Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

مقبول شہادت (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 614 - Maqbool  Shahadat

مقبول شہادت

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 614)

اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ’’ شہادت ‘‘ وہ نعمت ہے جوکہ …بے شمار نعمتوںکامجموعہ ہے …اگرکسی مسلمان کویہ اختیار دیا جائے کہ وہ  …صرف ایک ’’دعاء‘‘مانگ لے …ایک سے زیادہ نہیں …اوراس کی وہ ایک دعاء قبول ہوگی تو …اس مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ’’مقبول شہادت‘‘مانگ لے  …کیونکہ مقبول شہادت مل گئی تو سب کچھ مل گیا  …ایمان بھی،اچھا خاتمہ بھی… مغفرت بھی ،معافی بھی  …سکرات الموت سے حفاظت اور عذاب قبر سے نجات بھی  …اور جنت فردوس اعلیٰ بھی  …اور بھی بہت سی چیزیں  …مثلاًموت کے فوراً بعد ایک لذیذاور طاقتور زندگی …اللہ تعالیٰ کا رزق ،خوشیاں اور راحت ہی راحت  … اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضااور اس کا قرب… اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار شہیدہونے کی تمنا فرمائی  …حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام عالی شان  …شہداء کے مقام سے بہت اونچاہے …شہادت کے اسی مقام کی وجہ سے کئی اولیاء کرام کے بارے میں آتا ہے کہ … وہ اکٹھے ہوکر اللہ تعالیٰ سے شہادت کی دعاء مانگتے تھے …خاص اسی دعاء کے لئے جمع ہوتے اور صرف یہی ایک دعاء مانگتے  …

 

شہید زندہ ہوتاہے  …اسے شہادت کے بعد مردہ کہنا بھی حرام اور مردہ سمجھنابھی حرام … شہید کی حیات قرآن مجید کی نص قطعی سے بالکل واضح طور پر ثابت ہے … مگر یہ ’’حیات‘‘ایسی بلند اور اونچی ہے کہ …ہم لوگ اسے اس دنیا میں سمجھ نہیں سکتے  …مگر جنت میں جانے کے بعدجب ہمارا شعور طاقتورہوجائے گا تو وہاں جاکر… شہداء کرام کی زندگی اور حیات ہمیں سمجھ آ جائے گی … ہم سب مسلمانوں کو چاہیے کہ  … شہادت کے قرآنی فضائل پڑھیں  … احادیث مبارکہ میں شہادت کے فضائل کو سمجھیں … بزدلی اور نفاق سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں  …اور خاص اوقات ،خاص لمحات اور قبولیت کی امید کے ہر موقع پر … اللہ تعالیٰ سے مقبول شہادت کی نعمت مانگا کریں … او ر اس بات سے نہ ڈرا کریں کہ  … شہیدہوکر ہم مرجائیں گے … نہیں ہرگز نہیں ،شہیدہوکر تومسلمان زندہ ہو جاتا ہے …اس پر موت ضرور آتی ہے مگروہ موت آکر چلی جاتی ہے …اور فوراًزندگی شروع ہوجاتی ہے  … مسلمان اگر شہادت سے محبت کریں گے تو انہیں’’مسئلہ جہاد ‘‘آسانی سے سمجھ آجائے گا …اور جہاد کے بارے میں کوئی اشکال ان کے دل میں پیدا نہیں ہوگا…جہاد کے خلاف اکثر اعتراضات اور اشکالات کے پیچھے موت کا ڈر چھپاہوتا ہے  … اگر مسلمان قرآن مجید کو مانیں تو جان لیں گے کہ … شہادت موت نہیں ہے زندگی ہے … قرآن پاک پکار پکار کر فرما رہا ہے’’بل احیاء‘‘،’’بل احیاء‘‘ …وہ زندہ ہیں … وہ زندہ ہیں … ان کی زندگی اس دنیا کے جسم اور قبر سے لے کر برزخ تک اور جنت کے دروازے تک پھیلی ہوتی ہے  … مسلمان جب جہاد پر آجائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں عزت ،عظمت ،رعب ، خود داری اور مغفرت بھی عطاء فرمائے گا … اور انہیں کفر اورکفار کی غلامی سے بھی نجات ملے گی  …

