Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

غزوۂ مُوتہ کا دن (تابندہ ستارے۔648)

غزوۂ مُوتہ کا دن

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 648)

’’فتح الباری‘‘ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ جب جنگ یمامہ کے دن مسلمانوں کوشکست ہوگئی تو حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ان مرتدین سے بے زار ہوں اور یہ جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں ان سے بھی بے زار ہوں اور مسلمانوں سے بھی بے زار ہوں اور مسلمانوں جو کچھ کر رہے ہیں ( کہ شکست کھا کر بھاگ رہے ہیں) میں اس سے بھی بیزار ہوں۔ اور ایک آدمی باغ کی دیوار میں ایک شگاف والی جگہ پر کھڑا ہوا تھا انہوں نے اس کو قتل کردیا اور پھر خود بھی شہید ہوگئے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے شوقِ شہادت کے قصے

 حضرت ثابت بنانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ ابن ابو جہل جنگ( یعنی جنگِ یرموک) کے دن (شہادت کے شوق میں سواری سے اُتر کر) پیدل چلنے لگ پڑے، تو ان سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عکرمہ! ایسے نہ کرو، کیوں کہ تمہارا قتل ہوجانا مسلمانوں پر بڑا گراں ہوگا۔ حضرت عکرمہؓ نے کہا: اے خالد! مجھے چھوڑو، اس لئے کہ تمہیں تو حضورﷺ کے ساتھ اسلام کو پھیلانے کے لئے بہت کچھ کرنے کا موقع ملا ہے۔ اور میں اور میرا باپ ہم دونوں تو حضورﷺ کے لوگوں میں سب سے زیادہ مخالف تھے اور سب سے زیادہ تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے۔ اور یہ کہہ کر حضرت عکرمہؓ پیدل آگے بڑھے اور شہید ہوگئے۔

 حضرت ابو عثمان غسانیؒ کے والد فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک کے دن حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ ابن ابو جہل نے فرمایا کہ میں نے کئی میدانوں میں رسول اللہﷺ سے جنگ کی ہے تو کیا میں آج تم لوگوں سے (شکست کھا کر) بھا گ جائوں گا؟( ایساہرگز نہیں ہو سکتا) پھر بلند آواز سے کہا کہ مرنے پر کون بیعت ہوتا ہے؟چنانچہ ان کے چچا حضرت حارث بن ہشام اور حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہما نے چار سو مسلمان سرداروں اور شہ سواروں سمیت بیعت کی اور انہوںنے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے کے سامنے خوب زور دار لڑائی کی اور سارے ہی زخموں سے چورہوئے ،لیکن وہ سارے اپنی جگہ جمے رہے کوئی اپنی جگہ سے ہلا نہیں۔ اور ان میں سے ایک بڑی مخلوق شہید ہوگئی جن میں حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

 حضرت سیف کی روایت بھی اس جیسی ہی ہے لیکن اس میں یہ بھی ہے کہ وہ چار سو مسلمان اکثرشہید ہوگئے، کچھ ان میں سے بچ گئے جن میں حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ صبح کو حضرت عکرمہ بن ابو جہل اور ان کے بیٹے حضرت عمر و دونوں حضرت خالد کے پاس لائے گئے۔یہ دونوں خوب زخمی تھے۔ حضرت خالد نے حضرت عکرمہ کاسر اپنی ران پر اور حضرت عمروکا سر اپنی پنڈلی پر رکھا اور وہ ان دونوں کے چہرے کو صاف کررہے تھے اور ان کے حلق میں تھوڑا تھوڑ ا پانی ڈال رہے تھے اور وہ فرما رہے تھے کہ ابن ِ حنتمہ( یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا تھا کہ ہم لوگ شہید نہیں ہوں گے( لیکن اللہ نے ہمیں شہادت عطا فرمادی)

حضرت ابو البحتری اور حضرت میسرہ فرماتے ہیں کہ جنگ صفین کے دن حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے لیکن شہید نہیں ہو رہے تھے۔ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاکر کہتے:اے امیر المومنین!یہ فلاں دن ہے (یعنی حضورﷺ نے مجھے جس دن شہید ہونے کی خوش خبری دی تھی وہ دن یہی ہے) حضرت علی جواب میں فرماتے: ارے! انہوں نے پی لیا پھر فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ دودھ ہی وہ چیز ہے جسے میں دنیا سے جاتے وقت سب سے آخر میں پیوں گا۔ پھر کھڑے ہو کر جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔

 رسول اللہﷺ کے صحابی حضرت ابو سنان دولی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے غلام سے پینے کی کوئی چیز منگوائی۔ وہ ان کے پاس دودھ کاایک پیالہ لایا۔ چنانچہ انہوں نے وہ دودھ پیا اور پھر فرمایا:اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ نے سچ فرمایا: آج میں اپنے محبوب دوستوں حضرت محمدﷺ اور ان کی جماعت سے (شہید ہو کر) ملوں گا۔

 حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جنگ صفین کے دن جس دن وہ شہید ہوئے اونچی آواز سے یہ کہتے ہوئے سنا:

میں جبار یعنی اللہ تعالیٰ سے ملوں گا اور حورِعین سے شادی کروں گا۔ آج ہم اپنے محبوب دوستوں حضرت محمدﷺ اور ان کی جماعت سے ملیں گے۔

حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ دنیا میں تمہارا آخری توشہ دودھ کی لسی ہوگی( اور وہ میں پی چکا ہوں اور میں اب دنیا سے جانیوالا ہوں)

 حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ کچھ گنگنا رہے تھے۔میں نے ان سے کہا: اللہ نے تمہیں ان اشعار کے بدلے ان سے بہتر چیز یعنی قرآن عطا فرمایا ہوا( تم قرآن پڑھو) انہوں نے کہا:کیا تمہیں اس بات کا ڈر ہے کہ میں اپنے بستر پر مر جائوں گا؟نہیں۔ اللہ کی قسم! اللہ مجھے اس(نعمتِ شہادت) سے محروم نہیں فرمائیں گے۔ میں اکیلا سوکافروں کو قتل کرچکا ہوں، اور جن کو میںنے دوسروں کے  ساتھ مل کر قتل کیا وہ ان کے علاوہ ہیں۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online