Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

مفید دوستی اوردشمنی (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 628 - Mufeed Dosti aur Dushmani

مفید دوستی اوردشمنی

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 628)

اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمن اگر… دین کی وجہ سے آپ کے ’’دشمن‘‘ ہیں تو آپ … اللہ تعالیٰ کا شکرادا کریں کہ آپ حضرات انبیاء علیہم السلام کی ’’سنت‘‘ پر ہیں…

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوَّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے مجرموں میں سے دشمن بنائے ہیں( الفرقان آیت۳۱)

اگر اللہ تعالیٰ کے دین کے د شمن آپ کو مارنا چاہتے ہیں،پکڑنا چاہتے ہیں، قیدکرنا چاہتے ہیں یا آپ کو نکالنا چاہتے ہیں تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ … آپ حضرت اِمام الانبیاء ﷺ اور دیگر کئی اَنبیائِ کرام کی سنت پر ہیں…

 

وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللّٰہُ

اور جب سازش کر رہے تھے کافر کہ آپ کو قید کردیں یا قتل کردیں یا نکال دیں اور وہ بھی سازش کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیرفرما رہا تھا ( الانفال۳۰)

اگر آپ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے ’’سخت ‘‘ ہیں… اور اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے ان کے دشمن ہیں تو آپ کو مبارک ہو کہ… آپ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں میں سے ہیں… اور آپ اللہ تعالیٰ کی محبوب جماعت میں سے ہیں…

وَ الَّذِیْنَ مَعَہُ اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ

اور آپ ﷺ کی جماعت کے لوگ کفار پر بڑے سخت ہیں ( الفتح آیت ۲۹)

اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ

( اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ) کافروں کے سخت دشمن ہیں( المائدہ آیت ۵۴)

کلام برکت

گزشتہ ہفتے کے کالم سے الحمد للہ… اہل ایمان کو بہت فائدہ پہنچا… سوچنے اور سمجھنے کا راستہ کھلا اور بہت سے اَفراد کا نظریہ درست ہوا … تب اِرادہ بنا کہ… قرآن مجید کے نظام محبت اور نظام عداوت کا ایک خلاصہ تیار کر کے رنگ و نور میں شائع کردیا جائے … مگر جب اس موضوع میں جھانک کر دیکھا تو… معلوم ہوا کہ بہت مختصر خلاصہ بھی تیار کیا جائے تو کم از کم تین کالم اسی میں لگ جائیں گے… تب… دہلیز کو چوم کر اس بھاری پتھر کو اُٹھانے کا اِرادہ ترک کردیا… اللہ تعالیٰ کسی اور کو توفیق عطاء فرما دیں گے… میرے پاس کئی کتابوں کا کام پہلے سے رکھا ہوا ہے… وہ مکمل ہو جائے اس کی دعاء اور فکر ہے… الحمد للہ رنگ و نور کی دسویں جلد ’’اَذانِ عمر‘‘ آنے والی ہے … ان شاء اللہ… گیارھویں جلد پر بھی ابتدائی کام ہو چکا ہے… مکتوبات کی کتاب پر کام جاری ہے… اور مزید دو تین کتابوں پر بھی… محبت اور عداوت کا موضوع کافی مفصل ہے… اب آپ میں سے جن جن کی توجہ اس موضوع کی طرف ہو چکی ہے… ان کے لئے تلاوت اور مطالعہ کے دوران خودبخود راستے کھلتے جائیں گے… ان شاء اللہ… فی الحال حضرت شاہ عبد القادر رحمہ اللہ تعالیٰ نے… بڑی جامعیت کے ساتھ… اور بے حد اِختصار کے ساتھ ہمیں یہ مسئلہ سمجھا دیا ہے … حضرت کی عبارت پڑھیں… اور ان کی علمی کرامت اور اِختصار کی داد دیں … فرماتے ہیں:

جو تندی اور نرمی اپنی خُو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ … ( موضح قرآن)

