Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

قرآن اور سائنس (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 624 - Quran aur Science

قرآن اور سائنس

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 624)

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ’’قرآن مجید‘‘ کا’’ علم‘‘ عطاء فرمائے… نور ہی نور، روشنی ہی روشنی، رحمت ہی رحمت…

اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہم نے بہت ’’ناقدری‘‘ کی… ایسی عظیم الشان کتاب سے ’’فائدہ‘‘ نہ اُٹھایا… معلوم نہیں کیا کیا پڑھتے رہے … کیا کیا دیکھتے رہے… مگر نہ قرآن مجید کو پڑھا، نہ سمجھا… نہ غور کیا…جب حضرت آقا مدنیﷺ نے قیامت کے دن فرما دیا کہ… یا اللہ! میری قوم نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا تھا… تب ہمارا کیا بنے گا؟ کیا بنے گا؟…

 

درد یاد آ گیا

بات تو آج قرآن مجید ہی کی کرنی ہے ان شاء اللہ… مگر ابھی خبریں دیکھتے ہوئے ایک درد یاد آ گیا … حکومت نے انڈین جاسوس کلبھوشن یادو کی… اس کے رشتہ داروں سے ملاقات کرائی ہے … حکومت نے اچھا کیا یا بُرا… اللہ ہی جانے… پاکستان میں انڈین لابی کافی سرگرم ہے… انڈیا کے جگری یار سیاست سے لے کر صحافت تک ہر جگہ طاقت میں ہیں… یہ لوگ پاکستان کو… انڈیا کی کالونی بنانا چاہتے ہیں… یہی لوگ حکومت میں بھی موجود ہیں… ان کے نزدیک انڈیا کو خوش کرنے سے ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے… یہ لوگ نہ ستر سال کی تاریخ سے واقف ہیں… اور نہ ان کو برہمنی سامراج کے عزائم کا کچھ ادراک ہے… انہی لوگوں کی کوشش سے… ’’کلبھوشن‘‘ کی اس کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی ہے… حالانکہ ’’ کلبھوشن‘‘ ایک غیر ملکی ہے… جبکہ بھائی محمد افضل گورو شہید… مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے تھے اور دہلی کی تہاڑ جیل میں تھے… انڈیا اپنے قانون کے مطابق ان کو ’’انڈین شہری‘‘ قرار دیتا تھا… مگر جب ان کو پھانسی کے ذریعے شہید کرنے کا ’’کالا فیصلہ‘‘ ہوا تو اُن کے اہل خانہ سے اُن کی ملاقات نہیں کرائی گئی … وجہ یہ کہ افضل گورو… مسلمان تھے، باریش تھے… اور اُن کے نام کے ساتھ ’’جہاد‘‘ کا تعلق جڑا ہوا تھا…

ابھی چند دن پہلے اطلاع ملی کہ… تہاڑ جیل دہلی میں پاکستانی قیدیوں کے ساتھ… بہت ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے… کئی قیدیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے… ان میں سے بعض قیدی بیس سال سے جیل میں ہیں… مگر انڈیا نے کبھی یہ گوارا نہیں کیا کہ… اُن قیدیوں کی اُن کے اہل خانہ سے ملاقات کرائے… جبکہ ہماری حکومت نے ایک قاتل جاسوس سے… اس کے اہل خانہ کی پر اہتمام ملاقات پر قوم کے کروڑوں روپے خرچ کر دئیے…

اب شاید دنیا میں ’’باعمل مسلمان‘‘ ہونا ہی سب سے بڑا جرم بن چکا ہے… اسی لئے ہر ظلم اور زیادتی ’’ باعمل مسلمانوں‘‘ پر ہی کی جاتی ہے …پاکستان کے انڈین نواز لیڈر اور صحافی… ایک طرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جہاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے… باعمل پاکستانیوں پر پابندی لگائی جائے…اُن پر مقدمات چلائے جائیں …اُن کو انڈیا کے حوالے کیا جائے…جبکہ دوسری طرف یہی افراد… بھارتی جاسوس کے تمام انسانی حقوق ادا کرنے کے لئے… اس کے سگے بھائیوں کی طرح سرگرم ہیں…