شہداء کرام کی زندگی یقینی ہے  …مگر یہ بھی ساتھ فرمادیا گیا کہ ’’ولکن لاتشعرون‘‘ کہ تم اس زندگی کوسمجھ نہیں سکتے،محسوس نہیں کرسکتے  … وہ بڑی اعلیٰ اور ارفع زندگی ہے  …وہ زندہ ہیں مگر اب یہ زندگی ان سے کوئی چھین نہیں سکتا … وہ اب قتل نہیں ہوسکتے …قید نہیں ہوسکتے … بیمار نہیں ہوتے …پریشان اور غمزدہ نہیں ہوتے … پرانی زندگی میں جو کمزوریاں تھیں وہ شہادت کی زندگی میں ختم ہوگئیں  … شہید کی اس عجیب اور اعلیٰ یقینی زندگی کو ہم سمجھ نہیں سکتے مگر اللہ تعالیٰ کچھ علامات اور اشارات ایسے عطاء فرماتے رہتے ہیں جوایمان والوں کے ایمان کومزید مضبوط کرتے ہیں …ایسے واقعات کو ہم شہداء کرام کی کرامت اور ان کی نئی زندگی کے شواہد کہتے ہیں  … ملاحظہ فرمائیے استاذ محترم محقق العصر حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ العالی کی کتاب’’مقام حیات‘‘سے حضرات شہداء کرام کی حیات مبارکہ کے چند شواہد

حیات شہداء کے شواہد

۱)حضرت جابررضی اللہ عنہ کہتے ہیں اُحد کے دن میرے والد نے مجھے کہا:شایدآج میں سب سے پہلے شہیدہوجائوں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکوئی مجھے تم سے پیا را نہیں۔میرا قرض ادا کر دینا اوراپنی بہنوں کے ساتھ اچھاسلوک کرنا۔

حضرت جابررضی اللہ عنہ کہتے ہیں واقعی سب سے پہلے میرے والدمارے گئے۔اس دن دو دوشہیدایک جگہ دفن کئے گئے تھے۔میں نے نہ چاہا کہ میرے والدکے ساتھ کوئی اوردفن ہو۔میں نے چھ ماہ بعداپنے والدکی قبر کوکھولاتاکہ آپ کوعلیحدہ دفن کروں۔

فکان اول قتیل ودفنت معہ اخرفی قبرہ ثم لم تطب نفسی ان اترکہ مع اخر فاستخرجتہ بعدستۃ اشھرفاذا ھوکیوم وضعتہ ھنیۃغیراذنہ

ترجمہ:آپ جنگ احد کے پہلے شہید تھے میں نے آپ کے ساتھ ایک اورشخص کو بھی آپ کی قبر میں دفن کردیاپھرمجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ میں اپنے والدکوکسی اورشخص کے ساتھ رکھوں۔میں نے پھر چھ ماہ کے بعدآپ کووہاں سے نکالاآپ اسی حال میں تھے جیساکہ میں نے آپ کودفن کیا تھا صرف ایک کان میں تھوڑاساتغیرتھا۔

حضرت جابررضی اللہ عنہ کے والدعبداللہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کے بہنوئی حضرت عمروبن الجموح رضی اللہ عنہ دفنائے گئے تھے۔

۲)تقریباًپچاس سال بعدحضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں مدینہ منورہ کے قریب نہر کظامہ کھودی گئی۔اس کھدائی میں سید الشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا جسد ملا۔وہ اسی طرح تھا جس طرح دفن کیاگیاتھااس میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تھی۔بیلچہ انگلی پرلگ گیا توخون بہنے لگا۔حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ (852ہجری ) لکھتے ہیں:

