Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

مقامِ خوف (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 444 - Saadi kay Qalam Say - maqam-e-khauf

مقامِ خوف

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 444)

اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ

صرف مجھ ہی سے ڈرو…

جی ہاں! صرف اﷲ تعالیٰ سے ڈرو اور کسی سے نہیں…

 آج کئی باتیں کرنے کا ارادہ ہے… ان شاء اللہ… مگر آغاز رجب کی دعاء سے کر لیتے ہیں… آئیے پڑھ لیں اور دو ماہ تک پڑھتے اور مانگتے رہیں:

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَان

سبحان اﷲ! رمضان المبارک کی خوشبو اور مٹھاس ابھی سے محسوس ہونے لگتی ہے…

 ایک نظر دنیا پر

٭…افغانستان میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے جارہا ہے… دونوں امیدوار کافی خطرناک ہیں… اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مسلمان حکمران عطاء فرمائے…

٭…انڈیا میں انتخابات کا شور، مسلمانوں کا آسام میں بہتا ہوالہو… غلاظت بکتا ہوا نجس و ناپاک’’مودی‘‘… بڑھکیں مارتا ہوا سانپ کا بچہ’’راھل‘‘… مقبوضہ کشمیر میں بائیکاٹ…

وہاں بی جے پی آئے یا کانگریس… دونوں مسلمانوں کی دشمن ہیں… فرق اتنا ہے کہ بی جے پی زیادہ خطرناک نظرآتی ہے،جبکہ حقیقت میں کانگریس زیادہ خطرناک ہے…

٭…افغانستان میں بدخشاں کے ضلع میں ایک پہاڑ پورے گاؤں کو نگل گیا… ڈھائی ہزار افراد مارے گئے… تین سو مکانات ایک اجتماعی قبر میں تبدیل ہو گئے… معلوم نہیں کون کس حالت میں ہوگا، کون کس طرح کے منصوبوں میں ہوگا… اور کون کس طرح کی سوچوں میں ہوگا کہ اچانک پورا پہاڑ گاؤں پر آگرا اور سب اپنے اعمال اوراپنے ارادوں سمیت دفن ہو گئے…

یا اللہ! امان… یا اللہ حُسن خاتمہ کی التجا ہے…

٭…ہم مسلمانوں کے وزیراعظم صاحب لندن گئے… وہاں اُن کے پڑوس میں انڈیا کا ایک ارب پتی تاجر رہتا ہے… نام اُس کا’’لکشمی متل‘‘ ہے… یہاں دو خبریں ہیں اور دونوںایسی کہ لکھتے ہوئے بھی شرم محسوس ہورہی ہے…

پہلی شرمناک خبر یہ کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ’’شوکت عزیز‘‘ آج کل ’’لکشمی متل‘‘ کے ملازم ہیں… اور دوسری شرمناک خبر یہ کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم نواز شریف خود پیدل چل کر’’لکشمی متل‘‘ کے گھر حاضر ہوئے اور اُس سے ملاقات کی… ملاقات کے دوران میوزک بھی بجتا رہا… اور شایدپاکستان کے مسلمانوں کی قسمت پر ہنستا رہا… شوکت عزیز خود اربوں پتی ہے، اس کی صرف ایک بیوی اور دوبچے ہیں… دونوں بچے جوان، شادی شدہ،برسرروزگار اور باپ کی طرح سودی نوکریوں میں مال کما رہے ہیں… اب شوکت عزیز کے ذمے صرف دو پیٹ ہیں ایک اپنا اور ایک بیگم کا… جبکہ مال اتنا ہے کہ سونے کے نوالے کھائیں تو مرتے دم تک ختم نہ ہوں… مگر پھر بھی اپنے ملک اور اپنی قوم کی ناک کٹوانے اوراپنے اندر کے حرص کی آگ بجھانے کے لئے… وہ اس عمر میں نوکری کررہا ہے… اور نوکری بھی ایک دشمن ملک کے سرمایہ دارکی… یا اللہ! حبّ دنیا سے بچائیے… یہ مرض انسان کو جانوروں سے بدتر بنا دیتا ہے… اب نواز شریف صاحب بھی’’لکشمی‘‘ کے درپر حاضر ہوئے تو خبر پڑھ کر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا… کاش کچھ تو ملک و قوم کی عزت کا پاس ہوتا… کاش کچھ تو اپنے مسلمان ہونے اور مسلمانوں کے وزیراعظم ہونے کا لحاظ ہوتا… آج کل انڈیا کے تمام ہندو گجراتی اور مراٹھی سرمایہ کار… نریندر مودی کو انڈیا کا وزیراعظم بنانے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں… اور مودی پاکستان پر حملے کی بات کر رہا ہے… اور پاکستان کے حکمران مشرکوں کے قدموں پر گرے جارہے ہیں… یا اللہ! اس ملک پر رحم فرمائیے…

