بعد دس بار پڑھیں… اور مزید دس بار کسی بھی وقت پڑھ لیں…

۹۔ کوئی عزیز سفر پر گیا ہو اوراس کی بخیر واپسی مطلوب ہو تو اکتالیس بارسورہ فاتحہ پڑھ کر دعا کریں…

۱۰۔ سانپ، بچھو نے کاٹا ہو تو سات بار سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کریں، کسی کی صلح کرانے کے لئے جارہے ہوں تو چند بار پڑھ لیں، صلح آسان ہو جائے گی… کسی بھی حاجت کے لئے پڑھنا ہو توایک ہزار بار یاایک ہزار گیارہ بار پڑھ لیں… ویسے روزآنہ ایک ہزار بارکا وردرکھنا عجیب تأثیرات رکھتا ہے…

لا الہ الااللّٰہ،لا الہ الااللّٰہ،لا الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ…

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک سلم تسلیماکثیراًکثیرا

لا الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online