Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

بوجھ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 612 - Bojh

بوجھ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 612)

اللہ تعالیٰ ہم سب سے گناہوںکا ’’بوجھ‘‘ ہٹائے… ہمارا سینہ کھول دے اور ہمیں اپنا بنا لے…

بوجھ

آج کل پاکستان میں ’’بوجھ‘‘ کا تذکرہ عام ہے… ایک ’’لیڈر‘‘ بولا مجاہدین ہم پر ’’بوجھ‘‘ ہیں… ہمیں وقت دیا جائے، مزید ڈالر دئیے جائیں تاکہ ہم اس ’’بوجھ‘‘ کو اُتار پھینکیں… ایک بھورے رنگ کے دیسی صحافی نے بھی یہی لکھا کہ… مجاہدین پاکستان پر بوجھ ہیں… مجاہدین کی وجہ سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو رہا… مجاہدین کو جہاد سے توبہ کر لینی چاہیے… سیاست میں آ جانا چاہیے… انڈیا میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ پاکستان کے ’’خارجی وزیر‘‘ نے کشمیری مجاہدین کو ’’بوجھ‘‘ قرار دے دیا ہے…

 

سبحان اللہ ! وہ لوگ جو خود اللہ تعالیٰ کی زمین پر ایک ناپاک بوجھ ہیں… وہ لوگ جو دن رات گناہوں کا بوجھ اپنے سروں پر لاد رہے ہیں… وہ لوگ جن کی عیاشیوں اور بدعنوانیوں نے پوری قوم کو ’’بوجھل‘‘ کر رکھا ہے… وہ اُن ’’اللہ والوں‘‘ کو بوجھ قرار دے رہے ہیں… جو دن رات اس اُمت کو غلامی کے بوجھ سے نکالنے کی محنت کر رہے ہیں…

ہاں!ایک دن آئے گا… اور وہ دن ضرور آئے گا جب یہ ’’زمین‘‘ خود بولے گی… اور گواہی دے گی… تب وہ بتا دے گی کہ… زمین پر بوجھ کون تھا؟…اور زمین کی راحت کون لوگ تھے؟

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا

گدھے کا بوجھ

گدھا بوجھ اُٹھاتا ہے… اسی لئے اس کی قدر کی جاتی ہے… اگر وہ بوجھ نہ اُٹھائے تو کون اسے پا لے گا اور کون اسے گھاس ڈالے گا… کہتے ہیں کہ ایک گدھے پر اس کے مالک نے نمک کی بوریاں لاد دیں…راستے میں پانی کا ایک نالہ آتا تھا… گدھا اس میں اترا تو نمک پگھلنے لگا… اس نے فوراً بریک لگا لی اور پانی میں کھڑا رہا… زیادہ نمک پانی میں گھل گیا… گدھا پانی سے باہر نکلا تو اس پر سے کافی ’’بوجھ‘‘ ہلکا ہو چکا تھا…وہ اپنی عقلمندی اور دانشوری پر خوش ہوا… اس نے اپنے دوست گدھوں کو بھی یہ راز بتانا شروع کر دیا … بوجھ ہلکا کرنا ہے تو پانی میں اُتر جاؤ … اور اس میں کچھ دیر کھڑے رہو…جب نکلو گے تو ’’بوجھ‘‘ اُتر چکا ہو گا… ایک گدھے پر اس کے مالک نے ’’روئی‘‘ یعنی کپاس لاد دی… سردی کا موسم تھا… کپاس ویسے ہی ہلکی پھلکی تھی اور ساتھ گدھے کی پیٹھ کو بھی گرم کر رہی تھی… مگر گدھا عقلمندی اور دانشوری پر اُتر آیا… اس ہلکے سے بوجھ کو بھی اُتارنے کے لئے… پانی میں جا کھڑا ہوا… ’’روئی‘‘ میں پانی بھرتا گیا اور گدھے کا بوجھ بڑھتا گیا… وہ جب پانی سے نکلا تو بوجھ کی وجہ سے کمر ٹوٹ رہی تھی… ٹانگیں کانپ رہی تھیں … اور گرم روئی اب بھاری اور ٹھنڈی برف بن چکی تھی… تب گدھا چیخ رہا تھا کہ… مجھ پر بوجھ ہے… مجھ پر بڑا بوجھ ہے… کسی عقلمند نے کہا… اے گدھے! تم پر تو نرم کپاس لدی تھی خود تمہاری غلطی نے اس کپاس کو تم پر بوجھ بنا دیا… اب بوجھ کو نہیں اپنی عقل کو ملامت کرو… حقانی مجاہدین نے بیس سال تک شمالی وزیرستان کی حفاظت کی… وہ نہ ہوتے تو بنوں یا ڈیرہ اسماعیل خان تک افغان بارڈر پہنچ جاتا…کشمیر میں جہاد کرنے والوں نے انڈیا کو جموں کے میدانوں اور پہاڑوں میں اٹکادیا… وہ نہ ہوتے تو انڈیا پاکستان کے مزید ٹکڑے کر چکا ہوتا… اہل پاکستان کے لئے روئی اور کپاس کی طرح نرم مجاہدین… کبھی پاکستان پر بوجھ نہ تھے مگر جب کوئی گدھا غیر ملکی صحافیوں کے نالے میں جا کھڑا ہو… خود سر سے پاؤں تک احساس کمتری میں ڈوبا ہوا ہو… اسے نہ ماضی کا ادراک ہو نہ مستقبل کی فکر… تب گورے صحافی… اسی نرم روئی پر پانی ڈالنے لگتے ہیں اور گدھا چیخنے لگتا ہے کہ… یہ روئی ہم پر بوجھ ہے… بس ہمیں وقت دو، ڈالر دو ہم اس بوجھ کو اُتار پھینکیں گے… گدھے بیچارے پر ترس آتا ہے کہ… اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہو سکے گی… کبھی بھی…