قرآن مجید سے دوری

آج دنیا کی غیر مسلم قوموں کے پاس جو ’’فنون‘‘ یا علوم ہیں… اُن کو انہوں نے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے… اور اُن ’’فنون‘‘ کی وجہ سے وہ خود کو برتر ثابت کرتے ہیں… معلوم نہیں کہ وہ ’’چاند‘‘ پر گئے ہیں یا نہیں؟… فلم ، ویڈیو اور تھری ڈی کے دھوکے بہت وسیع ہیں… آج کئی لوگ اپنے گھر میں بیٹھ کر کمپیوٹر کے ذریعہ … خود کو پوری دنیا کی سیر کرالیتے ہیں… اور دنیا کے تاریخی مقامات پر اپنی موجودگی دکھا دیتے ہیں … لیکن چونکہ ہم لوگ احساس کمتری میں ڈال دئیے گئے…اس لئے جب امریکہ وغیرہ نے اعلان کیا کہ ہم چاند پر ہو آئے ہیں تو ہم نے… بغیر کوئی ثبوت مانگے فوراً تسلیم کر لیا… اور اُن کے چاند پر جانے کو اپنے طنزیہ محاوروں کا حصہ بنا لیا… مثلاً دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے جبکہ ہم ٹوپی مسواک میں اٹکے ہوئے ہیں … دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے جبکہ ہمارے مولوی ہمیں پتھر کے زمانے میں دھکیلناچاہتے ہیں… تب ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ پتھر کے زمانے کا انسان بہت طاقتور اور خوشحال تھا… آج اگر اُن میں سے کسی ایک کو اللہ تعالیٰ زندہ کر کے لے آئے… تو اسے دیکھ کر ہمارے زمانے کے لوگ… اس جیسی صحت، طاقت اور خوشی حاصل کرنے کے لئے…اربوں روپے خرچ کر ڈالیں گے…

غیر مسلموں نے اپنے فنون اور اپنی ترقی کا ایسا جادو چلایا کہ… مسلمانوں نے نعوذ باللہ اُن کو برتر سمجھ لیا اور کبھی یہ نہ سوچا کہ… مسلمانوں کے پاس’’ قرآن  عظیم الشان‘‘ موجود ہے… عزت اور غلبے والی کتاب…ایسا علم کہ جس کے مقابلے کا کوئی علم ہی نہیں… ایسا نور کہ اس کے مقابلے کی کوئی روشنی نہیں… آج مسلمان جو دنیا کی قوموں سے پیچھے ہیں… اس کی یہ وجہ ہرگز نہیں کہ ان کے پاس سائنس نہیں ہے… علم نہیں ہے … بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس اقتدار نہیں ہے… عمومی جہاد نہیں ہے… جہاد اور اقتدار نہ ہونے کی وجہ سے …ہمارا سرمایہ لوٹ لیا جاتا ہے … ہماری صلاحیتوں کو غصب کر لیا جاتا ہے… اور ہمیں دن رات احساس کمتری کے گڑھے میں دھکیلا جاتا ہے…

