Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

ایک روپے کی طاقت (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 597 - Saadi kay Qalam Say - Aik Rupy ki Taqat

ایک روپے کی طاقت

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 597)

اللہ تعالیٰ ’’ایمان والوں‘‘ کا مددگار ہے… اُن کا وہ ’’یار ‘‘ ہے…

اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوا

سب سے کم چندہ

رمضان المبارک میںمسلمان ’’سخی‘‘ ہو جاتے ہیں … ہونا بھی چاہیے… ہر مسلمان کو ہمیشہ ’’سخی‘‘ ہونا چاہیے کیونکہ آسمانوں سے زمین پر جو رحمتیں، دعائیں اور برکتیں اُترتی ہیں… ان کا زیادہ حصہ ’’سخی مسلمانوں‘‘ کو ملتا ہے…

 

سخی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، جنت کے قریب ہوتا ہے… اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’سخی ‘‘ بنائے… رمضان المبارک میں زیادہ سخاوت یہ حضرت آقا مدنی ﷺ کی سنت ہے… آپ ﷺ ہمیشہ سخی تھے مگر رمضان المبارک میں بہت زیادہ سخی… اسی سنت کی پیروی میں الحمد للہ مسلمان بھی رمضان المبارک میں زیادہ سخی ہو جاتے ہیں… ہر جگہ دسترخوان سجتے ہیں، زکوٰۃ تقسیم ہوتی ہے… غذائی مواد کے پیکٹ بٹتے ہیں… اور دین کے کاموں پر خوب خرچے ہوتے ہیں… الحمد للہ، الحمد للہ… ہر انسان کو اپنے مال سے محبت ہوتی ہے… اس لئے وہ چاہتا ہے کہ اس کا مال ایسی جگہ لگے… جہاں اجر اور آخرت کا نفع زیادہ بنے …قرآن و حدیث میں غور کیا جائے تو ’’ جہاد فی سبیل اللہ‘‘ پر مال لگانے کی فضیلت سب سے زیادہ ہے… جہاد میں مال لگانے سے ایک تو اپنا فرض بھی ادا ہوتا ہے… کیونکہ جان و مال سے جہاد کرنا مسلمانوں پر فرض ہے… اور پھر جہاد پر مال لگانا بہت بڑا صدقہ جاریہ بھی ہے… اور جہاد پر مال لگانا کعبہ شریف کی خدمت پر مال لگانے سے بھی افضل ہے… آپ جانتے ہیں کہ کعبہ شریف اور حرم شریف میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر ایک لاکھ کے برابر ہے… جبکہ جہاد میں خرچ کرنا اس سے بھی افضل ہے… اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان اپنا مال زیادہ سے زیادہ جہاد فی سبیل اللہ پر لگاتے مگر… آج کل ایسا نہیں ہوتا… اگر رمضان المبارک میں ہونے والے چندوں کو دیکھا جائے تو… سب سے کم چندہ ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے لئے ہوتا ہے… آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

وجوہات کئی ہیں

(۱) جہاد فی سبیل اللہ کے حقیقی فضائل اکثر مسلمانوں کو معلوم نہیں ہیں… مسلمانوں میں اس موضوع پر بیانات بہت کم ہو گئے ہیں…اس لئے مسلمان جہاد پر خرچ نہیں کرتے… ورنہ آپ ماضی کے واقعات پڑھ لیں …جب مسلمانوں میں جہاد کے تذکرے عام تھے تو ہر شخص بڑھ چڑھ کر جہاد میں مال لگاتا تھا… کسی نے کوئی نذر ماننی ہوتی تو جہاد پر خرچ کرنے کی مانتا… کوئی وصیت کرتا تو پہلاخرچہ جہاد فی سبیل اللہ کا بتاتا… مالداروں نے ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر جہاد اور مجاہدین کے خرچے اپنے ذمہ لے رکھے تھے … مسلمان عورتیں جہاد میں مردوں سے زیادہ مال لگاتی تھیں… کیونکہ وہ خود جہاد میں شریک نہ ہوسکنے کی اپنی کمی پورا کرنے کی فکر میں رہتی تھیں … اب مساجد و منابر پر جہاد کے تذکرے بہت کم رہ گئے تو خرچ کرنے والے بھی کم ہو گئے…