یعنی سختی اور نرمی … دشمنی اور دوستی یہ اگر اپنے مزاج کی وجہ سے ہو تو… وہ اپنے مفادات کے تابع رہتی ہے… درست تقسیم نہیں ہو سکتی… جو سخت مزاج ہو گا وہ سب کے لئے سخت ہی رہے گا… سختی کی جگہ ہو یا نہ ہو… اور جو نرم مزاج ہو گا وہ سب کے ساتھ نرم رہے گا… نرمی کی جگہ ہو یا نہ ہو… لیکن جب اپنی سختی اور نرمی ، اپنی دوستی اور دشمنی ایمان کے تابع بنا لی جائے… اور اپنی ان عادتوں کو ایمان کے سانچے میں ڈھال لیا جائے تو پھر یہ دونوں بڑی کام کی چیزیں بن جاتی ہیں… اور ان کو درست جگہ پر تقسیم اور استعمال کر کے انسان بڑی عظیم الشان نعمتیں پا لیتا ہے… جیسا کہ حضرات صحابہ نے اپنی تمام شدت ، سختی اور دشمنی کا رُخ… اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی طرف موڑ دیا… اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ… اور اپنی تمام تر نرمی ، محبت اور دوستی کا رُخ… اہل ایمان کی طرف موڑ دیا… رُحَمَائُ بَیْنَھُمْ …

تب انہوں نے … اپنی دشمنی اور اپنی دوستی دونوں کو… اپنے لئے ’’نفع مند‘‘ نعمت بنا لیا… ان کی دوستی بھی ’’عمل صالح‘‘ بن گئی… اور ان کی دشمنی بھی… ان کا بہترین عمل بن گئی… دوستی بھی اَجر والی… دشمنی بھی اَجر و ثواب والی…

بس یہی ہے خلاصہ … قرآن مجید کے نظام دوستی اور اصول عداوت کا…

بات کہاں سے چلی تھی

دوستی اور دشمنی کی یہ ساری بات… پاکستانی حکومت کے بارے میں شروع ہوئی تھی… عرض کیا تھا کہ… بعض سیاستدانوں کی یہ سوچ غیر فطری ہے کہ… ہر حال میں ہر کسی کو دوست بناؤ… ہر کوئی دوست نہیں بن سکتا… اورہر دشمنی کا ختم ہونا یہ فطرت کے خلاف ہے… اس لئے عقلمند ریاست وہ ہوتی ہے جو دوستوں اور دشمنوں دونوں کے درمیان جی سکے… امریکہ کو دوست بنانے کی فکرمیں ہمارے حکمرانوں نے اپنے پُرامن ملک کو بدامنی کی آگ میں جھونک دیا… ہزاروں جانوں اور اربوں روپے کے خسارے کے باوجود ہم امریکہ کو دوست نہ بنا سکے… وہ کل بھی دشمن تھا اور آج بھی دشمن ہے… اور ساتھ ساتھ پاکستان کے دشمنوں کو بھی مضبوط کر رہا ہے …امریکہ نے جب امارت اسلامی افغانستان کے خلاف… پاکستان کی مدد مانگی تھی تو ہمارے حکمرانوں کو… صاف اِنکار کر دینا چاہیے تھا… تب یقینا اتنا نقصان نہ ہوتا جتنا اب ہو چکا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے… پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے… اس ملک کے حکمرانوں کو اپنے بڑے فیصلے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں کرنے چاہئیں … اور اپنی دوستی اور دشمنی بھی اسلام اور مسلمانوں کی خاطر بنانی چاہیے… سترہ سال کی ذلت ناک امریکی غلامی کے بعد اب ہم پھر اس دوراہے پر کھڑے ہیں… جہاں ہم کوئی بھی اچھا یا برا فیصلہ کر سکتے ہیں… قوم کو دعاء کرنی چاہیے کہ… اس بار ہمارے حکمران دوبارہ غلط اور حرام فیصلہ کرنے سے بچ جائیں… اگر یہ ایک بار پھر اس صلیبی جنگ میں امریکہ کی امداد کا فیصلہ کرتے ہیں تو… اہل پاکستان کو ایسے حکمرانوں کی بربادی کی بددعاء کرنی چاہیے … اور ایسے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے نفرت ، بیزاری اور براء ت کا اِظہار کرنا چاہیے… یہاں شریعت کی رو سے ریاست کے خلاف مسلح جہاد کی گنجائش نہیں ملتی … جذباتی  باتوں سے ہٹ کر دلائل کی روشنی میں غور کیا جائے تو معاملہ بالکل واضح ہے…

