Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

مردِ میدانِ وفا (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 615 - Mard e Wafa Maidan Mein

مردِ میدانِ وفا

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 615)

اللہ تعالیٰ نے ’’شہداء کرام‘‘ کو ’’زندگی‘‘ عطاء فرمائی ہے… شہداء کرام کی ’’حیات‘‘ یعنی ’’زندگی‘‘ میں شبہ کرنا ’’کفرہے‘‘… قرآن مجید فرماتا ہے

بَلْ اَحْیَائٌ

بلکہ وہ زندہ ہیں… وہ دیکھو آج کل پورے ہندوستان میں حضرت سلطان فتح علی ٹیپو شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کی زندگی صاف نظر آ رہی ہے … بدبو دار متعصب ہندو حضرت سلطان ٹیپو شہید کے خلاف منہ کھول کر… دانت نکال کر بھونک رہے ہیں… وہ حسد کی آگ میں یوں جل رہے ہیں جیسے کہ ’’ٹیپوشہید‘‘ اُن کے سامنے کھڑے مسکرا رہے ہوں … جبکہ اہل ایمان حضرت ٹیپو سلطان شہید کے کارنامے… مساجد میں ، مدارس میں اور اخبارات و رسائل میں بیان کر رہے ہیں… اپنی شہادت کے تقریباً سوادو سو سال بعد بھی … شہید کا تذکرہ مردہ دلوں کو زندہ کر رہا ہے… کوئی ٹیپو سلطان کے حالات زندگی پڑھ رہا ہے… کوئی اُن سے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کی برکت حاصل کر رہا ہے… کوئی اُن سے جہاد کا سبق پڑھ رہا ہے… کوئی اُن سے شہادت کی لذت معلوم کر رہا ہے… کوئی اُن سے آداب جہانبانی سیکھ رہا ہے … اور کوئی اُن سے ’’شیر‘‘ بننے کے راز معلوم کر رہا ہے… بھارتی وزیر’’ ہیگڑے‘‘ اور اُس کے ہمنوا چند دن تک مر جائیں گے… جل جائیں گے …

کوئی کالا کتا اُن کے شمشان گھاٹ پر پیشاب کر آئے گا… جبکہ ٹیپو سلطان شہید کی زندگی… اہل ایمان کے دلوں کو گرماتی رہے گی… کیونکہ وہ شہید ہوئے… انگریزوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے… جب بال ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے باپ دادا مراٹھے… انگریزوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے …آج آزادی کے بعد ہندوستان کے مالک ہونے کا دعویٰ کرنے والے … اُس وقت انگریز کے ساتھ تھے… جبکہ مسلمانوں کا رہنما سلطان ٹیپو شہید…مسلسل کئی معرکوں میں انگریزوں کو عبرتناک شکست دے چکا تھا… مگر پھر اپنوں نے غداری کی… میر صادق اور دیوان پورنیا جیسے وزراء انگریز کے ساتھ مل گئے… 1213؁ھ بمطابق مئی 1799؁ء سرنگاپٹنم میں آخری معرکہ ہوا…سلطان ٹیپو بہادری کے ساتھ لڑتے رہے… اور بالآخر قرآن مجید کی آیت مبارکہ تلاوت کرتے ہوئے سینے پر کئی زخم کھا کر شہید ہو گئے…کسی نے تاریخ وفات کا عجیب قطعہ نکالا ہے…

ٹیپو بوجہ دینِ محمد شہید شد1213ھ

ٹیپو دینِ محمد ﷺ پر… جام شہادت نوش فرما گئے…

ہمارے علامہ اقبال ؒنے ٹیپو شہید کی قبر پر حاضری دی… کافی دیر وہاں کھڑے ہوئے، باہر نکلے تو شدت جذبات سے رو رہے تھے فرمایا:

آں شہیدانِ محبت را امام

آبروئے ہند و چین و روم و شام

نامش از خورشید و مہ تابندہ تر

خاک قبرش از من و تو زندہ تر

ترجمہ:ٹیپو سلطان ’’شہداء محبت‘‘ کے امام ہیں … اور روئے زمین کی آبرو ہیں اُن کا نام سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے اور اُن کی قبر کی مٹی مجھ سے اور تجھ سے زیادہ زندہ ہے…