(۲) حکومتی پابندیاں، عالمی سازشیں اور منافقین کے پرانے ہتھیار… قرآن مجید نے تین راز سمجھائے ہیں… پہلا یہ کہ مال ہو یا نہ ہو جہاد چلتا رہتا ہے… مال کی کمی سے جہاد پر فرق نہیں پڑتا اور جو جہاد تھوڑے مال سے کیا جائے وہ زیادہ طاقتور اور مؤثّر ہوتا ہے اس لئے مجاہدین مال کی فکر نہ کریں جہاد کو جاری رکھنے اور شریعت کے مطابق جہاد کرنے کی فکر کریں… مال خود اُن کے قدموں میں آجائے گا… دوسرا راز یہ سمجھایا کہ مسلمان اگر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی چاہتے ہیں تو وہ اپنا مال زیادہ سے زیادہ جہاد میں لگائیں … اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے جہاد کے لئے قرضہ مانگتا ہے… فرماتا ہے کہ مجھے قرض حسنہ دو… جہاد میں خرچ کرنے کی اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہو سکتی ہے؟… ساتھ یہ بھی سمجھا دیا کہ جو مسلمان جہاد میں مال خرچ نہیں کرتے وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور خود کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں … تیسرا راز یہ سمجھایا کہ … منافقین کا یہ نظریہ ہے کہ مسلمانوں کا جہاد پیسے اور چندے سے چلتا ہے… پس کسی طرح ان کے جہادی چندے کو بند کرا دو تو جہاد بھی ختم ہو جائے گا اور مسلمان بھی ختم ہو جائیں گے…لَا تُنْفِقُوا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ

اللہ تعالیٰ نے منافقین کو جواب دیا کہ… میرے پاس زمین و آسمان کے خزانے ہیں … پر اے منافقو! تمہیں سمجھ نہیں ہے…

ہمارے زمانے میں بھی کفار و منافقین کا زیادہ زور… جہادی چندہ بند کرانے پر ہے… چنانچہ مالداروں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے… اور دہشت کا ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ کوئی مالدار مسلمان جہاد پر اپنا مال نہ لگائے …خوف اور دہشت کی اس فضا میں اکثر مسلمان مالداروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے… وہ ہر سال کروڑوں روپے دیگر کاموں پر خرچ کرتے ہیں مگر جہاد پر ایک روپیہ بھی نہیں لگاتے…

(۳) جہاد کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں … یہ کام کئی نیک اور کئی بُرے لوگ مل جل کر، کر رہے ہیں… وہ جہاد کے خلاف منہ بھر کر بولتے ہیں…جب ان کو کہا جائے کہ جہاد کا انکار کفر ہے تو فوراً پینترا بدل لیتے ہیں… اور کہتے ہیں کہ ہم جہاد کے منکر نہیں ہیں بلکہ فلاں فلاں جہادی تحریک کو غیر شرعی سمجھتے ہیں… حالانکہ یہ سب ان کے حلق کی باتیں ہیں… یہ لوگ جہاد کے دل سے منکر ہیں… انہوں نے کبھی ایک لمحہ بھی جہاد کرنے کی نیت نہیں کی… انہوں نے کبھی ایک کلمہ خیر جہاد کے بارے میں نہیں بولا… انہوں نے کبھی ایک روپیہ جہاد میں نہیں لگایا… انہوں نے کبھی ایک منٹ کے لئے تلوار اُٹھانے اور جان دینے کا تصور نہیں کیا…

یہ لوگ جہاد کے خلاف طرح طرح کے وساوس پھیلاتے ہیں… اور جہاد کے معنی اور مفہوم کو مشکوک بناتے ہیں… یہ لوگ امت کا مال فضول کاموں میں لگواتے ہیں… مگر جہاد میں مال لگانے سے روکتے ہیں…

جہاد میں کم چندہ ہونے کی وجوہات اور بھی کئی ہیں… جب کوئی ’’بیماری‘‘ بہت پکی ہو جائے تو اس کے اسباب کا شمار مشکل ہو جاتا ہے … جہاد میں مال خرچ نہ کرنا ایک خطرناک بیماری ہے… مگر یہ بیماری خواص و عوام میں پکّی ہو چکی ہے… چنانچہ اس کی وجوہات شمار کرنا آسان کام نہیں ہے… ہم نے تین وجوہات بطور مثال عرض کر دی ہیں… جبکہ ایک زیادہ اہم وجہ اور بھی ہے…

اہم وجہ

جہادی چندہ کم ہونے کی ایک اہم وجہ… جہاد کی عظمت ہے… جہاد ایک عظیم الشان فریضہ ہے … یہ عشق و محبت کا سب سے اونچا بازار ہے… چنانچہ جہاد میں… اللہ تعالیٰ ہر کسی کے مال کو قبول نہیں فرماتے… قرآن مجید میں اس بارے واضح اشارہ موجود ہے کہ… جہاد میں ہر کسی کا مال قبول نہیں کیا جاتا… آج امت کے اکثر مالدار حلال و حرام کے فرق سے باہر نکل چکے ہیں…سود اور رشوت آج کی معیشت کے دو ستون بن چکے ہیں… حرام سے جو کمایا جائے وہ حرام ہی ہوتا ہے… پھر جب امت کے مالدار دین کی خاطر… اَدنیٰ سی قربانی دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں تو ان کے اموال پر بھی ’’مہر‘‘ لگا دی گئی ہے… چنانچہ ان کو جہاد میں مال لگانے کی توفیق ہی نہیں ملتی… ہماری جماعت رمضان المبارک کی پوری مہم میں جتنا ’’چندہ ‘‘ جمع کرتی ہے… کراچی، لاہور، گوجرانولہ، فیصل آباد اور پشاور کا ایک ایک سیٹھ اکیلا اس سے زیادہ چندہ مختلف کاموں میں دیتا ہے… یعنی اگر ان سیٹھوں میں سے صرف ایک…اپنا سارا چندہ جہاد میں دے دے تو… یہ ہماری پوری مہینے کی مہم سے بھی دو تین گنا زیادہ ہوگا…مگر یہ سیٹھ حضرات… اپنا سارا پیسہ دوسرے کاموں میں لگا دیتے ہیں… پہلے تو یہ خیر تھی کہ یہ پیسہ الحمد للہ مساجد، مدارس اور دینی کاموں پر لگ جاتا تھا… جو یقیناً بہت اچھے مصارف ہیں… مگر پھر ان سیٹھوں کی بدنصیبی جاگ اٹھی… اب طرح طرح کے ادارے، ٹرسٹ اور چیرٹیز آ گئی ہیں… جو حرام کاموں میں مسلمانوں کا پیسہ خرچ کرتی ہیں اور اپنے غلط مصارف کے لئے زکوٰۃ تک وصول کرتی ہیں…

