Bismillah

663

۱تا۷صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۲تا۱۸اکتوبر۲۰۱۸ء

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۱)

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۱)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 648)

رہا یہ امر کہ حضرت عمرؓ نے قحط کے زمانے میں حد سرقہ (چوری کی شرعی سزا) معطل کردی تھی یا یہ کہ آپ نے زکوۃ میں مولفۃ القلوب کے حصے کو ساقط کردیا تھا اسی طرح تین طلاقوں کو تین قرار دیا تھا تویہ سب واقعات و حقائق کی غلط ترجمانی ہے، راقم السطور نے… بابت ماہ ربیع الاول ۱۳۸۳؁ھ میںتفصیل سے ان واقعات کی حقیقت واضح کی تھی۔

مسئلہ’’مؤلفۃ القلوب‘‘ میںتفصیلی بحث و تنقیح کے بعد کہا تھا: قرآن مجیدمیں وضو کے سلسلہ میں حکم ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا فرض ہے یہ مسئلہ نص قطعی سے ثابت ہے لیکن سوچئے کہ اگر کسی شخص کے ہاتھ ہی نہ ہوں تو یہ فرض خود بخود ساقط ہوجائیگا یا نہیں ؟ اب یہاں یہ نہیں کہاجائے گا کہ’’ قرآن مجید کے حکم میں تبدیلی کردی گئی… کیونکہ قرآن مجید میں تو ہاتھ دھونے کا حکم ہے، بلکہ یوں کہا جائے گاکہ محل اور مصداق کے ختم ہونے سے یہ حکم خود بخود ختم ہوگیا‘‘

بالکل اسی طرح اسلام کی شوکت اور غلبہ کے بعد مسلمانوں کی عظیم الشان تعداد ہوجانے کی بنا پر مولفۃ القلوب کی ضرورت ہی نہیں رہی اس لئے مصارف زکوۃ کی یہ قسم خودبخود ختم ہوگئی۔

 ماہ قحط میں حدسرقہ کے سقوط کے بارے میںتفصیلات پیش کرنے کے بعد کہا تھا:سرقہ کی تعریف اس وقت صادق آتی ہے جبکہ ایسے محفوظ مال کو چرایا جائے جس کا لینا حرام اور ناجائز ہو اور قحط کے زمانہ میں چونکہ بھوک پیاس کی عالمگیر مجبوری کی بنا ء پر بھوکے فاقہ زدہ لوگوں کو اپنی جان بچانے کے لئے شرعاًیہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے شخص کے مال کو اس کی اجازت کے بغیر لیکر اپنی ضرورت پوری کرلیں اور بعد میں اس کا تاوان ادا کریں اس لئے ہمہ گیر مجبوری اور فقر و احتیاج عام کی حالت میں دوسرے شخص کا مال چور کے لئے مباح ہوگیا( جیسے بنص قرآن کریم ایسی حالت میں میتہ، جو قطعی حرام ہے۔ حلال ہوجاتا ہے) اور کسی مباح مال کو لینا چوری نہیں ، ہاتھ اسی وقت کا ٹا جائے گا جبکہ سرقہ کی پوری پوری تعریف صادق آئے اگر تعریف کا ایک جز بھی کسی مقام پر صادق نہ آئے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔( بینات بابت ماہ ربیع الاول ۸۳ھ؁)

طلاق ثلاث کے مسئلہ میں اس وقت صرف اس قدر عرض ہے کہ وہ حدیث جس سے آپ حضرات استفادہ کرتے ہیں اس میں فامضاہ عمر علیھم کے الفاظ ہیں جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تین مرتبہ طلاق دینے کی صورت میں تین طلاقوں کا واقع ہونا عہد رسالت میں بھی تھا البتہ بعض احوال میں جبکہ انت طالق،انت طالق،انت طالق بلاعطف کہاجائے تو کہنے والے کے یقین دِلانے پرکہ اس کی مراد بار بار کہنے سے تاکید ہے( طلاق کوپختہ کرنا) تاسیس نہیں ہے (یعنی ایک طلاق کے بعد دوسری اور تیسری طلاق دینا نہیں ہے) تو اس کے حلفیہ بیان کو صحیح اور اس طلاق کو ایک سمجھ لیا جاتا تھا ، بعد میں حضرت عمرؓ نے جب دیکھا کہ لوگوں نے اس کو حیلہ بنالیا ہے کہ تین طلاقیں دیتے ہیں پھر بعد میں کہہ دیتے ہیں کہ ہماری مراد تو ایک طلاق تھی تو انہوں نے عہد رسالت کے اصل حکم کو ہی نافذ کردیا اور لوگوں کے اس بیان کو تسلیم کرنا چھوڑ دیاگیا کہ لفظ کسی گزشتہ کے فیصلے ہی کو نافذ کرنے کے لئے بولاجاتا ہے۔ وللتفصیل موضع آخر

(۴)ص ۱۲۱ پر مؤلف نے ایک فتویٰ بھی دیا ہے ملاحظہ ہو۔’’ موجودہ دورمیں رسل و رسائل کی ترقی اور آسانی کے پیش نظر فون پر بھی نکاح کاایجاب و قبول ہوسکتا ہے بشرطیکہ ایجاب و قبول کو دونوں گواہان بھی سن سکیں اور آواز پہچانتے ہوں۔‘‘