 ایک سؤال ہم سب سے

٭…ہم ایک الگ تھلک گھر میں ہوں… اچانک ہمارے کچھ دشمن کلاشنکوفوں سے مسلّح ہمارے گھر کا گھیرا کر لیں… مکمل لوڈ اور بھری ہوئی دس کلاشنکوفیں اور دشمن بھی بہت ماہر جنگجو… کیا ہمیں خوف اور ڈر محسوس ہوگا یا نہیں؟

اور اگر ایک سو افراد مکمل مسلّح ہو کر ہمارے گھر کا محاصرہ کر لیں تو ہماری کیا حالت ہو گی؟…

٭…ہم کسی بستی میں جائیں اور بستی والوں سے کوئی بات کریں، جس پر وہ تمام لوگ ناراض اور غصہ ہو جائیں… اور لاٹھیاں پتھر لیکر ہمارے پیچھے دوڑیں… کیا ہمیں خوف اور ڈر محسوس ہو گا یا نہیں؟…

٭…ہم سفر میں کسی جگہ اکیلے لیٹے ہوئے ہوں اور ہمیں نیند آجائے… اچانک آنکھ کھلے تو دیکھیں کہ ایک دشمن ہم پر اپنی بندوق تانے کھڑا ہے…

کیا ہمیں ڈر اور خوف محسوس ہو گا یا نہیں؟…

٭…کچھ لوگ ہمیں قتل کرنا چاہتے ہوں… وہ ہمارے پیچھے لگے ہوں، ہم اُن سے چھپ کر کسی مکان میں جا بیٹھیں… اور تھوڑی دیر بعد ہمارے دشمن اپنا اسلحہ لہراتے بالکل ہمارے سر پر پہنچ جائیں… اُس وقت خوف سے ہماری حالت کیا ہو گی؟…

سؤال سادہ سا ہے اور جواب بالکل واضح ہے کہ… ان تمام مواقع پر خوف اور ڈر کی وجہ سے ہمارے حواس تک کام کرنا چھوڑ دیں گے… مگر حضرت آقا مدنیﷺ کو دیکھیں… ہجرت کی رات آپ کے گھر پر ایک سو ماہر اور مسلّح جنگجو تلواریں لئے محاصرہ کر چکے تھے… اس زمانے کی تلواریں جن مضبوط بازوؤں میں ہوتی تھیں… اُن کا حال پڑھیں تو معلوم ہو کہ… کلاشن سے کم خطرناک نہ تھیں… مگر حضرت آقا مدنیﷺ کو ذرہ برابر خوف محسوس نہ ہوا…غزوہ حنین کے موقع پر آپﷺ چار ہزار تیراندازوں کے نرغے میں اکیلے رہ گئے… مگر خوف کی ایک دھڑکن دل مبارک تک نہ پہنچ سکی… طائف میں سینکڑوں افراد لاٹھیاں برساتے اور پتھر پھینکتے آپﷺ کے پیچھے لگے…جسم سے لہو تو بہت گرا مگر نہ آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا اور نہ دل پر خوف، ڈر اور مایوسی کے جھٹکے لگے… آپﷺ ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے کہ دشمن ننگی تلوار لیکر سر مبارک پر آکھڑا ہوا اور للکارنے لگا کہ کوئی ہے جو آپ کو بچا سکے… آپﷺ کے سینہ مبارک میں خوف کی ایک لہر نہ اٹھی… اطمینان سے فرمایا… اللہ…

کس کس موقع کا تذکرہ کیا جائے… ایسی جگہیں جہاں شیر دل افراد کا دل دھڑکنے پر مجبور ہو جاتا ہے… حضرت آقا مدنیﷺ کے قلب مبارک میں ڈر اور خوف کی ہلکی سی لرزش بھی جگہ نہ پاتی تھی

ﷺ، ﷺ، ﷺ

 اب دوسرا سؤال

٭…ہمارے ہاں اکثر تیز ہوا چلتی ہے… کیا کبھی آندھی کے وقت ہمارے دل میں اتنا خوف آیا جتنا گلی میں دھماکے یا پٹاخے کی آواز سے آتا ہے؟

٭… کیا کبھی بادلوں کو دیکھ کر ہم اتنے خوفزدہ ہوئے جتنا ہم کسی بڑے کتے کو سامنے دیکھ کر ہو جاتے ہیں؟…

