Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

مسلمانوں کے لئے دردمندی (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 446 - Saadi kay Qalam Say - musalmanon k liye dardmandi

مسلمانوں کے لئے دردمندی

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 446)

اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں رکھی ہیں…

موہن گیا مودی آیا

انڈیا میں انتخابات ہوئے…نتیجہ وہی آیا جس کا سب کو اندازہ تھا…جمہوری نظام حکومت میں لوگ ہر پانچ سال میں اپنی حکومت سے اکتا جاتے ہیں…کوئی حکومت گھسٹ گھسٹ کر دو باریاں بھی کھیل جاتی ہے…پھر عوام کا رخ کسی نئے تجربے کی طرف ہو جاتا ہے…

حالانکہ انگریزی نظام حکومت میں اصل حکمران… بیوروکریسی،پولیس،عدلیہ اور خفیہ ایجنسیاں ہوتی ہیں…سیاستدان کھانے کمانے آتے ہیں،کچھ لوٹ مار مچاتے ہیں…اپنی باری لوٹتے ہیں اور پھر دوسروں کو موقع دینے کے لئے،پیچھے ہٹ جاتے ہیں … کانگریس نے گذشتہ دس سال انڈیا پر مسلسل حکومت کی …ظاہر بات ہے لوگ تنگ آ گئے تو کانگریس والے خود’’پیچھے ہٹ‘‘ گئے کہ پانچ سات سال بعد لوگ پھر بی جے پی سے تنگ آ کر خود ان کو پکاریں گے…انڈیا میں کانگریس بہت تجربہ کار اور خطرناک پارٹی ہے…اسی پارٹی نے پاکستان کے دو ٹکڑے کئے،اسی پارٹی نے کشمیر کا مسئلہ کھڑا کیا…اسی پارٹی نے حیدر آباد اور جوناگڑھ کے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور انہیں بھارت کے ساتھ الحاق پر مجبور کیا…اسی پارٹی نے کشمیر پر جگموہن جیسے درندے کو مسلط کیا…اسی پارٹی نے محمد افضل گورو ؒ کو شہید کیا…اسی پارٹی کے دور اقتدار میں بی جے پی نے بابری مسجد شہید کی اور کانگریس کی وفاقی حکومت درپردہ ان کی مدد کرتی رہی…لوگ انڈیا کی داخلی سیاست کو نہیں سمجھتے اسی لئے وہ ’’مودی‘‘کے آنے کو بڑا خطرہ سمجھ رہے ہیں…بے شک مودی بھی خطرہ ہے مگر کانگریس جیسا نہیں…وہ کم عقل،جذباتی اور آمرانہ طبیعت کا بے وقوف انسان ہے…

انڈیا کے ارب پتی اپنے تجارتی مفادات کے لئے اسے لائے ہیں…وہ مسلمانوں کا کھلم کھلا دشمن ہے مگر وزیر اعظم کی کرسی بڑی مجبورکرسی ہوتی ہے…اب وہ گجرات جیسی غنڈہ گردی نہیں کر سکتا…واجپائی اور ایڈوانی بھی مسلمانوں کے خطرناک دشمن تھے…مگر مسلمان کوئی کچی دیوار تو نہیںکہ جو چاہے گرا دے … انڈیا کے مسلمان ہندوستان کے حکمران تھے…ہزار سال انہوں نے حکومت کی … اب چھیاسٹھ سال سے غلامی میں ہیں مگر زندہ ہیں … کانگریس کی دشمنی ’’نفاقی‘‘ تھی،جبکہ بی جے پی کی دشمنی کھلم کھلا ہے…بی جے پی والے مسلمانوں کے خلاف جو کچھ بھی کریں گے …اس کا انہیں ان شاء اللہ بہت کرارا جواب ملے گا …جس لشکر کا سربراہ ابو جہل جیسا کھلم کھلا دشمن ہو مسلمان اس لشکر کو کسی اندھے کنویںمیں ڈالنے کا ہنر جانتے ہیں…اخبارات و رسائل میں ’’مودی‘‘ کے حوالے سے خوف کی جو فضا بنائی جا رہی ہے…وہ درست اور اچھی نہیں…کیا من موہن مسلمانوں کا دوست تھا ؟ …کیا راہل گاندھی سے خیر کی کوئی توقع تھی؟…مودی جب گجرات میں مسلمانوں کو کاٹ رہا تھا…تو اس کے کچھ عرصہ بعد ہی کانگریس کے دور اقتدار میں مظفر نگر اورآسام کے مسلمان ذبح ہو رہے تھے…اس لئے مودی کے آنے پر خطرے کی گھنٹیاں بجانے کا کوئی عقلی جواز نہیں ہے…ہاں رات دن کے آنے میں عقل والوں کے لئے بڑے سبق اور بڑی نشانیاں ہیں … انڈیا والوں نے مسلمانوں کے قاتل کو اپنا وزیر اعظم بنایا ہے…مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قاتلوں کا علاج کرنے والے فریضے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کی طرف متوجہ ہوں…جہاد فی سبیل اللہ کے سامنے کوئی مودی اور کوئی موذی نہیں ٹھہر سکتا…جہاد فی سبیل اللہ کے خلاف اس وقت سازشیں زوروں پر ہیں اور یہ منحوس کاوشیں اب ان لوگوں میں بھی گھس آئی ہیں جو ’’اپنے ‘‘ کہلاتے ہیں…حال میں گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ نے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ پر اپنا ایک ’’ضخیم نمبر‘‘ شائع کیا ہے…ایک دردمند عزیز نے یہ ’’جہالت نامہ‘‘ مجھے بھی بھیج دیا ہے…نام تو اس کا ’’جہاد فی سبیل اللہ نمبر‘‘ ہے مگر حقیقت میں یہ ’’انکار جہاد نمبر‘‘ ہے…اول تا آخر تقریباً شر ہی شر اور لفاظی کا فضول کھیل…اکثر لکھنے والے وہ ہیں جنہیں کبھی’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا مبارک غبار اور معطر جھونکا نصیب نہیں ہوا…اورنہ ان کی زندگی کے منشور میں ایک لمحہ کے لئے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ میں نکلنے کا ارادہ یا نیت شامل ہے…

