Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

مختصر نصاب شعبان (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 447 - Saadi kay Qalam Say - mukhtasir nisab e shaban

مختصر نصابِ شعبان

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 447)

اللہ تعالیٰ ہم سب کی’’شماتتِ اَعداء‘‘ سے حفاظت فرمائے۔آمین۔

’’شماتتِ اَعداء‘‘کا کیا مطلب ہے؟ہم پر کوئی ایسی حالت یا مصیبت آئے کہ اسے دیکھ کر ہمارے دشمن خوش ہوں اور وہ ہمارا مذاق اڑائیں…اسے کہتے ہیں ’’شماتتِ اَعداء‘‘۔

ہمارے محسن حضرت آقا مدنی ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ ہم چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کریں…یعنی یہ دعاء کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پناہ اور امان میں لے کر ان چار چیزوں سے بچائے…وہ چار چیزیں یہ ہیں:

۱۔ جہد البلاء

۲۔ درک الشقاء

۳۔ سوء القضاء

۴۔ شماتۃِ الاعداء

آج ان شاء اللہ کوشش ہو گی کہ ان چار مصیبتوں کی کچھ تشریح آ جائے…پہلے حضرت آقا مدنی ﷺ کا حکم پورا کریں اور یہ دعاء پڑھ لیں…

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ جَہْدِ الْبَلَاء وَدَرَکِ الشَّقَاء وَسُوْئِ الْقَضَائِ وَشَمَاتَۃِ الْاَعْدَاء

یااللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں…سخت آزمائش سے،بد بختی اور بد نصیبی سے، بری تقدیر اور غلط فیصلے سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے…

تشریح تھوڑا آگے چل کر …پہلے اسی حوالے سے ایک اہم بات

 جنگ اور جیو والوں کی شامت

پاکستانی میڈیا بہت ظالم ہے مگر اس پوری میڈیا کا فرعون ’’جنگ گروپ‘‘ تھا…یہی گروپ انگریزی اخبار’’دی نیوز‘‘ اور ٹی وی چینل’’ جیو‘‘ چلاتا ہے…یہی گروپ انڈیا کے ساتھ دوستی کے لئے ’’امن کی آشا‘‘ اڑاتا ہے…یہی گروپ اہلِ جہاد کی ہر قدم پر توہین وتنقیص کرتا ہے…جنگ والوں کی گردن یوں اکڑی ہوئی تھی جیسے ان کے گلے میں فرعون کے کنگن ہوں…

ابھی کچھ عرصہ پہلے ہم نے انڈیا کی تہاڑ جیل میں انتہائی مظلومیت کی حالت میں شہید ہونے والے اپنے بھائی محمد افضل گورو شہیدؒ کی یاد میں ایک جلسہ کیا تو…یہی جنگ گروپ کالے اژدھے کی طرح پھنکارنے لگا…کئی دن تک لگاتار ہمارے خلاف پروگرام نشر ہوتے رہے…اور انڈیا والوں کی ترجمانی میں ’’جنگ‘‘اخبار کالا ہوتا رہا…اسی گروپ کے بد دین اور متکبر کالم نویس منہ کھول کر زہر اگلتے رہے اور اسی گروپ کے خبیث النفس اینکر بے چینی اور غصے کی آگ میں منہ سے جھاگ پھینکتے رہے…یہ گروپ خود کو معلوم نہیں کیا سمجھ بیٹھا تھا کہ اچانک ’’ربّ قہار‘‘ کا ایک کوڑا اُن پر ایسا برسا کہ…کل تک ہر ایک کی پگڑی اچھالنے والے آج ہر کسی سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں…ابھی چند دن پہلے ان کا ایک معافی نامہ شائع ہوا اورا ٓج پھر تمام خبروں سے بڑی خبر یہ ہے کہ…جنگ اور جیو نے معافی مانگ لی ہے…سبحان تیری قدرت…وہ جو زمین کی طرف دیکھنا گوارہ نہ کرتے تھے آج زمین پر الٹے لیٹے ایک ایک سے معافیاں مانگ رہے ہیں … ایسی عبرتناک ذلت سے تو موت بہتر تھی مگر ایسے لوگ نہ عزت کا جیتے ہیں نہ عزت کی موت انہیں نصیب ہوتی ہے…حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا …اور حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بے ادبی تک ان جاہل ظالموں نے اپنے نامہ اعمال میں درج کرا لی…اور اب معافی،معافی،معافی… وہ دوسرے اخبارات اور میڈیا گروپ جو ان کے دشمن تھے…آج منہ پھاڑ کر ان پر ہنس رہے ہیں…یا اللہ بد دینی اور تکبر سے بچا…یا اللہ !’’شماتتِ اعدائ‘‘ سے ہماری حفاظت فرما…