نمک اور روئی میں فرق ہے بابا

سری لنکا والوں نے بتایا کہ ہم نے ’’ تمل باغیوں‘‘ کو ختم کر دیا… برطانیہ والوں نے بتایا کہ ہم نے آئرلینڈ کے باغیوں کو ٹھنڈا کر دیا… اور اس طرح کی بعض اور خبریں… ہمارے لبرل لفافے جب یہ خبریں پڑھتے ہیں تو اُن کے حوصلے کچھ ابھرنے لگتے ہیں… کاش مسلمان مجاہدین بھی ختم ہو جائیں … اُن کا بھی مکمل صفایا ہو جائے… یہی بس اُن کی زندگی کا بڑا مقصد ہے… مگر ہائے بیچارے گدھے… یہ نمک اور روئی کا فرق نہیں سمجھتے…

وہ جہاد … اور جنگ میں فرق نہیں سمجھتے… یہ مجاہد اور جنگجو کا فرق نہیں سمجھتے… تھوڑا سا سوچو کہ … اگر جہاد اور مجاہدین نے ختم ہونا ہوتا تو وہ ’’بش‘‘ کے زمانے میں ختم ہو جاتے… ’’بش‘‘ نے چالیس ممالک ساتھ لے کر اُن پر حملہ کیا تھا… مگر جہاد بڑھ گیا ، مجاہدین پھیل گئے… اگر جہاد اور مجاہدین نے ختم ہونا ہوتا تو وہ… ابامہ کے آٹھ سالہ دور میں ختم ہو جاتے جب اس نے… خوست سے صنعاء تک ڈرون حملوں کا ایک طوفان برپا کر دیا تھا… مگر جہاد پھیل گیا… مجاہدین بڑھ گئے…اگر جہاد اور مجاہدین نے ختم ہونا تھا تو… مشرف اور زرداری کے زمانے میں ختم ہو جاتے… یہ دونوں دین کے بھی دشمن ہیں اور جہاد کے بھی… اور تمام اختیارات اُن کے ہاتھوں میں تھے… مگر جہاد طاقتور ہو گیا اور مجاہدین مضبوط ہو گئے… جب اتنے ذہین ، بااختیار اور چالاک لوگ… اتنی طاقت استعمال کر کے بھی… جہاد اور مجاہدین کا خاتمہ نہیں کر سکے تو اب… نیم پاگل ٹرمپ، بے عقل بے وقوف مودی… اور گردن تک بدعنوانی میں دھنسی ہوئی نون لیگ… کس طرح سے جہاد اور مجاہدین کا خاتمہ کر سکتے ہیں؟… وہ جہاد جس کی بنیاد قرآن مجید میں ہے… وہ جہاد جس کی جڑیں ’’کلام اللہ‘‘ میں ہیں… وہ جہاد جو امانت اور شجاعت پر قائم ہے… وہ جہاد جو اہل اسلام کے لئے روئی اور ریشم کی طرح نرم… اور اہل کفر کے لئے آگ سے زیادہ گرم ہے… وہ جہاد ختم نہیں ہو سکتا… ہاں! اللہ کی قسم ختم نہیں ہو سکتا… وہ تب ختم ہو گا… جب اللہ تعالیٰ اس دنیا کو ختم فرما کر قیامت لانے والی گھڑی بالکل قریب فرما دیں گے …تب زمین پر صرف ’’لبرل‘‘ لوگ رہ جائیں گے پورے کے پورے لبرل… پاکستان کے اکثر ’’وزراء ‘‘ کی خلوتوں کی طرح ’’لبرل ‘‘غیر ملکی این جی اوز میں پلنے والی گندی مچھلیوں کی طرح’’ لبرل‘‘ …

تب صور پھونک دیا جائے گا…زمین کو اُلٹ دیا جائے گا اور قیامت برپا ہو جائے گی… مگر ابھی وہ وقت نہیں آیا… اس لئے جہاد کو بوجھ سمجھنے والوں کو… یہ بوجھ اُٹھانا ہی پڑے گا… اور اگر جہاد واقعی اُن کے لئے بوجھ ہے تو… اُن کے لئے بڑی بری خبر ہے کہ یہ بوجھ اور بڑھے گا… اور بڑھے گا… قرآن یہی بتا رہا ہے احادیث مبارکہ میں یہی سمجھایا جا رہا ہے… حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تلوار لئے زمین پر اُترنے کو تیار بیٹھے ہیں…اور کسی غیور مسلمان ماں کی گود… امام مہدی رضی اللہ عنہ سے ہری ہونے والی ہے…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online