Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

ایک آنسو کا سؤال (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 445 - Saadi kay Qalam Say - Aik AAnsu ka Sawal

ایک آنسو کا سؤال

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 445)

اﷲ تعالیٰ کا’’خوف‘‘اُن خوش نصیبوں کو ملتاہے جنہوں نے جہنّم میں کبھی نہیں جلنا… کبھی نہیں جلنا…

اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّار

کبھی کباب والی دکان پر انگاروں پرپکتاہوا گوشت دیکھا ہے؟ کبھی سجّی کی دکان پر آگ کی تپش سے نرم ہوتی مرغیوں کو دیکھا ہے؟

دنیا کی آگ تو کچھ نہیں… وہ کیسا منظر ہوگا جب زندہ انسانوں کو زنجیروںمیں پرو کر جہنم کی خوفناک آگ پر رکھ دیا جائے گا:

ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ

اﷲ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا:

’’جواپنے رب سے ڈرے گا اُسے دو جنتیں ملیں گی‘‘

مگر دل کی سختی، دل کی قساوت، دل کا زنگ ہمیں… اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے نہیں دیتا اور ہماری آنکھیں اُن آنسوؤں سے محروم ہیں، جو آنسو جہنّم سے بچا لیتے ہیں…

ارشاد فرمایا:

اﷲ کے ڈر سے رونے والا جہنم میں نہیں جائے گا یہاں تک کہ دودھ تھنوںمیں واپس چلا جائے(ترمذی)

جس طرح دودھ کا تھنوں میں واپس جانا ناممکن… اسی طرح اُس خوش نصیب کا جہنم میں جانا ناممکن… جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتا ہو…

یا اللہ… اے عظیم ربّ! ایک آنسوکا سؤال ہے…

ویسے تو ہم بہت روتے ہیں،صبح شام اور دن رات روتے ہیں… خواتین تو فلموں میں جذباتی مناظر دیکھ کر بھی رو پڑتی ہیں… مگر کہاں ہیں وہ مقدس آنسو… جنہیںشہید کے خون کے ساتھ بیان فرمایا گیا… کہاں ہیں وہ گرم اورمیٹھے آنسو… جن کے برسنے سے پہلے دل میں حرارت آتی ہے…

…’’ یا اللہ! ایک آنسو کا سؤال ہے‘‘…

وہ آنسو جو یا اللہ! آپ کے لئے ہو… صرف آپ کے لئے… جو آپ کی عظمت کے اظہار میں آپ کے خوف اور آپ کی خشیت سے گرا ہو…

یہ دیکھیں ایک مجلس برپا ہے… دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا کبھی ہمیں بھی آج کل ایسی کوئی مجلس ملتی ہے؟… ہماری مجالس میں یا غیبت ہے یا جھوٹ… یا چغل خوری ہے یا فخر… تکبر کا اظہار ہے یا بے حیائی…

’’ یا اللہ! ایسی مجالس سے بچا لیجئے‘‘

حضرت سیدناانس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

حضرت آقا مدنیﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا:

میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا خطبہ نہیں سنا تھا… آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

(اے میرے صحابہ) اگر آپ لوگ وہ جان لیں جو میں جانتا ہوں تو پھر بہت کم ہنسو گے اور زیادہ روؤ گے… آپﷺ کا یہ فرمان سن کر حضرات صحابہ کرام نے اپنے چہرے ڈھانپ لئے اور بلک بلک کر رونے لگے… (بخاری)

اللہ اللہ… حضرت آقا مدنیﷺ کی مجلس تو صحابہ کرام کی قسمت میں تھی مگر آپﷺ کے ورثاء تو موجود ہیں… وہ جو ڈراتے بھی ہیں اور امید بھی دلاتے ہیں… وہ جن کے اپنے دل پاک ہیں… ہائے کاش کبھی کبھار ہی سہی… ہماری مجالس کا رنگ بھی ایسا ہو جائے… ہم تو اپنی ہر مجلس میں اپنے ٹوٹے پھوٹے اعمال کی بھری بوریوں کو بھی آگ لگا دیتے ہیں… ارے بھائیو! اور بہنو… ہمارے دل کالے ہو گئے… وہ دیکھو! جو اللہ تعالیٰ کو جتنا پہچانتا ہے…جو اللہ تعالیٰ کو جتنا جانتا اور جتنا مانتا ہے… اسی قدر وہ خوف سے تھر تھر کانپتا ہے… قرآن مجید میں دیکھو… فرشتے اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرز رہے ہیں… حضرات انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتے ہوئے سجدوں میں گرے پڑے ہیں… اور بالکل واضح سمجھا دیا کہ… جس میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں اس کے دل میں گویا ایمان ہی نہیں…