 رجب گیا شعبان آیا

آج ستائیس رجب کی رات ہے…یعنی شعبان کے آنے میں صرف دو یا تین دن باقی ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ…اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لئے شعبان کو پانے کا ایک مختصر سا نصاب عرض کر دیا جائے…

شعبان کے مہینہ کے بارے میں حضرت آقا مدنی ﷺ نے فرمایا ہے کہ…

’’لوگ اس مہینے سے غافل رہتے ہیں‘‘

ارشاد فرمایا:

ذلک شہر یغفل الناس عنہ بین رجب و رمضان

یہ وہ مہینہ ہے رجب اور رمضان کے درمیان کہ لوگ اس سے غافل رہتے ہیں…

اب پہلی نیت تو ہم سب یہ کریں کہ ہم ان شاء اللہ اس مبارک مہینہ سے غفلت نہیں کریں گے بلکہ اسے مسنون اعمال کے ذریعہ قیمتی بنائیں گے…

لیجیے دعا پڑھ لیں:

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانْ

دوسری بات اس مبارک مہینہ کے بارے میں حضرت آقا مدنی ﷺ نے یہ ارشاد فرمائی کہ اس مہینہ میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں:

ترفع فیہ الاعمال الی رب العالمین

اس لئے ارشاد فرمایا:

فاحب ان یرفع عملی وانا صائم

مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے اعمال اس حالت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں کہ میں روزے میں ہوں…(النسائی)

آپ حدیث شریف کی کوئی بھی بڑی اور مستند کتاب دیکھ لیں…آپ یہی فیصلہ کریں گے کہ رسول کریم ﷺ سب سے زیادہ نفلی روزے شعبان میں رکھتے تھے…

کبھی پورا مہینہ …اور کبھی اکثر مہینہ… بخاری اور مسلم میں روایات موجود ہیں…

تیسری بات اس مہینہ کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمائی کہ اس مہینے کے نصف والی رات…یعنی پندرہ شعبان کی رات،اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی عمومی مغفرت فرماتے ہیں… بس وہ لوگ مغفرت سے رہ جاتے ہیں جن کے دل میں اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے بغض اور دشمنی ہوتی ہے…حسد،بغض اور دشمنی رکھنے والوں کی مغفرت نہیں کی جاتی…یہ مضمون کئی احادیث مبارکہ میں آیا ہے…

چوتھی بات جو اس مہینہ کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے…وہ ہے پندرھویں شعبان کا روزہ اور اس سے پہلے والی رات کی عبادت…اس میں کئی علماء کرام کا کہنا ہے کہ اس مضمون کی احادیث ضعیف میں…جبکہ کئی علماء کرام ان روایات کو قابل عمل قرار دیتے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)

