Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

الی ذکر اللہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 618 - Ila Zikrillah

الی ذکر اللہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 618)

اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں؟ اے اللہ کے پیارو … اللہ تعالیٰ کی رضاء کے طلبگارو!… اللہ تعالیٰ کے وفادارو!سنو، سنو اللہ تعالیٰ تمہیں آواز دے کر پکار رہے ہیں!

یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا…

اے ایمان والو… اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہے… اے اللہ تعالیٰ سے شدید محبت رکھنے والو…

وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا اَشَدُّ حُباًّ لِلّٰہ…

 

یہ اٹھائیسواں پارہ ہے… سورت کا نام ’’سورۃ الجمعہ‘‘ ہے… ارشاد فرمایا:

یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا( الآیہ)

ترجمہ: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم کو سمجھ ہے ( سورۃ الجمعہ آیت ۹)

اس آیت مبارکہ سے پہلے یہودیوں کا تذکرہ ہے… اُن کے پاس علم بہت تھا، بہت سی باتیں سمجھتے بوجھتے تھے… مگر عمل میں بہت پیچھے تھے… اس گدھے کی طرح جس پر کتابیں لدی ہوں… مگر اسے اُن کتابوں کا کیا فائدہ؟ … وجہ یہ تھی کہ… یہودی دنیا پرست تھے… مال کے لالچی اور حریص … زبان سے دینداری اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے دعوے بہت کرتے تھے… مگر دنیا کی حرص اور لالچ کی وجہ سے دین کی خاطر کوئی قربانی نہیں دیتے تھے …یہاںتک کہ دنیا کے دھندوں میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کی سچی یاد سے بھی غافل ہو جاتے تھے… اس آیت میں مسلمانوں کو سمجھایا گیا کہ… یہودیوں کی طرح مت بننا… اور جمعہ کے دن کی عبادت کی بہت قدر کرنا… جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو فوراً مسجد میں پہنچ جانا، خاموشی سے خطبہ سننا اور نماز ادا کرنا… حدیث میں ہے کہ… جو کوئی خطبہ کے وقت بات کرے وہ اس گدھے کی طرح ہے جس پر کتابیں لدی ہوں… یعنی اس کی مثال یہود کی سی ہوئی العیاذ باللہ ( مفہوم تفسیر عثمانی)

صرف خرید وفروخت ہی نہیں

تفسیر بغوی میں ہے:

وقال الضحاک اذا زالت الشمس حرم البیع والشراء

(ترجمہ) حضرت امام ضحاکؒ فرماتے ہیں جب جمعہ کے دن سورج کا زوال ہو جائے… یعنی نماز جمعہ کا وقت داخل ہو جائے تو خرید و فروخت حرام ہو جاتی ہے ( تفسیر بغوی)

حضرت عطاء بن رباح ؒ فرماتے ہیں: جب جمعہ کی پہلی اذان ہو جائے تب خرید و فروخت، صنعت و حرفت ، کتابت ( یعنی کچھ لکھنا) بیوی کے پاس جانا، کھیل تفریح سب منع ہے ( کمالین)

حضرت مفتی شفیع ؒ لکھتے ہیں:

’’ باتفاق فقہائے امت یہاں ’’ بیع‘‘ سے مراد فروخت کرنا نہیں… بلکہ ہر وہ کام جو جمعہ کی طرف جانے کے اہتمام میں مخل ہو ، وہ سب ’’ بیع‘‘ کے مفہوم میں داخل ہے… اس لئے اذان جمعہ کے بعد کھانا پینا، سونا، کسی سے بات کرنا ، یہانتک کہ کتاب کا مطالعہ کرنا وغیرہ سب ممنوع ہیں ( معارف القرآن)

ایک فتویٰ

ایک صاحب نے دارالعلوم دیوبند کے دار الافتاء سے یہ مسئلہ معلوم کیا:

’’ میں مسجد کے گیٹ پر جمعہ کے دن ٹوپی، عطر ، کتابیں بیچتا ہوں، مجھے کسی شخص نے کہا کہ پہلی اذان کے بعد کاروبار کرنا حرام ہے تو میں اس کے بعد اذان ہوتے ہی سامان پر کپڑا ڈال دیتا مگر جب اذان کے بعدمیں جانے لگتا تو لوگ ٹوپی مانگتے، میں اُن کو کہتا کہ بعد میں لینا اب بند ہو گیا ہے تو لوگ ناراض ہوتے کہ… ٹوپی نماز کے لئے چاہیے بعد میں کیا کرنی ہے… اب اس حالت میں میرے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟

دارالافتاء نے جواب دیا:

جمعہ کی پہلی اذان کے بعد جمعہ کے لئے سعی کرنا ضروری ہے اور کاروبار خریدو فروخت ناجائز ہے اور مکروہ تحریمی ہے… مسجد اور مسجد کے گیٹ پر بیچنا خریدنا زیادہ گناہ ہے لہٰذا آپ اذان اول کے بعد سامان فروخت کرنا بند کر دیں، لوگوں سے کہیں کہ وہ پہلے ہی ٹوپیاں خرید لیا کریں، کیونکہ جس طرح فروخت کرنا ممنوع ہے، خریدنا بھی ممنوع ہے ، دوسروں کی وجہ سے خود کو گناہ میں ڈالنا مناسب نہیں  ( دارالافتاء دارالعلوم دیوبند)

حضرت ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں:

اس بارے میں ایک دوسرا قول یہ ہے کہ محلے کی اذان کے ساتھ سعی واجب ہو گی اور خریدو فروخت ممنوع ہو گی اور یہی دوسرا قول زیادہ وزنی معلوم ہوتا ہے… جوتاجر اپنے ملازمین کے لئے باریاں مقرر کرتے ہیں یا خود ایسا کرتے ہیں تاکہ عبادت بھی ہو جائے اور تجارت کا بھی حرج نہ ہو وہ ناجائز حیلہ کرتے ہیں ( آپ کے مسائل اور ان کا حل)

شیطانی بدعت

جمعہ کے دن کے فضائل ’’ بے شمار‘‘ ہیں… یہ دن زمین، آسمان سے لے کر جنت اور جہنم تک اپنے اثرات رکھتا ہے… یہ سب سے بہترین، سب سے زیادہ خیر والا اور افضل دن ہے… اور یہ دن صرف امت محمد ﷺ کو نصیب ہوا ہے… اور اس دن نے اس امت کو بہت عظیم ترقی دی ہے… یہ دن دوسرے دنوں کے مقابلے میں اس طرح ہے جس طرح رمضان المبارک باقی مہینوں کے مقابلے میں… اس دن کی سب سے اہم عبادت جمعہ کی نماز ہے… اور جمعہ کی نماز میں جلدی آنے کے بڑے عظیم الشان فضائل ہیں…حتی کہ احادیث مبارکہ میں یہاںتک آیا ہے کہ… جمعہ نماز کے لئے جلدی جانے والوں کو ایک ایک قدم پر… ایک ایک سال کے قیام و صیام کا اجر ملتا ہے… اور یہ اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں… حضرت امام غزالیؒ نے لکھا ہے کہ… پہلے زمانے میں… مسلمان صبح فجر سے پہلے اور فجر کے وقت ہی جامع مسجد کی طرف روانہ ہو جاتے تھے…اور جمعہ ادا کرنے  تک وہاں رہتے تھے… حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک بار اسی طرح جلد جامع مسجد پہنچے تو… تین افراد ان سے پہلے پہنچ چکے تھے… اس پر انہوں نے اپنے نفس کو ملامت فرمائی… مگر اب کیا حالات ہیں؟… آپ اگر جلدی جمعہ نماز کے لئے چلے جائیں تو… مساجد بند ملتی ہیں… عام لوگوں کو تو چھوڑیں… دین کا علم رکھنے والے بھی اس عمل سے اکثر غافل نظر آتے ہیں… صبح صبح جانا تو درکنار… آپ زوال کے وقت بھی چلے جائیں تو بعض لوگ گھبرا جاتے ہیں اور مسجد بھی اکثر بند ملتی ہے… آخر یہ زوال کس طرح سے آ گیا…