کوئی علاج، کوئی تعلیم… اور کوئی ترقی کے نام پر…مسلمانوں کو لوٹ رہا ہے اور ان کی رہی سہی نیکیوں کا بھی جنازہ نکال رہا ہے…

بہرحال جیسی روح، ویسے فرشتے… جیسا مال ویسے مصارف…

اب کیا بچا؟

اب تک جو باتیں عرض ہوئی ہیں اُن کا خلاصہ ذہن میں رکھ لیں

(۱) جہاد میں مال خرچ کرنا بے حد افضل ہے مگر آج کل جہادی چندہ سب سے کم ہوتا ہے…

(۲) اس کی کئی وجوہات ہیں… کم علمی، خوف اور شکوک وغیرہ… جبکہ اہم وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا مال جہاد کے لئے قبول نہیں فرماتے…

آج مسلمانوں کے تمام سیٹھ جہاد سے بھاگ گئے… مالدار، زمیندار ، سرمایہ دار جہاد میں مال خرچ کرنے سے ڈرنے لگے… سیاستدان اور بااختیار مسلمان… جہاد کے خلاف ہو گئے تو اب جہادی چندے کی اس جھولی میں کیا بچا… جو جھولی خود حضرت آقا مدنی ﷺ نے مسجد نبوی سے شروع فرمائی تھی… جواب یہ ہے کہ اس جھولی میں… غریب مسلمانوں اور متوسط مسلمانوں کے پانچ روپے، دس روپے اور ایک روپے بچ گئے… مگر یہ چھوٹے نوٹ اتنے بھاری ہیں کہ ان کے خوف سے …دنیا کی سپر طاقتیں کراہ رہی ہیں…

غریب ماؤں، بہنوں کے ہلکے زیورات اور یہ چھوٹے سکّے اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے خوف سے بڑی بڑی حکومتیں لرز رہی ہیں، کانپ رہی ہیں … روز نئے نئے اتحاد، نئے نئے آلات… نئے نئے اسلحے… نئے نئے منصوبے… مگر آخر میں ایک ہی رپورٹ کہ جہاد بڑھ گیا…مجاہدین بڑھ گئے… دہشت گردی پھیل گئی …خطرات بڑھ گئے…ارے ظالمو! گذشتہ بیس سال کے عرصے میں اپنی ایک فتح تو دکھاؤ… نہیں دکھا سکو گے … جبکہ جہاد کا دامن فتوحات سے بھرا ہوا ہے… سلام ہو ان غریب مسلمانوں کو… سلام ہو ان ماؤں بہنوں کو… جو جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرتے ہیں…ان کو اس مال کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملے گا ان شاء اللہ… مگر دنیا میں وہ اپنے اس مال کی طاقت خود مشاہدہ کر سکتے ہیں… یہ چند روپے آج اربوں کھربوں ڈالر کے بجٹ سے ٹکرا رہے ہیں… اور ان پر غالب آ رہے ہیں … واہ میرے اللہ واہ… کیا نکتہ سمجھا دیا… قرآن مجید میں وعدہ دیا گیا کہ جہاد پر مال خرچ کرو گے تو… اللہ تعالیٰ اسے ’’اَضْعَافًا مُّضَاعَفًا‘‘ یعنی کئی کئی گنا بڑھا دیں گے… ہم یہی سمجھتے تھے کہ یہ اِضافہ آخرت کے اَجر میں ہو گا… یہ اضافہ مال خرچ کرنے والے کے مال میں ہو گا… یہ بھی سب ٹھیک ہے…مگر آج سمجھ میں آیا کہ جو روپیہ تم دو گے اللہ تعالیٰ اس کو بھی کئی کئی گنا بھاری ، وزنی اور مؤثر بنا دے گا… ایک ایک روپے کے جھولی چندے سے ہونے والے جہاد کی شان دیکھو کہ… دشمن اَربوں روپے خرچ کر کے بھی اس کا مقابلہ نہیں کر پا رہا…

اللّٰہ اکبرکبیرا

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online