 انہوں نے کتابوں کی ورق گردانی کی اور جو مواد انہیں مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کے لئے مل سکا اسے جمع کر دیا…اللہ تعالیٰ امام اہلسنت حضرت مولانا سرفراز صفدر صاحب نور اللہ مرقدہ کو غریق رحمت فرمائے…انہوں نے چند صفحات پر مشتمل ایک رسالہ’’شوق جہاد‘‘ تحریر فرمایا تھا…اس رسالے کو جو بھی پڑھتا ہے کم از کم اس کے دل میں جہاد فی سبیل اللہ کا شوق ضرور ابھرتا تھا…اور ایک مومن کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کا شوق لوازم ایمان میں سے ہے…ایسا شخص جو نہ جہاد میں نکلے اور نہ اس کے دل میں جہاد کا شوق ہو وہ منافقت کے ایک شعبے  پر مرتا ہے…یعنی نعوذ باللہ حسن خاتمہ سے محروم رہتا ہے…ماہنامہ الشریعہ کے مدیر صاحب حضرت امام اہلسنتؒ کے پوتے ہیں…ان کا نسبی رشتہ حضرت امام اہلسنت سے جبکہ فکری شجرہ ’’غامدی‘‘ سے جڑا ہوا ہے…اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے،وہ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو پیدا فرماتا ہے…فتنۂ غامدی جو اس وقت پاکستان میں سرگرم ہے…اس فتنے کا اصل مقصد مسلمانوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر کے…انہیں کفار کی بدترین ذہنی غلامی میں دھکیلنا ہے…اس فتنے کی کئی شاخیں ہیں اور ان میں  سے ایک شاخ کا کام اہل علم اور اہل عمل کو لفظی بحثوں میں الجھانا ہے…جہاد فی سبیل اللہ جیسے اسلام کے محکم اور قطعی فریضے پر یہ ’’خصوصی نمبر‘‘بھی اسی کوشش کا حصہ ہے…ممکن ہے کوئی بد نصیب انسان اسے پڑھ کر جہاد سے دور ہو…ورنہ اس میں نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی عقلی روشنی…جہاد فی سبیل اللہ کے تمام فضائل،احکامات اور طریقے قرآن مجید نے سکھا دئیے ہیں…حضور اقدس ﷺ کے مبارک غزوات، قرآن مجید کی دعوت جہاد کی عملی تفسیر ہیں…اب جو مسلمان سورۃ انفال پڑھ لیتا ہے یا سورۃ توبہ اور سورۃ محمد کو سمجھ لیتا ہے…اس پر کسی قادیانی،کسی غامدی یا کسی ناصری کا جادو کہاں چل سکتا ہے؟…

جو مسلمان غزوہ بدر،غزوہ احد اور غزوہ احزاب و تبوک کے پُرنور سمندر میں غوطہ لگا آتا ہے اس پر منکرین جہاد کی  بدبودار تحریروں کا کہاں اثر ہوتا ہے؟…یہ بے چارے خود کو خوامخواہ تھکا رہے ہیں…جہاد کی شمع الحمد للہ ایسی روشن ہو چکی ہے کہ اب مشرق تا مغرب فدائی مجاہدین کے طوفانی ریلے ہیں…الشریعہ کے اس نمبر سے اس کے مدیران گرامی بس یہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ وہ اسے امریکن،برٹش یا انڈین سفارت خانے میں بھیج کر …وہاں سے شاباش،ویزے اور کچھ مراعات لے لیں گے…اور بس…اور شائد ان بے فکرے مفکرین کو اس دنیا میں یہی کچھ درکار ہے…انہیں نہ امت مسلمہ کا غم ہے اور نہ اسیران اسلام کا درد…وہ نہ عافیہ صدیقی کو اپنی بہن سمجھتے ہیں…اور نہ انہیں بابری مسجد اور مسجد اقصی کی کوئی فکر ہے…اس موقع پر مجھے امام العارفین حضرت خواجہ عبید اللہ احرار نقشبندؒ یاد آ رہے ہیں … سبحان اللہ…حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خاندان سے امت مسلمہ کو کتنا نفع پہنچا…ابھی ہمارے ماہنامہ المرابطون کے حجۃ الاسلام نمبر میں آپ نے پڑھ لیا ہو گا کہ …حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مبارک خاندان سے تھے…حضرت خواجہ عبید اللہ احرار نقشبندؒ کا سلسلہ نسب بھی حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے…آپ ۸۰۶؁ھ تاشقند میں پیدا ہوئے…آپ نے ثمرقند کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں مدفون ہوئے…بندہ کو ان کی قبر پر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ہے حضرت خواجہ صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے تحریر و بیان میں عجیب تاثیر سے نوازا تھا…