جمعہ کے فضائل آج بھی لوگوں کو معلوم ہیں… جمعہ نماز کے لئے جلدی آنے کے فضائل کا بھی… علماء اور عوام کو علم ہے… مگر پھر عمل کیوں نہیں؟…

حضرت امام غزالیؒ کا خیال ہے کہ … شیطان نے مسلمانوں کو ’’عظیم خیر‘‘ سے محروم کرنے کے لئے سب سے پہلے جو ’’بدعت‘‘ ایجاد کی… وہ یہی ہے کہ… مسلمانوں نے جمعہ نماز کے لیے جلدی آنا چھوڑ دیا… امام صاحب لکھتے ہیں:

قرن اول میں سحر کے وقت اور صبح صادق کے بعد راستے آدمیوں سے بھر جاتے تھے کہ روشنی لے کر…عید کے دنوں کی طرح جامع مسجد کی طرف مجمعے بڑھتے تھے، یہاں تک کہ یہ بات پرانی ہو گئی اور جاتی رہی اور کہتے ہیں کہ اسلام میں اول بدعت یہی ہوئی کہ جمعہ کے روز سویرے جانا چھوڑ دیا… اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ سے بھی شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے عبادت خانوں میں ہفتے اور اتوار کو سویرے جاتے ہیں اور دنیا کے طالب، خرید و فروخت اور نفع کے بازاروں میں کیسے صبح سویرے جاتے ہیں… ( احیاء العلوم جلد اول)

امام صاحب نے سچ فرمایا… دراصل جمعہ کے دن جلدی جمعہ نماز کے لئے جانے سے جو ’’خیر‘‘  ملتی ہے… وہ بڑی قیمتی ہے… اور شیطان نہیں چاہتا کہ وہ مسلمان اس خیر کو پالیں… چنانچہ اب تو رواج ہی ختم ہو گیا… اور ہر طرف محرومی نے اپنے جال بچھا دئیے… اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ’’بندہ‘‘ تیس سال سے مسلمانوں کو اس کی دعوت دے رہا ہے… زندگی کا جو پہلا پمفلٹ لکھا وہ اسی موضوع پر تھا… دہلی کالونی کراچی کے ایک دوست نے …اس مختصر پمفلٹ کے دس ہزار اسٹیکرز چھپوائے … پھر بیانات بھی اس موضوع پر ہوتے رہے… اور الحمد للہ ماحول میں اچھی تبدیلی آ ئی… اور بیان شروع ہونے سے پہلے کافی لوگ مسجد پہنچنے لگے… مگر عمومی طور پر اس ’’دعوت‘‘ کو کامیابی نہیں ملی… ہر محلے اور مسجد میں بس دوچار افراد اس پر عمل کرتے ہیں… وجہ یہ ہے کہ جن کے ذمہ یہ مسئلہ سمجھانا تھا… وہ خود ابھی تک جمعہ کی اس ’’خیر عظیم‘‘ کی طرف اجتماعی طور پر متوجہ نہیں ہیں… آج اُمت مسلمہ کو بہت زیادہ ’’خیر‘‘ کی ضرورت ہے… حضرات علماء اور خطباء کو چاہیے کہ… پہلے اس مسئلے کو ایک بار مکمل توجہ اور شعور سے پڑھیں… ’’ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّکُمْ‘‘ کی صدا کو اپنے دل میں بٹھائیں… اس پر مستقل عمل کریں… اور پھر مسلمانوں کو اس کی دعوت دیں … آج تو نعوذ باللہ… خیر کی جگہ عذاب کو دعوت دی جا رہی ہے… کھلم کھلا کاروبار بھی چلتا ہے… بازار بھی بھرے رہتے ہیں… اور اُمت کی اکثریت جمعہ کی خیر، جمعہ کی برکت اور جمعہ کی قوت سے محروم رہتی ہے…