٭… کیا چاند گرھن اور سورج گرھن کے وقت ہمارے دلوں پر خوف کی کوئی ایسی لہر اٹھی جیسی امریکہ اور انڈیا کی دھمکیوں کو سن کر اٹھتی ہے…

جواب بالکل واضح ہے کہ… جی نہیں! آندھی، بادل اور سورج چاند گرھن کے وقت ہم اپنے دل میں کوئی خاص خوف اور ڈر محسوس نہیں کرتے…

اب دیکھئے اپنے محبوب آقا مدنیﷺ کو…

حضرت امّاں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ…

جب آندھی، بادل وغیرہ آتے تو حضور اقدسﷺ کے چہرہ انور پر اس کا اثر ظاہر ہوتا تھا اور چہرہ کا رنگ فق ہو جاتاتھا… خوف کی ایسی حالت طاری ہوتی کہ کبھی اندر تشریف لے جاتے اور کبھی باہر تشریف لے جاتے…وجہ پوچھی جاتی تو ارشاد ہوتا کہ…

عائشہ! مجھے اس کا کیا اطمینان کہ اس میں عذاب نہ ہو…

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کا خوف، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف…

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

حضور اقدسﷺ کا معمول تھا کہ جب آندھی چلتی تو حضور اقدسﷺ گھبرائے ہوئے مسجد میں تشریف لے جاتے… حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ کے زمانے ذرا سی تیز ہوا چلتی تو ہم قیامت کے خوف سے مسجدوں کو دوڑ جاتے…مدینہ میں سورج گرہن ہو گیا… آپﷺ فوراًنماز کی طرف لپکے، بہت لمبی نماز پڑھی اور پھر روتے ہوئے عذاب سے بچنے کی دعاء اور استغفار میں مشغول ہو گئے… کس کس واقعہ کو لکھا جائے… غزوہ تبوک کے موقع پر قوم ثمودکی بستی سے گذر ہوا تو اللہ کے عذاب کے خوف سے آپﷺ پر گریہ طاری ہو گیا…چہرہ مبارک ڈھانپ لیا اور صحابہ کرام کو حکم فرمایا کہ یہاں سے روتے ہوئے، استغفار کرتے ہوئے تیزتیز گزریں…

 اب تیسرا سؤال

بھائیو! اور بہنو!

ہمارے اعمال زیادہ اچھے ہیں… یا حضور اقدسﷺ اور حضرات صحابہ کرام کے اعمال زیادہ اونچے اور اچھے تھے؟…

جواب واضح ہے کہ… اُن کے اعمال کے مقابلہ میں ہمارے اعمال کچھ بھی نہیں… تو پھر کیا وجہ ہے کہ…

وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے، اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سن کر اُن پر غشی طاری ہو جاتی تھی…

جبکہ ہم ہر کسی سے ڈرتے ہیں… مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے… اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خوف نہیں کھاتے…یقینا یہ بڑی مصیبت ہے… اور اس مصیبت کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں…

پہلی یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عظمت، قہر، جبروت اور شان کو نہیں پہچانتے… اس وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کے خوف سے محروم ہیں… اور دوسری یہ کہ … ہم اپنے اعمال پر فخر میںمبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم پر تو عذاب آہی نہیں سکتا…

استغفراللّٰہ، استغفراللّٰہ، استغفراللّٰہ…

اے مسلمانو!… دنیا کی طاقتوں کی عظمت اور خوف دل سے نکالو صرف ایک اللہ تعالیٰ سے ڈرو… صرف ایک اللہ تعالیٰ سے ڈرو…

جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے…اللہ تعالیٰ کی ذات غنی اور صمد ہے…ہمیں کبھی بھی اس کے عذاب سے بے پرواہ نہیں ہونا چاہئے…حضرات انبیاء معصوم ہیںپھر بھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے تھر تھر کانپتے ہیں…یا اللہ مُعافی…یا اللہ رحم، یا اللہ مُعافی…

باقی رہے ہمارے اعمال… تو بس بھائیو اور بہنو!

اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں قبول فرمائے…ورنہ ان میں قبولیت والی کوئی جان تو نظر نہیں آتی… اب آج کی آخری بات سنیں…

شیطان کہتا ہے … ہر کسی سے ڈرو، اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرو

اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآء ہُ

جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ

کسی سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو اگر ایمان والے ہو…

یا اللہ! اپنے خوف اور اپنی خشیت کا وہ آنسو مجھے اور تمام پڑھنے والوں کو نصیب فرما دیجئے… جو جہنم کی آگ کو بجھا دیتا ہے …

آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online