انڈیا کی دشمنی کا معاملہ

انڈیا کے معاملے میں … ہمارے سیاستدانوں کا ایک طبقہ… بہت بڑی گمراہی اور غلط فہمی کا شکار ہے… دراصل انڈیا نے پاکستان کے بعض بڑے سیاستدانوں اور صحافیوں کو مکمل طور پر خرید رکھا ہے… اور پھر ان بکے ہوئے سیاستدانوں اور صحافیوں نے اپنی سوچ کو ایک’’ نظریہ‘‘ بنا دیا ہے …حالانکہ یہ قطعاً کوئی ’’نظریہ‘‘ نہیں…بلکہ پاکستان کے خلاف ایک مکروہ سازش ہے… انڈیا کی پاکستان کے ساتھ دشمنی کی جڑیں بہت گہری اور بہت خوفناک ہیں… اگر کسی کو توفیق ملے تو وہ… تقسیم برصغیر کے حالات پر دوبارہ غور کرے… یہاں اس سلسلے میں چند اہم اشارے پیش خدمت ہیں…

٭ برصغیر کی تقسیم سے پہلے یہاں انگریزوں کی حکومت تھی…انگریزوں کے ہندوؤں کے ساتھ بڑے گہرے دوستانہ مراسم تھے جبکہ انگریز کی ’’مسلم دشمنی‘‘ بالکل واضح تھی… آپ تاریخ میں صرف انگریز گورنر… ’’لارڈ ماؤنٹ بیٹن‘‘ اور ہندو رہنما ’’جواہرلال نہرو‘‘ کے باہمی تعلقات کی نوعیت پڑھ لیں تو… آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی…

٭ انگریز اپنے پیچھے پورا برصغیر ہندوؤں کو دے کر جانا چاہتا تھا… اس نے ہندوستان کا اقتدار مسلمانوں سے چھینا تھا… وہ مسلمانوں کی طرف سے کئی بغاوتوں کا سامنا بھی کر چکا تھا… اس لئے وہ برصغیر میں مسلمانوں کو ہمیشہ محکوم رکھنا چاہتا تھا…

٭اس وقت کی برطانوی حکومت نے دو فائلیں بنائی تھیں… ایک فائل ان منصوبوں پر مشتمل تھی کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوا تو مسلمانوں کو کس طرح  محکوم رکھنا ہے… اور دوسری ان منصوبوں پر مشتمل تھی کہ اگر ہندوستان تقسیم ہو گیا تو مسلمانوں کو کس طرح دوبارہ ان کے ملک سے محروم کر کے ہندوستان کا حصہ بنانا ہے…

٭اس زمانے کی تمام دستاویزات یہی بتاتی ہیں کہ… انگریزاور ہندو ایک تھے… جبکہ مسلمان ان دونوں کے لئے غیر تھے… جب یہ بات طے ہو گئی کہ … ہندوستان نے تقسیم ہونا ہے تو… انگریز اور ہندوؤں نے مل کر تقسیم کا ایسا فارمولہ وضع کیا… جس کے مطابق نیا ملک پاکستان ہر طرح سے کمزور ہو اور چار پانچ سال کے اندر ٹوٹ جائے… برصغیر کے اسی(۸۰) فیصد وسائل ہندوستان کو جبکہ بیس فی صد پاکستان کو دئیے گئے… دو بڑی اکثریتی مسلمان آبادیوں …بنگال اور پنجاب کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا … پاکستان کو کچھ حصہ مشرق میں اور کچھ مغرب میں دے کر پہلے دن سے ہی اسے توڑ ڈالا گیا… کشمیر کو انڈیا کی گود میں ڈال کر پاکستان کو پیاسا مارنے کی تدبیر کی گئی… اور یہ سارا کام لارڈ ماؤنٹ بیٹن … اور ریڈ کلف کی نگرانی میں ہوا… اور وزیر اعظم چرچل اور ملکہ کی منظوری سے ہوا…

٭ہندوستان نے پہلے دن سے ہی پاکستان کو ختم کر کے اپنے اندر دوبارہ ضم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں… اور یہ کوششیں آج تک جاری ہیں… آدھا ملک انہوں نے ہم سے کاٹ دیا اور باقی ملک پر ان کے حملے جاری ہیں…