تمہارے پاس بھی کوئی ہے؟

ہندوستان کے موجودہ ہندو حکمرانوں سے پوچھتا ہوں… تم آج اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے عظیم، بہادر، منصف، درویش اور فاتح ’’بادشاہ‘‘ کو گالیاں دیتے ہو… کیا تمہارے پاس… تمہاری تاریخ میں ’’عالمگیر‘‘ جیسا ایک شخص بھی ہے؟ …تمہارا ’’شیواجی‘‘ ’’مراٹھا‘‘ …جس کی بہادری پر تمہیں ناز ہے… عالمگیر کے سامنے ایک تر ’’پراٹھا‘‘ ثابت ہوا… ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کسی ایک ہندو راجہ یا مہاراجہ کا نام بتاؤ جو ’’عالمگیر‘‘ کے ہم پلہ ہو… عالمگیرؒ نے پچاس سال تک ’’ہند‘‘ پر حکومت فرمائی…اور ہندوستان کی سرحدوں کو کیرالہ سے لے کر افغانستان کے آخر تک پہنچادیا… تم آج ہندوستان سے’’اورنگ زیب عالمگیر‘‘ کا نام مٹانا چاہتے ہو… مگر کیسے مٹا سکو گے؟… کیا تاریخ میں اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی ایسا حکمران ہندوستان میں گزرا ہے… جس نے اتنی بڑی سلطنت پر حکومت کی ہو… تمہاری تاریخ تو بس ’’مہا بھارت‘‘ کی افسانوی جنگ پر ختم ہو جاتی ہے … یہ وہ جنگ تھی جس میں تمہاری ایک  عورت کے پانچ پانچ خاوند تھے… رام کی بہادری کے قصے بس اسی پر موقوف ہیں کہ وہ چودہ سال تک اپنی بیوی کو رہا کراتا پھرتا رہا…کرشن کی داستانیں مکھن چرانے اور لڑکیوں کو چھیڑنے پر ختم ہو جاتی ہیں… ایسی شرمناک اور بزدلانہ تاریخ رکھنے کے باوجود تم کس منہ سے… آج حضرت ٹیپو سلطان شہید کو گالیاں بک رہے ہو…تمہارے بڑے تو ’’ٹیپو‘‘ کے قدموں پر گرے رہے اور آج جبکہ انگریزوں کی چاپلوسی کے عوض تمہیں ہندوستان کی حکومت ملی ہے تو تم… اپنے باپ دادا کی بھی نمک حرامی کر رہے ہو…

ہمت ہے تو… اپنی تاریخ میں سے ایک شخص ’’حضرت ٹیپو سلطان شہید‘‘ جیسا لے آؤ… تم کس منہ سے حضرت ٹیپو سلطان کے کردار پر انگلی اُٹھاتے ہو؟…آج ساری دنیا میں بے حیائی کا کاروبار تمہاری وجہ سے چل رہا ہے… تمہارے مذہبی رہنما سرتاپا بے حیائی، عیاشی اور فحاشی میں ڈوبے ہوئے ہیں… ابھی اپنے گرو… رام گورمیت سنگھ کے کارنامے دیکھ لو… تمہیں اپنے بابا سائی ستیہ مہاراج پر بڑا فخر ہے… وہ مر گیا تو اس کے کمرے کی الماری سے منوں کے حساب سے چھپایا ہوا سونا ملا … کہاں ٹیپو سلطان اور کہاں تم… ظالمو! چاند پر تھوک رہے ہو… اسی لئے تمہارا منہ تمہاری تھوک سے بدبودار ہو رہا ہے… تمہاری پوری تاریخ بانجھ ہے… شرمناک ہے … اور تمہارے دامن میں سوائے گالیاں دینے کے اورر کھا ہی کیا ہے؟