’’ یا اللہ! ایمان کا سؤال ہے… یا اللہ! آپ کے خوف سے بہنے والے آنسو کا سؤال ہے‘‘

آج کل عمل بہت کم اور دعوے بہت اونچے ہیں…اب حال ہی میں میلسی میں ایک ملعون نے نبوت کا دعویٰ کر دیا… ابھی جیل میں پڑا ہے… اللہ کرے جلد مُردار ہو کر زمین کے شکنجے میں جکڑا جائے… مہدی کادعویٰ کرنے والے تو اتنے ہو گئے جتنے گیس کے سلنڈر… ناپاک لوگ، صبح شام غلاظتوں میں اور دعوے امام مہدی ہونے کے… مصر میں ایک نے مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے… یمن میں ایک بڑا نقلی مہدی بیٹھا ہے… پاکستان میں ہر چوتھے روز اسی طرح کے دعوے… ہائے دلوں کی سختی ہائے دنیا کی محبت… جہاں دیکھو! بس بیوٹی پارلروں کے بورڈ ہیں… جہاں دیکھو! اندرونی بیرونی صحت کے راز ہیں… کوئی نہ اپنی شکل سے مطمئن نہ کوئی اپنے قد سے مطمئن… کبھی ایک منٹ بھی اس کی فکر ہوئی کہ آگے چل کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہے… اتنے عظیم شہنشاہ کے پاس لیجانے کے لئے ہمارے پاس کیا ہے؟

حضرت جبرئیل امین جیسا عظیم الشان فرشتہ… اللہ تعالیٰ کے خوف سے چڑیا کی طرح کانپتا ہے… حضرت آقا مدنیﷺ سے وعدہ تھا کہ آپ بخشے بخشائے ہیں مگر رات کو یوں روتے کہ سینہ اقدس سے ہانڈی ابلنے جیسی آواز آتی… اماں جی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں… ایک رات وضو اور نماز کے بعد حضرت آقا مدنیﷺ اتنا روئے کہ دامن مبارک آنسوؤں سے بھیگ گیا… پھر بھی گریہ جاری رہایہاں تک کہ داڑھی مبارک مکمل بھیگ گئی… مگر آنسو جاری رہے یہاں تک کہ سامنے والی زمین بھی بھیگ گئی…

’’ یا اللہ! دل کے نور کا سؤال ہے، یا اللہ! ایک آنسو کا سؤال ہے‘‘

اندھے دل کیا جانیں کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کیا ہے… اللہ تعالیٰ کا جلال کیا ہے… اللہ تعالی کا قہر کیا ہے… اللہ تعالیٰ کا غضب کیا ہے… اللہ تعالیٰ کی رحمت کیا ہے… کبھی آپ نے قرآن مجید میں… سورۂ ابی لہب پڑھی… حضرت آقا مدنیﷺ کا چچا آگ میں جل رہا ہے… ارے مالک کا غضب آجائے تو پھر کون بچ سکتا ہے…

اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّار… اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّار

دنیا کی محبت، فیشن کی محبت، دنیا داروں کی محبت… زیادہ جینے کا شوق، ظاہری ٹیپ ٹاپ… اور پروٹوکول کا شوق… یہ سب کچھ دل پر زنگ لگا دیتا ہے… اب زنگ آلود دل اللہ تعالیٰ کو کیسے پہچانے؟… ارے بھائیو! اور بہنو! چھوڑو میک اپ، چھوڑو فیشن، چھوڑو مال جمع کرنا… اگر اپنے مالک کو راضی کرنا ہے تو بس دو قطروں کو حاصل کرنے کی فکر میں لگ جاؤ

ارشاد فرمایا:

دو قطروں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کوکوئی چیز محبوب نہیں… ایک آنسو کا قطرہ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے ٹپکا ہو… اور ایک خون کا قطرہ جو جہاد فی سبیل اللہ میں بہا ہو…(ترمذی)

’’ یا اللہ! دو قطروں کا سؤال ہے… ایک آپ کے خوف کا آنسو اور ایک آپ کے لئے شہادت کا خون‘‘

دل سخت ہو جاتے ہیں تو شیطان کا اُن پر قبضہ ہو جاتا ہے…پھر شیطان طرح طرح کے دعوے کراتا ہے… تم ایسے ہو اور تم ویسے ہو…

کسی کو محقق ہونے کا زعم، کسی کو بڑا مجاہد ہونے کادعویٰ… کسی کو مجتہد ہونے کا وہم اور کسی کو مہدی ہونے کا شبہ…

… یا اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان اور ہدایت دے دیجئے…