ترجمہ:اوراس امت کے پہلے دور میں جو شہداء اُحد وغیرہ اسی صورت میں پائے گئے، لمبے زمانے گزرنے کے بعد بھی ان میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا۔ان میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے دور  میںایک نہر کھودی تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کواسی طرح پایا گیاآپ میں کوئی تغیر واقع نہ ہوا تھا۔کام کرنے والے کابیلچہ آپ کی انگلی پرلگ گیاتواس سے خون جاری ہوگیا۔

۳)حضرت عمرو بن الجموح رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ ایک دفعہ پھر بوجہ سیلاب دوسری جگہ منتقل کئے گئے۔

فوجدالم یتغیراکانھماماتابالامس وکان احدھماقد جرح فوضع یدہ علیٰ جرحہ فدفن وھوکذلک فارسلت یدہ عن جرحہ ثم ارسلت فرجعت کماکانت

ترجمہ:وہ دونوں اس طرح پائے گئے گویاکل فوت ہوئے ہیں ان میں سے ایک احد کے دن زخمی ہوا تھااور اس نے اپنا ہاتھ زخم پر رکھا ہوا تھااور اسی حالت میں وہ دفن کردیا گیامیں نے آپ کاہاتھ زخم سے ہٹایااورپھرچھوڑدیاوہ وہیںجا لگا جہاں کہ پہلے تھا۔

۴)حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں نجران کے ایک آدمی نے ایک جگہ جہاں قبریں تھیں،زمین کھودی توحضرت عبداللہ بن تامررضی اللہ عنہ کاجسدملا،ہاتھ سرپررکھاہواتھا۔راوی کہتا ہے:

فاذااخرت یدہ عنھاتنبعث دماواذاارسلت یدہ ردھاعلیھافامسکت دمھا

ترجمہ:جب میں آپ کا ہاتھ زخم سے ہٹاتا تو اس زخم سے خون پھوٹ پڑتااور جب میں آپ کے ہاتھ کو چھوڑ دیتاتووہ وہیں جالگتااوراس کے خون کو روک دیتا۔

۵)ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ کی دیوار گرگئی جب اسے بنانے لگے توایک قبر سے قدم ظاہرہوا۔لوگ گھبراگئے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاقدم نہ ہو حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے وہ قدم پہچان لیا اوربتایایہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کاقدم ہے۔

۶)حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں جب نہر کظامہ کھودی گئی اوردرمیان میں شہداء کی قبریں کھلیں تودیکھا کہ ان کے جسد تروتازہ ہیں اوربال بڑھے ہوئے ہیں۔ اتفاقاً ایک شہید کے پاؤں پر کدال لگی تو خون جاری ہوگیا جب وہ جگہ کھودی گئی توسب طرف مشک کی خوشبو پھیل گئی۔

۷)حضرت حذیفہ اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہماکے مزارات دریائے دجلہ کے کنارے تھے۔۱۹۳۰؁ء کے قریب کی بات ہے۔ دریازمین کاٹتاان کے مزارات کے قریب آپہنچا ،حکومت عراق نے حکم دیا کہ ان مزارات کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے احاطہ میں منتقل کردو اورپھرایساہی کیاگیا۔پھرجنازے ہوئے اورآٹھ دس ہزار آدمیوں نے ان میں شرکت کی۔ایک صاحب الطاف حسین جوان جنازوں میں شریک ہوئے تھے، ان کا بیان ہے:

قبرسے نکلے ہوئے جنازوں کی موجودگی اور خلق کی آہ وبکاء نے قیامت کا نمونہ برپا کر رکھا تھا اکثرآدمی روتے روتے بے ہوش ہوگئے۔نعشیں تیرہ سوسال گزرنے کے بعد بھی بالکل سالم تھیں ۔ کفن ہاتھ لگانے سے بوسیدہ تھا۔ایک صاحب کی داڑھی سفید تھی اورایک کی سیاہ۔

یہ واقعہ ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی کی اگست 1964ء کی اشاعت میں اسی طرح منقول ہے اور اس کا عنوان ہیـ:

’’ناقابل انکارصداقت‘‘

قصبہ سلمان پاک جوبغداد سے 40میل کے فاصلے پر ہے،زمانہ قدیم میںجس کانام ’’مدائن‘‘ تھا ۔جہاں اکثرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین گورنری کے عہدے پرفائزرہے۔یہاں ایک شاندار مقبرے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مشہور صحابی مدفون ہیں اور آپ کے گنبدمزار سے متصل نبی آخرالزمان کے دوصحابہ حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ عنہ اور حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے مزارات ہیں۔ان دونوں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مزارات پہلے سلمان پاک سے دو فرلانگ کے فاصلے پرایک غیر آباد جگہ پرتھے۔

ہوا یہ کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خواب میںملک فیصل اول شاہ عراق سے فرمایا کہ ہم دونوں کوموجودہ مزاروں سے منتقل کرکے دریائے دجلہ سے تھوڑے سے فاصلے پردفن کر دیا جائے۔اس لیے کہ میرے مزارمیں پانی اور جابر رضی اللہ عنہ کے مزار میں نمی شروع ہوگئی ہے۔

شاہ یہ خواب مسلسل دوراتوں میں دیکھتارہا اور شایدبے پرواہی یاانہماک امور سلطنت کے باعث بھول گیا،تیسری شب حضرت موصوف نے عراق کے مفتی اعظم کوخواب میںیہی ہدایت فرما کرکہا:ہم دوراتوں سے بادشاہ کو کہہ رہے ہیں لیکن اس نے اب تک انتظام نہیں کیا۔اب یہ تمہاراکام ہے کہ اس کو متوجہ کرکے اس کا فوری بندوبست کراؤ۔

چنانچہ اگلے روزصبح ہی صبح مفتی اعظم نوری السعید پاشاوزیراعظم کوساتھ لے کر بادشاہ سے ملے اور اس سے اپنا خواب بیان کیا۔شاہ فیصل نے کہا: میں بھی دوراتوں سے خواب میں یہی دیکھ رہاہوں۔

آخرکافی غورومشورے کے بعد شاہ نے مفتی اعظم سے کہا کہ آپ مزارات کھولنے کافتویٰ دیدیں تو میں اس کی تعمیل کے لئے تیار ہوں۔جب مفتی اعظم نے مزارات کے کھولنے اورلاشوں کومنتقل کرنے کا فتویٰ دیدیا تویہ فتویٰ اورشاہی فرمان دونوں اس اعلان کے ساتھ اخبارات میں شائع کردیئے گئے کہ بروزعیدقربان بعدنماز ظہران دونوں اصحاب رسول رضی اللہ عنہماکے مزارات کھولے جائیں گے۔

اخبارات میں یہ حال شائع ہوناتھا کہ تمام دنیائے اسلام میں یہ خبر بجلی کی طرح پھیل گئی۔ رائٹراور دوسری خبررساں ایجنسیوں نے اس خبر کوتمام دنیامیں پہنچادیا۔حسن اتفاق دیکھئے کہ ان دنوں موسم حج ہونے کے باعث تمام دنیاسے مسلمان حج کے لئے حرمین شریفین(مکے مدینے ) میں جمع ہورہے تھے ۔ جب انہیں یہ حال معلوم ہوا توانہوں نے شاہ عراق سے یہ خواہش ظاہر کی کہ مزارات حج کے چندروز بعدکھولے جائیں تاکہ وہ بھی شرکت کرسکیں۔اسی طرح حجاز،مصر،شام، لبنان، فلسطین، ترکی،ایران،بلغاریہ ، افریقہ ، روس،ہندوستان وغیرہ وغیرہ ملکوں سے شاہ عراق کے نام بے شمار تار پہنچے کہ ہم بھی جنازوں میں شریک ہوناچاہتے ہیں مہربانی فرماکر مقررہ تاریخ چندروزبڑھا دی جائے ،چنانچہ دنیا کے مسلمانوں کی خواہش پر یہ دوسرا فرمان جاری کر دیا گیا کہ اب یہ رسم حج کے دس دن بعد اداکی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی خواب میں اہل مزارات کی عجلت کی تاکید کے پیش نظر احتیاطی تدابیر بھی کی گئیں کہ پانی مزارات تک پہنچنے نہ پائے۔