٭ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ… اس نے انگریز اور ہندو کی مشترکہ سازش کو ناکام بنایا اور عالمی حالات کچھ اس ڈگر پر چلا دئیے کہ… الحمد للہ پاکستان محفوظ بھی رہا اور مضبوط بھی ہوتا چلا گیا…

٭لوگ کہتے ہیں کہ ’’افغان جہاد‘‘ نے پاکستان کو طرح طرح کی مصیبتوں میں ڈالا … حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ افغان جہاد نے پاکستان کو بے انتہا مضبوط کیا، کوئی بھی غیر جانبداری سے تجزیہ کرے گا تو اسی نتیجے پر پہنچے گا…

٭ آپ ہندوستان جا کر دیکھیں…وہاں ہر ہندو کے ذہن میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ اور خواب موجود ہے… جبکہ پاکستان کے بڑے سیاستدان تک انڈیا کی سازشوں سے ناواقف ہیں…

٭ ہمارے کئی صحافی اور تجزیہ نگار انڈیا کی چمک اور ترقی سے اپنا موازنہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں… یہ اس طرح ہے جیسے ایک پاکیزہ باحیاء بیوی… اپنے گھر کا موازنہ کسی طوائف کے کوٹھے کی رونقوں سے کرنے لگے… یہ صحافی اتنا نہیں سوچتے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری کچھ حدود ہیں … جبکہ انڈیا ایک بے حیاء ریاست ہے… اس لئے اس کے بیرونی تعلقات زیادہ ہیں… باقی جہاں تک ترقی کا معاملہ ہے تو یقین کریں کہ پاکستان میں انڈیا سے زیادہ خوشحالی ہے… انڈیا میں ہر طرف فقر و فاقہ… جرائم ، نشہ اور نحوست کا ڈیرہ ہے… دور دور تک محرومی اور غربت صاف چھلکتی ہے جبکہ پاکستان میں اسلام کی برکت سے … انڈیا کی بہ نسبت کافی بہتر حالات ہیں…

٭انڈیا نے ہمارے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے …انڈیا نے ہمارے سیاچن پر قبضہ کر رکھا ہے …انڈیا نے ہمارے دریاؤں پر قبضہ کر رکھا ہے … انڈیا نے ہمارے آدھے ملک کو ہم سے توڑا ہے… انڈیا اب بھی اکھنڈ بھارت کے منصوبے پر کراچی اور بلوچستان میں کام کر رہا ہے… ہم انڈیا کی دوستی کا اس وقت یقین کر سکتے ہیں جب وہ ان مذکورہ بالا معاملات کو حل کرے… وہ ان معاملات کو تو حل کرنے کی بات نہیں کرتا… جبکہ دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ہمارے ملک کو مزید عدم استحکام کا شکار کرتا رہتا ہے… آپ انڈیا کے ہر مطالبے میں دشمنی کا پیغام دیکھیں گے… وہ ان سیاستدانوں کو ہم پر مسلط کرانا چاہتا ہے جو فوج کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں… اور ایٹم بم کو بھی… جو مجاہدین کو بھی مٹانا چاہتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کو بھی… تب پاکستان کے ہاتھ میں باقی کیا رہ جاتا ہے؟…

وقت گذر چکا ہے

انڈیا نے کافی خواب دیکھ لئے… کئی کامیابیاں بھی حاصل کیں… مگر اب زمین کا رنگ بدل چکا ہے… انڈیا جہاد کشمیر شروع ہونے کے بعد… شکست پر شکست کھا رہا ہے… اور اس کی جارحیت اب ’’دفاع‘‘ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے… ہماری انڈیا کے ساتھ نہ کوئی ذاتی دشمنی ہے اور نہ ذاتی نفرت…انڈیا کے ساتھ ہماری دشمنی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے ہے …اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے مفاد میں…

ہمیں اپنی اس دشمنی کی بہت قیمت ادا کرنی پڑی ہے… مگر ہم الحمد للہ خوشی سے ادا کر رہے ہیں… اور مزید کے لئے تیار ہیں…

اور ہم اس ’’دشمنی‘‘ پر اللہ تعالیٰ سے اس کی ’’محبت‘‘،مغفرت… اور رحمت کے امیدوار ہیں … ہاں بے شک غزوہ بدر کے بیٹے … ابو جہل کی اولاد سے دوستی نہیں رَکھ سکتے… نہیں رَکھ سکتے…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online