آپ فرماتے تھے:

’’بزرگوں کی خدمت سے مجھے دو چیزیں عطاء ہوئیں، ایک یہ کہ جو کچھ لکھوں اس میں نیا پن ہو،دوسرا جو کچھ کہوں پسندیدہ ہو‘‘

آپ پہلے بہت غریب تھے…پھر اللہ تعالیٰ نے بے حد و بے حساب مال و دولت عطاء فرمایا…غربت میں تھے تب بھی امانت اور سادگی پر مضبوط رہے…اور جب بڑے مالدار ہو گئے تب بھی امانت و سادگی وہی رہی … البتہ سخاوت ایسی بڑھی کہ دین کا کام کرنے والے فقراء کے مزے ہو گئے…حضرت خواجہ صاحبؒ ان کی خدمت کرتے،ان کے تمام اخراجات اٹھاتے اور ان کے لئے دین کے کاموں میں آسانی کے لئے اسباب فراہم کرتے…آپ بڑی ہمت والا اس کو سمجھتے تھے جس کے پاس دنیا ہو مگر پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ سے غافل نہ ہو اور دنیا کی محبت اس کے دل میں نہ اترے…

بندہ کو حضرت خواجہ صاحبؒ سے خاص عقیدت و محبت والا تعلق ہے…اس لئے ان کا تذکرہ آیا تو اب دل چاہتا ہے کہ اسی میٹھے تذکرے میں لگا رہوں…مگر آج موضوع کچھ اور ہے …اور اسی کی مناسبت سے حضرت خواجہ صاحب نوراللہ مرقدہ کا ایک فرمان سنانا ہے … آپ فرماتے ہیں:

’’اگر ہم پیری مریدی کرتے تو اس عہد (یعنی زمانے) میں کسی( اور) پیر کو کوئی مرید نہ ملتا،لیکن ہمارے ذمے یہ کام لگایا گیا ہے کہ ہم مسلمانوں کو ظالموں کے شر سے محفوظ رکھیں‘‘

حضرات مفسرین کرام نے جہاد کے مقاصد اور اہداف میں سے ایک یہ بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں کی ظالم دشمنوں سے حفاظت رہے…حضرت خواجہؒ اپنے زمانے کے مسلمان حکمرانوں کو اس طرف متوجہ فرماتے رہتے تھے…آپ نے اپنے ایک ارادتمند بادشاہ کو یہاں تک لکھا کہ…آپ کے لئے نماز کے بعد سب سے اہم کام یہ ہے کہ آپ مسلمانوں کی حفاظت کے لئے پوری ہمت اور محنت صرف کریں اور ان کے دشمنوں کا مکمل طاقت اور سختی کے ساتھ مقابلہ کریں…

جہاد کے خلاف امریکی اور انڈین فنڈ سے چلنے والے اداروں،رسالوں اور افراد کے لئے…یہ ضروری اطلاع ہے کہ آج سے صرف چار دن بعد الحمد للہ پورے ملک میں…تقریباً تیس مقامات پر آیات جہاد کا دورہ تفسیر شروع ہو رہا ہے…تین مرحلوں میں مکمل ہونے والے اس دورے میں ان شاء اللہ ہزاروں مسلمان مرد اور خواتین شریک ہوں گی…اور یہ سب جہاد کے بارے میں نازل ہونے والی قرآنی آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں گے…غزوات النبی ﷺ کے پُر کیف مناظر یاد کریں گے…اور عصر حاضر میں جاری جہاد کا ماضی کے ساتھ رشتہ سمجھیں گے…ان تفسیری اسباق کی صوتی ریکارڈنگ بھی ہوتی ہے…اور دنیا بھر کے مسلمان اسے سنتے،سمجھتے اور مانتے ہیں…اور الحمد للہ بہت سے مسلمان اس پُرتاثیر دعوت کی برکت سے عملی جہاد میں بھی شریک ہوتے ہیں…جماعت کے ذمہ داروں اور کارکنوں سے تاکیدی گزارش ہے کہ …اس سال ’’دورات تفسیر‘‘ کے لئے پہلے سے زیادہ محنت کریں…تاکہ ’’انکار جہاد‘‘ کا فتنہ اپنی ناکامی خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online