مہربانی فرما کر صفائی نہ دیں

حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ… کو ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کی برکت حاصل تھی… یہ مبارک کلام ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ … خیر و برکت کی چابی ہے… سلطان نے اپنے پاکیزہ بچپن میں ہی اس مبارک کلام ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کے راز کو سمجھ لیا تھا… اسی لئے محض اڑتالیس سال کی زندگی میں… صدیوں کا کام کر گئے… وہ اپنے ہر حکمنامہ اور ہر بات سے پہلے ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ پڑھنے اور لکھنے کے عادی تھی… ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ نے اُن کے کام اور اوقات کو برکت سے بھر دیا تھا… وہ 20  ذو الحجہ بروز جمعہ 2 نومبر 1750؁ء کو پیدا ہوئے… پانچ سال کی عمر سے قرآن مجید ، عربی اور فارسی کی تعلیم شروع ہو گئی …1782؁ء میں اپنے والد محترم جناب حیدر علی کی وفات کے بعد…وہ اس سلطنت کے فرمانروا بنے…جس سلطنت کانام ’’ مملکت خداداد‘‘ تھا … انہوں نے ’’بادشاہت‘‘ کو عہدہ نہیں … اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھا… اس لئے عیاشی تو دور کی بات انہوں نے اپنے سترہ سالہ دور حکومت میں … کبھی جی بھر کر آرام تک نہیں کیا… وہ صاحب علم بھی تھے اور صاحب عمل بھی… وہ صاحب دل بھی تھے اور صاحب فراست بھی… وہ صاحب تلوار بھی تھے اور صاحب قلم بھی… انہوں نے اپنی تلوار سے جہادی معرکے لڑے تو اپنے قلم سے … مجاہدین کے لئے ایک آئین مرتب کیا… اور اس پر ’’فتح المجاہدین‘‘ کے نام سے پوری ایک کتاب لکھی… اللہ کرے وہ کتاب کہیں سے مل جائے اور ہم اسے دوبارہ شائع کر سکیں… سلطان ٹیپو شہید کے کارناموں کی تفصیل اس قدر زیادہ ہے کہ… اب تک درجنوں کتابیں ان کے بارے میں لکھی جا چکی ہیں مگر ابھی تک… ان کی سوانح کا حق ادا نہیں ہوا… حق ادا بھی کیسے ہو… ایسا عقلمند ، ذہین، بہادر بادشاہ جو اپنے سامنے اپنے پانچ معاونین کو بٹھا کر … ہر ایک کو الگ الگ احکامات اور فرامین لکھواتا تھا… اور اس دوران اُن پانچوں کا قلم نہیں رکتا تھا…

ایسا بہادر جو اپنی آخری جنگ میں بھی… ایسی شان سے لڑا کہ اُس کی لاش کو دیکھ کر… دشمن رعب زدہ ہو گئے… شہادت کے بعد بھی سلطان کا ہاتھ اپنی تلوار کے قبضے پر مضبوطی سے جما ہوا تھا… اور تمام زخم سینے پر لگے تھے… اُمت مسلمہ کا ایسا خادم کہ جس نے اپنی سلطنت میں مساجد اور تعلیم گاہوں کا وسیع نظام قائم کر دیا… ایسا زیرک کہ جس نے روئے زمین پر سب سے پہلے میزائل اور راکٹ ایجاد کیا… ایسا سمجھدار کہ اس نے اپنے خطے میں آب پاشی کے نظام کو ایک مثالی شکل دے دی… کل میں ایک رپورٹ میں پڑھ رہا تھا کہ …مودی کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے… اور اس کی پالیسیوں نے انڈیا کی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے … جبکہ حضرت ٹیپو سلطان شہید کی مقبولیت کا سترہ سالہ حکومت کے بعد بھی یہ عالم تھا کہ… جب اُن کا جنازہ اُٹھایا گیا تو لاکھوں انسان بلک بلک کر رو رہے تھے… پھر آسمان بھی اُن کے ساتھ رونے میں شریک ہو گیا … ایسے بادل گرجے ، ایسی بجلی کڑکی اور ایسی موسلا دھار بارش برسی کہ… پہلے اس کی مثال بہت کم ملتی ہے… ہمیں فخر ہے کہ حضرت ٹیپو سلطان مومن تھے، مسلمان تھے… مجاہد تھے… اور بالآخر شہید ہوئے…