یہ فتویٰ بھی محل نظر ہے کیونکہ دونوں گواہوں کا ایجاب و قبول کو بیک وقت فون پر سننا اور آواز پہچاننا… مشکل ہے، آواز میں اِشتباہ فون پر ضرورہوتا ہے، علاوہ ازیں فون پردونوں گواہ ایک ساتھ نہیں سن سکتے اور یہ ضروری ہے۔ چنانچہ علامہ شامی شرح نقایہ سے ناقل ہیں:

’’(گواہوں کے ایجاب و قبول کو سننے میں) معا’’ایک ساتھ‘‘ کی قید لگانے سے مذکورہ ذیل صورتیں جن میں ہر گواہ الگ الگ سنتا ہے خارج ہوگئیں(۱) ایک گواہ نکاح کے وقت ایجاب وقبول سن کر چلا گیا اس کے بعددوسرے گواہ کے سامنے ایجاب و قبول کا اِعادہ کیا (۲)یافقط ایک گواہ نے ایجاب و قبول کو سنا پھر دوبارہ لوٹا یا گیا تو پہلے نے نہیں سنا صرف دوسرے نے سنا(۳) یا پہلی مرتبہ ایک نے صرف ایجاب کو سنا اور دوسرے نے صرف قبول کو، پھر اعادہ کیا گیا تو جس نے ایجاب کو سنا تھا، اس نے صرف قبول کو سنا اور جن نے صرف قبول کو سنا تھا اس نے اس مرتبہ صرف ایجاب کو سنا اس لئے کہ ان صورتوں میں درحقیقت دو عقد نکاح پائے گئے جن میں سے کسی ایک عقد میں بھی ایک ساتھ دونوں گواہ موجود نہیں ہوئے شرح نقایہ میں اسیطرح بیان کیا ہے ۔ ‘ ‘ (شامی، ج۲۔ص۷۵)

 ۵۔ص ۱۳۳ پر مولف نے ’’موجودہ عائلی قوانین‘‘ کی حمایت میں نکاح کی رجسڑی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے:

’’بعض علماء کے نزدیک نکاح کی رجسڑی نہ کرانے کو قابل تعزیر جرم قرار دینا درست نہیں ہے لیکن اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ حکومت کا نکاح کی رجسڑی کو لازمی قرار دینا’’مصالح معاشرہ ‘‘ کے موافق ہے تو اولی الامر یا قانون ساز ادارہ کو کیوں نہ یہ اختیار حاصل ہو کہ ایک مباح یا مستحب فعل کو واجب قرار دے کر اس کی خلاف ورزی کو قابل تعزیر جرم بنا دے‘‘( ص ۱۳۳)

راقم السطور نے نکاح کی رجسڑی کے مسئلہ کو بینات بابت ماہ رمضان ۸۲؁ھ میں بڑی تفصیل کے ساتھ تحریر کیا تھا اور ثابت کیا تھا کہ رجسڑی کی پابندی شریعت کے خلاف ہے  اور ایک جگہ کہا تھا کہ نکاح کی اہمیت قرآن کریم، حدیث نبوی اور فقہاء کی تصریحات سے آپ پر واضح ہوچکی ہے، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلام نے نکاح کو کس قدر اہم قرار دیا ہے اسلام میں نکاح کی یہ اہمیت اس بناپر ہے کہ وہ معاشرے سے زنا اور بدکاری کو ختم کرنا چاہتا ہے، اسلام فاحشہ کی اشاعت کو کسی طرح برداشت نہیں کرتا، یہی وجہ ہے کہ زنا کے لئے اسلامی شریعت میںشدید ترین سزا مقرر کی گئی ہے۔ زنا ایک طرف رہا شریعت تو زنا کے چرچے کی بھی روا دار نہیں ہے چنانچہ حد قذف اسی لئے جاری کی گئی ہے کہ زنا کا چرچا بھی معاشرے میں نہ ہونے پائے اور بلا ثبوت کوئی شخص کسی کی طرف زناکی نسبت نہ کر سکے۔

زنا کو مسلم معاشرے میں ختم کرنے اور اشاعت فاحشہ کا کلی طور پر انسداد کرنے کا یہی راستہ تھا کہ نکاح کو جس طرح بھی بن سکے عام کردیا جائے اور اس پر پابندیاں کم سے کم رکھی جائیں تاکہ نکاح ہر بالغ کے لئے آسان سے آسا ن تر ہوجائے۔ غرض شریعت مطہرہ نے نکاح کرنے والوں کی ہر طرح ہمت افزائی کی ہے۔ سورۃ النور کی آیت مبارکہ ابھی آپ پڑھ چکے ہیں جس میں غیر شادی شدہ لوگوں کو نکاح کی زبردست تاکید کی گئی ہے اور اس کے ساتھ میں فقر و اِفلاس کا عذر کرنے والوں کویہ بشارت بھی سنادی گئی ہے کہ فکر نہ کرو اللہ تعالیٰ تم کومالدار اور غنی کردیگا۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online