اب ہمارے علم میں شعبان کے بارے میں کل چار باتیں آ گئیں…پہلی تین باتوں میں کسی کا اختلاف نہیں جبکہ چوتھی بات میں اختلاف ہے…ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ…مسلمانوں کو اس مہینہ میں اپنے اعمال زیادہ بہتر کرنے چاہیں تاکہ وہ رمضان المبارک کو اچھی طرح سے کما سکیں…حضرات صحابہ کرام اور ہمارے اسلاف شعبان آتے ہی چند باتوں کا اہتمام فرماتے تھے…ایک تو روزوں کی کثرت تاکہ رمضان المبارک کے آنے سے پہلے روزوں کی حلاوت اور عادت پا لیں…دوسرا تلاوت کی کثرت…کئی حضرات کے بارے میں آتا ہے کہ شعبان آتے ہی گھروں کے دروازے بند کر کے قرآن مجید میں مشغول ہو جاتے…تیسرا زکوۃ اور صدقات میں اضافہ…تاکہ غربائ،مساکین تک رمضان المبارک سے پہلے رمضان المبارک کا سامان پہنچ جائے…اب ہمارے لئے نصاب آسان ہو گیا…

۱۔ ہم رجب اور شعبان میںبرکت والی دعاء کثرت سے مانگیں:

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانْ

۲۔ ہم شعبان میں زیادہ روزے رکھیں یا کم از کم چار روزوں کا اہتمام کر لیں ایک تو یکم شعبان کا روزہ تاکہ مہینہ کا استقبال روزے سے ہو جائے اور ہمارے سال بھر کے اعمال جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں تو ہم روزے کی حالت میں ہوں…ایک مسلمان روزے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ اچھا لگتا ہے …اور تین روزے ایام بیض کے تیرہ،چودہ اور پندرہ شعبان…یہ روزے ہر ماہ مسنون ہیں

۳۔ جن کو صدقہ، خیرات،زکوۃ کی طاقت ہو وہ شعبان میں کچھ صدقہ اور زکوۃ نکال کر ان مسلمانوں تک سامان پہنچائیں جن کی مالی حالت کمزور ہے…اس انتظار میں کہ رمضان المبارک کا صدقہ ستر گنا اجر والا ہوتا ہے ، مال روک کر نہ بیٹھیں رہیں…

اگر ایک مسلمان نے رمضان کا چاند اس حالت میں دیکھا کہ…آپ کے دئیے ہوئے مال یا سامان کی وجہ سے اسے مالی بے فکری حاصل ہوئی تو یہ… آپ کے لئے بہت بڑا ذخیرہ ہو گا…باقی کوئی بھی سارا پیسہ یا سامان ایک دن میں نہیں کھا سکتا…وہ رمضان میں آپ کے مال سے کھائیں گے تو آپ کو رمضان والا اجر بھی مل جائے گا…خصوصاً امت مسلمہ کا سب سے مقرب اور اونچا طبقہ حضرات مجاہدین جو محاذوں اور  تربیتوں میں ہوتے ہیں ان تک رمضان المبارک کا سامان پہلے ہی پہنچا دینا چاہیے…

۴۔ اپنی تلاوت میں کچھ اضافہ کریں…اسی طرح نمازوں کا باجماعت اہتمام کریں…

۵۔ جو عید کی خریداری کا شوقین ہو وہ شعبان میں کپڑے وغیرہ سلوا لیں تاکہ رمضان المبارک کے آخری قیمتی دن بازاروں اور درزیوں کے پاس ضائع نہ ہوں…

بس یہ ہے پانچ نکاتی مختصر نصاب…خود بھی عمل کریں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں

انفاق فی سبیل اللہ مہم

الحمد للہ ’’جماعت‘‘ جہاد اور خیر کا وسیع کام اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کر رہی ہے…چاروں طرف اندھیرے اور گمراہیوں کے سمندر ہیں…ان خوفناک سمندروں اور طوفانوں کے بیچ اللہ کے نام اور اللہ کے کام سے وفاداری کرنا…اور امت مسلمہ کو روشنی،عزت،غیرت اور ایمان کے جزیرے پر لانا ایک بڑا عظیم کام ہے…اس وقت بھی ماشاء اللہ دس مقامات پر دورہ تفسیر جاری ہے اور اگلے چند دنوں میں تقریباً تیس مقامات پر یہ دورہ ہو گا…محاذوں کی گرمی،کفالت شہداء کے ٹھنڈے سائے،دعوت کے برستے بادل،تعلیم و تعلم کے انوارات،اصلاح اور تزکیہ کے میٹھے جام…تصنیف و تالیف کی روشنیاں…اور دور دور تک اذانیں سناتیں مساجد…ماشاء اللہ ہر لمحہ خیر،ہر قدم خیر، اور ہر سانس خیر…