آج ہندوستان میں کئی مسلمان… حضرت اورنگ زیب عالمگیر اور حضرت ٹیپو سلطان شہید کی صفائی دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں… اور نعوذ باللہ ان عظیم المرتبت مجاہدین کو ’’گاندھی‘‘ بنا کر دم لیتے ہیں… ٹھیک ہے آج ’’ہند‘‘ کے مسلمان بہت مجبور اور بے بس ہیں…مگر اُن کو یہ تو زیب نہیں دیتا کہ… اپنے اسلاف کے جہاد کا ہی انکار کر دیں… اور اُن کو بھی ’’فاختہ‘‘ بنا کر پیش کریں… یا ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے عصر حاضر کے مسلمان مجاہدین کو ’’دہشت گرد‘‘ کہنے لگیں … عمران پرتاب گڑھی جیسے کچھ شعراء اور کئی مسلمان سیاستدان… بی جے پی کے خلاف بول کر مسلمانوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں… لیکن جب وہ اپنے اسلاف کی ’’صفائی‘‘ دینے پر آتے ہیں… اور جس انداز میں وہ اُن کے کارناموں کومسخ کرتے ہیں… اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے… ہندوستان کے مسلمانوں کی ’’ بے بسی‘‘ عارضی ہے… یہ ان شاء اللہ بہت جلد ختم ہو جائے گی… جبکہ ہماری تاریخ اور ہمارے اسلاف کے کارنامے اٹل ہیں…اُن کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہے… اسلام ہمیشہ سے اقلیتوں پر ظلم کا مخالف ہے… صلاح الدین ایوبی سے لے کر ٹیپو سلطان تک… مسلمان حکمرانوں نے… نہتے غیر مسلموں پر کبھی ہاتھ نہیں اُٹھایا…مگر جو اُن کے مقابلے میں اُترا اسے انہوں نے بخشا بھی نہیں … اورنگ زیب عالمگیر کی شیواجی سے لڑائی جہاد تھا…سیاسی جنگ نہیں… ٹیپو سلطان نے بھی ہندو رعایا کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا… مگر وہ مجاہد تھا اور اسلام کا خادم …اگر ہندوستان کے موجودہ شعراء اور سیاستدانوں میں… اپنے اسلاف کے کارناموں کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے تو… کوئی بات نہیں…

مگر اتنی گزارش ضرور ہے کہ… آپ اُن حضرات کی ایسی صفائیاں نہ دیں کہ جن سے… آپ کو ’’روز محشر‘‘ اللہ تعالیٰ کے حضور … اور اُن حضرات کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے… آپ قرآن مجید کی روشنی میں… اپنے ’’ہند‘‘ کے اسلاف کی تاریخ پڑھیں… پھر اسے بیان کر سکیں تو آپ کو بڑا اجر ملے گا… لیکن اگر بیان نہیں کر سکتے تو اتنا رحم ضرور کھائیں کہ اُن کی غلط صفائیاں نہ دیں… وہ الحمد للہ صاف ہیں … باکردار ہیں … نہ وہ مودی جیسے تھے… اور نہ ایڈوانی جیسے … یہ تو بس چند دن کا غبار ہے جو ان شاء اللہ بہت جلد چھٹ جائے گا…

مسلم ہندی کا حجازی رنگ

ہندوستان کے ایک وزیر نے… حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی شان میں گستانی بکی تو آج… قلم حضرت ٹیپو شہیدؒ کے بوسے لینے لگا… ارادہ تھا کہ بہت تفصیل سے اُن کے بارے میں لکھوں گا … مگر اچانک خون گرم ہو گیا ہے… خون گرم ہو تو ہاتھ کپکپانے لگتے ہیں… اللہ تعالیٰ ’’ہند‘‘ میں جہاد کو زندہ فرمائے… بس مزید کیا لکھوں … ایک شاعر نے حضرت ٹیپو سلطانؒ کی شان میں چند اشعار کہے ہیں… بہت گہرے اور معنی خیز اشعار ہیں… اُنہیں پر… اپنی آج کی مجلس کا اختتام کرتے ہیں… غور سے پڑھیں اور معانی سمجھنے کی کوشش کریں…

اے شہیدِ مردمیدانِ وفا تجھ پر سلام

 تجھ پہ لاکھوں رحمتیں لا انتہا تجھ پر سلام

ہند کی قسمت ہی میں رسوائی کا سامان تھا

ورنہ تو ہی عہد آزادی کا اک عنوان تھا

اپنے ہاتھوں خود تجھے اہل وطن نے کھو دیا

آہ کیسا باغباں شام چمن نے کھو دیا

بت پرستوں پہ کیا ثابت یہ تو نے جنگ میں

مسلم ہندی قیامت ہے حجازی رنگ میں

عین بیداری ہے یہ خواب گراں تیرے لئے

ہے شہادت اک حیات جاوداں تیرے لئے

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online