حالانکہ… ہمارے پاس عزت کا سب سے بڑا راز موجود ہے… اور وہ ہے ’’قرآن مجید‘‘… عزت کا یہ راز… مسلمانوں کے علاوہ کسی کے پاس موجود نہیں ہے… مگر افسوس کہ ہم مسلمانوں نے قرآن مجید کی قدر نہیں کی… ہم نے اسے صرف ختم ، ایصال ثواب… اور دم درود کی چیز سمجھ لیا ہے… نعوذ باللہ ہم نے… قرآن مجید کو وہ احترام نہیں دیا جس کا وہ مستحق ہے… دنیا کے اٹھانوے فی صد مسلمانوں کو… قرآن مجید کے علم کا پتا تک نہیں …اور جو دو فیصد مسلمان قرآن مجید کا علم رکھتے ہیں… اُن میں سے بھی… بہت کم اس میں غور اور تدبر کرتے ہیں…ہم میں ایسے افراد بھی پیدا ہو گئے ہیں… جو غیر مسلموں کی عینک لگا کر قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں… اور قران مجید کو کھینچ تان کر…سائنسی تحقیقات کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں… ہم میں ایسے افراد بھی ہیں… جو حضور اقدس ﷺ کی انگلی مبارک پکڑے بغیر… یعنی حدیث اور سنت کے بغیر قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں… جو کہ ناممکن ہے… بالکل ناممکن ہے…اور ہم میں سے ایسے لوگ بھی مسلمان کہلاتے ہیں… جو نعوذ باللہ قرآن مجید کے علم اور تعلیم کو حقیر سمجھتے ہیں … وہ نہ خود قرآن مجید کو سمجھتے ہیں اور نہ دوسروں کو قرآن مجید سے جڑنے دیتے ہیں… ہائے افسوس… علم، نور اور عزت کا یہ عظیم خزانہ ہم سب کے قریب موجود ہے… مگر ہم اپنی بد نصیبی کی وجہ سے… اس سے کس قدر دور ہیں… کس قدر محروم ہیں…

سائنس کی مخالفت نہیں ہے

آج ہر طرف سے یہ غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ… امت کے علماء اور مجاہدین ’’سائنس‘‘ کے مخالف ہیں… ثبوت یہ پیش کیا جاتا ہے کہ …علماء نے لاؤڈ اسپیکر کی مخالفت کی تھی… پرنٹنگ پریس کی مخالفت کی تھی وغیرہ وغیرہ… حالانکہ یہ سب جھوٹ ہے… علماء جدید آلات پر بحث ضرور کرتے رہے ہیں…کیونکہ ہماری شریعت… ایک جامع شریعت ہے… ہم پر ہر معاملے میں شریعت کے احکامات لاگو ہوتے ہیں … مثلاً کوئی عیسائی پوری بائبل پڑھ لے… اس کو نہ سجدے کی فکر ہے نہ پاکی کی… مگر ہم قرآن مجید کی چودہ آیات پر سجدہ کرتے ہیں… اب جب قرآن مجید کی تلاوت ریکارڈ ہونے لگی تو… سوال اُبھرا کہ… ریکارڈنگ میں آیت سجدہ سننے پر سجدہ ہو گا یا نہیں؟… لاؤڈ اسپیکر پر بھی ابتدائی زمانے میں… اسی طرح کی بحث اور غوروفکر ہوا کہ… اس سے آنے والی آواز اصل قرار دی جائے گی…یا اس کا حکم بازگشت کا ہو گا… اگر مسلمان علماء اس پر بحث کرتے رہے ہیں کہ… مچھر کا خون کپڑوں پرلگنے کا کیا حکم ہے؟… تو اس بحث کا مذاق کیوں اُڑایا جاتا ہے؟… اسے حقارت کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟… ناپاک قسم کے جاہل صحافی بس انہی دوچار مثالوں کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور پوری علماء برادری کو سائنس اور ترقی کا مخالف قرار دے دیتے ہیں…