یاد رکھیں جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف نہ بلائے بلکہ… اپنی ذات کی طرف بلائے اس سے دور رہیں اور اُس سے کٹ جائیں… جو آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنے کی محنت نہ کرے بلکہ آپ کو غیبت اور دیگر گناہوں میں لگا کر آپ کے دل کو کالا کرے اُس سے کٹ جائیں، اُس سے دور ہو جائیں… جماعتوں میں اچانک شیطان کسی کو بہکاتا ہے اور پھر وہ موبائل اٹھا کر… دوسروں کے دل کالے کرنے لگتا ہے… پہلا جملہ یہ ہوتا ہے کہ… یار میرا تو سر پھٹ رہا ہے… آخر یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟… ہاں! جب تیرے سر سے ایمان نکلا اور اُس پر شیطان آبیٹھا تو اب اس سر نے پھٹنا ہی ہے… ہائے کاش تو اس ظالم خنّاس کا شکار ہونے سے پہلے… اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑپڑتا… تو اپنے گناہوں کو یاد کرتا… تو دوسروں کے عیب دیکھنے کی بجائے اپنے کالے گناہ یاد کر کے بلک بلک کر روتا تو تیرا سر نہ پھٹتا… آپ سے جوبھی اسی جملے سے بات شروع کرے، اُسے کہیں… ارے ظالم! تیرا سر پھٹ رہا ہے تو پھٹ جائے تو میرا ایمان کیوں پھاڑتا ہے؟… اسی طرح جو بھی اپنی ذات کے بارے میں اونچے اونچے دعوے کرتا ہو اُس سے دور رہیں… بڑائی،عظمت اور کبریائی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے… اللہ تعالیٰ کے سچے بندے دعوے نہیں کرتے بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے تھر تھر کانپتے رہتے ہیں

اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء

یہ دیکھو: حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں…اُن سے عرض کیا گیا کہ کس بات پر اتنا رونا آرہا ہے… فرمایا: اللہ تعالیٰ نے دو مٹھیاں بھریں… ایک مٹھی میں جو لوگ آئے اُن کو جنت میں داخل فرمادیا اور دوسری مٹھی میں جو آئے اُن کو جہنم میں ڈال دیا…مجھے کیا معلوم کہ میں کونسی مٹھی میں ہوں؟… یہ دیکھو! حضرت آقا مدنیﷺ کے محبوب نواسے حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ رو رہے ہیں… وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:

میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھے جہنم میں نہ پھینک دے اور پرواہ بھی نہ فرمائے

’’ یا اللہ! ایک آنسو کا سؤال ہے‘‘

ایک بار جمعہ کے لئے مسجد جانا ہوا ، ابھی مسجد کھلی نہ تھی ایک معذور بزرگ سیڑھیوں میں بیٹھے تھے… ٹانگ سے بھی معذور اور بازو بھی ٹوٹا ہوا… دوسرے ہاتھ میں تسبیح تھی اور چہرے پر اطمینان اور زبان رواں دواں اپنے خالق کی یاد میں… بندہ بھی اُن کے ساتھ بیٹھ گیا… وہ مسجد کھلنے کے انتظار میں تھے… تھوڑی دیر میں اُن سے کچھ تعلق بنا تو انہوں نے دعا دی

’’اللہ تعالیٰ ایمان نصیب فرمائے‘‘

میں حیرانی اور سکتے میں آگیا… پہلے تو دل ڈرا کہ شائد اُن کو کشف ہوا کہ میں ایمان سے محروم ہوں…یہ سوچ کر ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے… اس سے پہلے کبھی زندگی میں یہ دعاء کسی نے اس طرح نہ دی تھی… تھوڑی دیر کی پریشانی کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ جس سے بھی شفقت فرماتے ہیں، یہی قیمتی دعاء دیتے ہیں… پھر یہ دعاء محبوب بن گئی… میں اُن کی تلاش میں رہتا اور ملاقات کے بعد دھڑکتے دل کے ساتھ اسی دعاء کا انتظار کرتا… اور پھر میں نے بھی اپنے اہل محبت کو یہی دعا دینا شروع کر دی… بے شک ایمان والوں کو یہی حکم ہے کہ وہ ایمان مانگا کریں اور مرتے دم تک مانگتے رہیں… بے شک ایمان ہی سب سے قیمتی اور سب سے اونچی نعمت ہے… ایمان مل جائے تو پھر اور کیا چاہئے؟…اور قرآن پاک ایمان والوں کی صفات بار بار سمجھاتا ہے کہ…

وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں… وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتے ہیں، صدقہ دیتے وقت بھی اُن کے دل اس خوف سے کانپ رہے ہوتے ہیں کہ کل انہوں نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے…وہ قرآن پاک سن کر روتے ہیں اور جب اُن کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُن کے دل ڈر جاتے ہیں… جی ہاں! اللہ تعالیٰ کی عظمت کے رعب سے اُن کے دل دب جاتے ہیں…

اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ

بھائیو! اللہ تعالیٰ نے کتنی اچھی دعوت اور کتنا اونچا کام اپنے فضل سے عطاء فرما دیا… ایمان کی دعوت، اقامت صلوٰۃ کی دعوت… اور جہاد فی سبیل اللہ… خود بھی عمل دوسروں کو بھی پکارنا… خود بھی محنت اور دوسروں کی بھی فکر… بس زندگی مختصر ہے… چندسانس باقی ہیں… اس کام کی قدر کرو، مایوسیاں، بے چینیاں،غیبتیں اور عدم تحفظ کے گندے خیالات جھٹک کر… اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جاؤ… اس کے خوف سے آنسو بہاؤ… اور اس کی رضاء کے لئے جان توڑ محنت میں لگ جاؤ…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online