تفصیل چھوڑیں، عمل اپنائیں

اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو صدا لگا دی کہ… اذان کے بعد ’’ذکر اللہ‘‘ کی طرف لپکنا ہے… ’’فاسعوا ‘‘ کے معنی دوڑنے کے نہیں … بلکہ شوق اور اہتمام کے ساتھ جلدی جانے کے ہیں … ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما دیا کہ… اس لپکنے پر تمہیں ’’خیر‘‘ ملے گی… سبحان اللہ… اللہ تعالیٰ کی طرف سے’’ خیر‘‘کا وعدہ… آج کل لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ… کوئی صاحب کشف ملے جو ہمیں بہتری اور کامیابی کا کوئی راز بتا دے … کوئی نجومیوں کے پاس جا کر پوچھتا ہے کہ خیر ملنے کی کیا صورت ہے؟…قسمت کب اچھی ہو گی؟…

یہاں اللہ تعالیٰ نے جو علیم و خبیر اور خالق کائنات ہیں… خود فرما دیا کہ جمعہ کے دن جمعہ اذان کے بعد… خیر ملتی ہے… مگر ان کو جو اس وقت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر… مسجد میں اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی خطبہ اور نماز کے لئے جلدی پہنچ جاتے ہیں…

ایک سچے مسلمان کے لئے… اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اور وعدہ کافی ہے… اب اس میں مزید کسی تفصیل کی ضرورت نہیں… بلکہ ضرورت اس کی ہے کہ ہر کوئی دوسرے سے بڑھ کر عمل کرے… اور اپنی دنیا اور آخرت کو خیر، بہتری اور کامیابی سے بھر لے… باقی رہی اس مسئلے کی تفصیل تو وہ حضرات علماء کرام کے سمجھنے، سمجھانے کی چیز… اور عذر کے وقت رخصت دیکھنے کے لئے ہے… مثلاً خرید و فروخت کا ناجائزہونا کب سے شروع ہو گا؟… زوال کے بعد سے یا اذان کے بعد؟… اذان سے پہلی اذان مراد ہے یا دوسری اذان؟… اگر اذان کے بعد خرید و فروخت کر لی تو اس کا کیا حکم ہے؟ … جمعہ اذان کے بعد خریدی ہوئی چیز کا استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟…اور بیچی ہوئی چیز کی قیمت حلال ہے یا حرام؟…

آج کل ہرشہر میں… کئی جگہوں پر مختلف اوقات میں جمعہ ہوتا ہے تو… سعی یعنی جمعہ کی طرف جانے کا وجوب… اور ’’بیع‘‘ یعنی خرید و فروخت کی حرمت کس مسجد کی اذان سے شروع ہو گی؟…

یہ اور ایسے چند دیگر سوالات… اگر آپ تفصیل معلوم کرنا چاہتے ہیں تو مستند علماء کرام یا مستند کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں…مگر عمل کے لئے سب سے بہتر اور احتیاط والی صورت بس یہی ہے کہ… جمعہ کے دن زوال سے پہلے جمعہ کے لئے تیار ہو جائیں… اور جیسے ہی جمعہ کا وقت داخل ہو …جمعہ کی پہلی اذان ہو فوراً جمعہ نماز کے لئے مسجد پہنچ جائیں… اور اگر اس سے بھی پہلے پہنچ سکتے ہوں تو بہت اچھا ہے…

اللہ کرے دل کا یہ درد… بے شمار دلوں تک پہنچ جائے… اور بہت سے مسلمان اس عمل کو… اپنی زندگی کا لازمہ بنا لیں… تاکہ وہ بھی خیر پائیں… اور اُمت مسلمہ کو بھی… بڑی خیر نصیب ہو…

آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online