دنیا میں مچھر بھی موجود ہیں… اور ان کا خون بھی… تب ضرور اس کا کوئی شرعی حکم بھی ہو گا … جب بھی کوئی نئی ایجاد آئے گی… اس کا بھی ہمارے بہت سے احکامات سے تعلق ہو گا … اور امت کے علماء اپنی سعادت سمجھ کر…ان معاملات پر غور اور تحقیق کرتے رہیں گے… ایک یہودی نے ایک جلیل القدر صحابی کا اسی طرح مذاق اُڑانے کی کوشش کی تھی… جس طرح آج کئی صحافی اور دانشور ، علماء کرام کا مذاق اُڑاتے ہیں … اس یہودی نے صحابی سے کہا… سنا ہے آپ کے نبی آپ کو’’ بیت الخلائ‘‘ کے احکامات بھی سکھاتے ہیں؟ … مقصد مذاق اُڑانا تھا کہ… تمہارا دین اتنا حقیر ہے کہ… ایسی معمولی اور ذاتی باتوں میں پڑا رہتا ہے… مگر سامنے حضرت آقا مدنی ﷺ کے صحابی تھے… وہ نہ شرمندہ ہوئے اور نہ احساس کمتری میں گرے… بلکہ بڑے فخر سے فرمایا کہ ہاں کیوں نہیں؟… ہمیں حضرت محمدﷺ نے سکھایا ہے کہ ہم جب بیت الخلاء میں جائیں تو … قبلہ کی طرف رخ نہ کریں اور نہ پیٹھ…

مفید اور تابع سائنس

ایسی ایجادات اور ایسی سائنس جو نفع مند ہو … اور شریعت کے قطعی اصولوں کے تابع ہو… وہ اس زمانے میں مسلمانوں کی بڑی ضرورت ہے … اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا ہے… کلمہ طیبہ… لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں عجیب تاثیر ہے… جو مسلمان دل کی گہرائی میں اس کلمے کو اُتارتا ہے وہ ہر میدان میں باصلاحیت اور کامیاب ہوتا ہے… آج اگر مسلمانوں کو امت کا درد رکھنے والے حکمران نصیب ہو جائیں… اور وہ سائنسی تعلیم کے ادارے بنائیں…اور باعمل مسلمان نوجوان ان اداروں سے تعلیم پائیں اور اپنی خدمات کو… حرص و ہوس کے تابع نہ بنائیں تو… مسلمان اس میدان میں غیر مسلموں سے بہت آگے نکل سکتے ہیں… مگر آج حالت یہ ہے کہ… دل میں نہ اسلام کی محبت ہے اور نہ مسلمانوں کا درد… بس مال کا حرص… اور کافروں کی عظمت دلوں میں بھری ہوئی ہے… اسی لئے نہ کوئی مسلمان باصلاحیت سائنسدان سامنے آ رہا ہے اور نہ مسلمانوں کو اس میدان میں کچھ سبقت مل رہی ہے … علماء اور مجاہدین نے نہ تو لوگوں کو سائنس سے روکا ہوا ہے… اور نہ انہوں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تالے لگا رکھے ہیں… وہ تو صرف اتنی سی درخواست کر رہے ہیں کہ… ہمارے چند مدارس ہیں اور ان میں قرآن و سنت کی خالص تعلیم کا انتظام ہے… آپ ان مدارس کو برداشت کر لیں … آپ جتنے اسکول جتنے کالج جتنی یونیورسٹیاں چاہیں کھولیں… ہم نے کب منع کیا ہے؟…

بس ہمیں فتنے اور فساد کے اس دور میں… قرآن مجید سے جڑا رہنے دیں… اب اس بات میں سائنس کی کون سی مخالفت نظر آ رہی ہے؟…

خلاصہ کلام

قرآن مجید بہت عظیم نعمت ہے… دنیا بھر کے سارے علوم، ساری سائنس اور سارے فنون مل کر بھی… قرآن مجید کی ایک آیت کے علم کے برابر نہیں ہو سکتے…قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے …اور اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق ہے … مسلمانو! قرآن مجید کی قدر کرو… قرآن مجید کو سمجھ لو… قرآن مجید کو حاصل کرو… قرآن مجید کی تعظیم کرو… قرآن مجید کا علم پڑھو اور پڑھاؤ …اور قرآن مجید کے ساتھ پوری طرح جڑ جاؤ … بس آج یہی دعوت ہے اور یہی درد ہے…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیراکثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online