آخر کار وہ دن بھی آگیاجس کی آرزو میں لوگ جوق درجوق سلمان پاک میں جمع ہوگئے اورشنبہ کے دن بارہ بجے کے بعد لاکھوں انسانوں کی موجودگی میں مزارات کھولے گئے تومعلوم ہوا کہ حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ عنہ کے مزارمیں کچھ پانی آچکا تھااورحضرت جابر رضی اللہ عنہ کے مزار میں نمی پیدا ہوچکی تھی حالانکہ دریائے دجلہ وہاں سے کم از کم دوفرلانگ دورتھا۔

تمام ممالک کے سفیر،عراقی حکومت کے تمام ارکان اور شاہ فیصل کی موجودگی میں پہلے حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ عنہ کی نعش مبارک کو کرین کے ذریعے زمین سے اس طرح اوپر اٹھایا گیا کہ ان کی نعش کرین پر نصب کئے ہوئے سٹریچر پر خودبخود آگئی۔اب کرین سے سٹریچر کوعلیحدہ کرکے شاہ فیصل ‘ مفتی اعظم عراق‘ وزیر مختار جمہوریہ ترکی اور پرنس فاروق ولی عہد مصر نے کندھادیا اور بڑے احترام سے ایک شیشہ کے تابوت میں رکھ دیا۔پھر اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نعش مبارک کومزار سے باہرنکالاگیا۔

نعش ہائے مبارک کا کفن،حتیٰ کہ ریش ہائے مبارک کے بال تک بالکل صحیح حالت میں تھے ۔ نعشوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہر گز نہیں ہوتا تھا کہ یہ تیرہ سو سال قبل کی نعشیں ہیں،بلکہ گمان یہ ہوتا تھا کہ شاید انہیں رحلت فرمائے دو تین گھنٹے سے زائد وقت نہیں گزرا ۔سب سے عجیب بات یہ تھی کہ ان دونوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان میں اتنی پر اسرارچمک تھی کہ بہتوں نے چاہا کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں لیکن ان کی نظریں اس چمک کے سامنے ٹھہرتی ہی نہ تھیں اور ٹھہر بھی کیسے سکتی تھیں؟

بڑے بڑے ڈاکٹر یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔ ایک جرمن ماہر چشم جو بین الاقوامی شہرت کا مالک تھا،اس تمام کاروائی میں بڑی دلچسپی لے رہا تھا ۔ اس نے یہ منظر دیکھا توبس دیکھتا ہی رہ گیا،وہ اس سے کچھ اتنا بے اختیار ہواکہ ابھی نعش ہائے مبارک تابوتوں میں ہی رکھی گئیں تھیں کہ آگے بڑھ کر مفتی اعظم عراق کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا :آپ کے مذہب اسلام کی حقانیت اور ان صحابہ رضوان اللہ علیہم کی بزرگی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے ؟ لائیے مفتی اعظم!ہاتھ بڑھائیے،میں مسلمان ہوتا ہوں،لاالہ الا اللّٰہ محمدرسول اللّٰہ

اس واقعہ کے فوراً بعد بغداد میں کھلبلی مچ گئی اور بے شمار یہودی اور نصرانی خاندان بلاکسی جبر کے اپنے جہل اور گمراہی پرافسردہ،اپنے گناہوں پر نادم ، ترساں و لرزاں جوق در جوق مسجدوں میں قبول اسلام کے لئے آتے تھے اور مطمئن شاداں وفرحاں واپس جاتے تھے …اس موقع پر مشرف بہ اسلام ہونے والوں کی تعداداتنی تھی کہ اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں ۔

یہ ’’چشم دیدواقعہ‘‘کسی کتاب میں لکھا ہوا اگلے زمانے کا تاریخی واقعہ نہیں ہے،یہ ہمارے ہی زمانے کا آنکھوں دیکھا حال ہے،اس کو زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا …۱۹۳۲؁ء میں اس کرامت کا ظہور ہوا ہے۔ (مقام حیات)

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online