اپنی جماعت اور اس کام کی قدر کریں… اخلاص کے ساتھ محنت کریں اور خود اپنا مال اس مبارک کام پر شرح صدر کے ساتھ لگائیں…بیس شعبان سے یہ مہم شروع ہر کر یکم شوال کی مغرب تک جاری رہتی ہے…اللہ والے دیوانے اس مہم میں شعبان بھی پاتے ہیں ، رمضان بھی کماتے ہیںاور عید بھی لگاتے ہیں … آپ سب کے لئے ڈھیروں دعائیں…اور آپ سب کو پیار بھرا سلام… اللہ تعالیٰ آپ کو امت مسلمہ کی طرف سے بہترین جزائے خیر عطا فرمائے…

 چار الفاظ کی تشریح

بخاری شریف میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے…نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

تعوذوا باللہ من جہد البلاء ودرک الشقاء وسوء القضاء وشماتۃ الاعداء

اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو…جہد البلاء سے، درک الشقاء ہے، سوء القضاء سے اور شماتۃ الاعداء سے…

۱۔  جہد البلاء: ہر ایسی مصیبت،سختی اور تکلیف جس کی انسان میں طاقت نہ ہو… ایسے فتنے جن کے آنے پر انسان موت مانگنے لگے…ایسے امراض جو ناقابل برداشت اور ناقابل علاج ہوں…ایسے قرضے جو کمر توڑ دیں …ایسی خبریں جو غم میں ڈبو دیں…ایسے غم جو خون نچوڑ لیں یا اولاد کی کثرت اور ساتھ مال کی بے حد کمی…

۲۔  درک الشقاء: شقاوت یعنی بد نصیبی،بد بختی … شقاوت ضد ہے سعادت کی اور شقاوت کی دو قسمیں ہیں…پہلی دنیوی شقاوت اور وہ یہ کہ انسان کا دل اور جسم گناہوں میں غرق ہو جائے اور نیک کاموں کی توفیق نہ ملے…اور دوسری اخروی شقاوت کہ کوئی انسان نعوذ باللہ جہنم میں ڈال دیا جائے…

۳۔  سوء القضاء: بری تقدیر،برا فیصلہ…یعنی ایسے حالات من جانب اللہ پیش آئیں کہ جن سے انسان کو نقصان اور تکلیف پہنچے… یا انسان خود کوئی ایسے غلط فیصلے کر بیٹھے جن میں گناہ ہو، ظلم ہو اور دنیا و آخرت کا نقصان ہو… یا انسان کے بارے میں کوئی حاکم یا قاضی ظالمانہ فیصلہ سنا دے…

۴۔ شماتۃ الاعداء: ہر آدمی کے دشمن بھی ہوتے ہیں اور حاسدین بھی…اگر اس انسان پر کوئی ایسی حالت اور مصیبت آ جائے جس سے اس کے دشمن اور حاسدین خوش ہوں اور وہ اس کا مذاق اڑائین تو اسے ’’شماتۃ الاعدائ‘‘ کہتے ہیں…

اندازہ لگائیے حضرت آقا مدنی ﷺ کے ’’احسانات‘‘ کا کہ کیسی عمدہ،جامع اور ضروری دعاء اپنی امت کو تعلیم فرما دی…

صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم،

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانْ…اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ جَہْدِ الْبَلَائِ وَدَرَکِ الشَّقَائِ وَسُوْئِ الْقَضَائِ وَشَمَاتَۃِ الْاَعْدَائْ

آمین یا ارحم الراحمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online