Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔651)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 651)

میں نے اس کے کپڑے نہیں لیے اور یوں میں پاک دامن رہااور اگر میں گرجاتا تو وہ میرے کپڑے چھین لیتا۔

 اے (کافروں کی) جماعت!یہ خیال ہرگزنہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اور اپنے نبیﷺ کی مدد چھوڑ دیں گے۔

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ حضورﷺ کی طرف چل پڑے اور ان کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہاکہ تم نے اس( عمرو بن عبدوُدْ) کی زرہ کیوں نہیں لے لی، کیونکہ عربوں کے پاس اس زرہ سے بہتر زرہ نہیں ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اس پر تلوار کا وار کیا، اس نے اپنی شرم گاہ کے ذریعہ مجھ سے بچائو کیا یعنی شرم گاہ کھل گئی، اس وجہ سے مجھے شرم آئی کہ میں اپنے چچازاد بھائی کی اس حال میں زرہ اتارلوں۔

 حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ایک لمبی حدیث بیان کرتے ہیں جس میں وہ غزوئہ بنو فزارہ سے واپسی کا تذکرہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ واپس آکر ابھی ہم لوگ تین دن ٹھہرے ہی تھے کہ ہم لوگ خیبر کی طرف نکل پڑے اور حضرت عامر رضی اللہ عنہ بھی اس غزوہ میں گئے تھے اور وہ یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے:

 اللہ کی قسم! اگر آپ نہ ہوتے( یعنی آپ کا فضل نہ ہوتا) تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔

 ہم تیرے فضل سے بے نیازنہیں ہیں، تو ہم پر سکینہ اور اطمینان کو ضرور نازل فرما اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں تو تو ہمیں ثابت قد م رکھ۔

 اس پر حضورﷺ نے پوچھا کہ ان اشعار کو پڑھنے والا کون ہے؟لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت عامر، حضورﷺ نے فرمایا:(اے عامر!) تیرارب تیری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب بھی حضورﷺ نے کسی کو یہ دعاء دی ہے وہ ضرور شہید ہوا ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ اونٹ پر سوار تھے( یہ دعاء سن کر)انہوں کہا: آپ نے ہمیں حضرت عامر سے اور فائدہ اٹھانے دیا ہوتا( یعنی آپﷺ یہ دعاء حضرت عامرؓ کو نہ دیتے تو وہ اور زندہ رہتے، اب تو وہ شہیدہوجائیں گے)پھرلوگ خیبر پہنچے تو(یہود کا پہلوان) مرحب اپنی تلوار فخرسے لہراتا ہوا اور یہ شعر پڑھتا ہوا باہر نکلا:

سارے خیبر کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مرحب ہوں اور ہتھیاروں سے لیس ہوں اور تجربہ کاربہادر ہوں( میری بہادری اس وقت ظاہرہوتی ہے) جبکہ شعلہ زن لڑائیاں سامنے آتی ہیں۔

 حضرت عامررضی اللہ عنہ مرحب کے مقابلے کے لیے یہ اشعار پڑھتے ہوئے میدان میں نکلے:

سارے خیبر کواچھی طرح معلوم ہے کہ میں عامر ہوں اور ہتھیاروں سے لیس ہوں اور مہلک مقامات میں گھسنے والا بہادر ہوں۔

 ان دونوں کے آپس میںتلوار سے دو دو ہاتھ ہوئے۔ مرحب کی تلوار حضرت عامررضی اللہ عنہ کی ڈھال میں گھس گئی حضرت عامررضی اللہ عنہ نے مرحب کے نچلے حصے پر حملہ کیا۔ حضرت عامررضی اللہ عنہ کی تلوار آکر خود ان کو ہی لگ گئی جس سے شہ رگ کٹ گئی اور اسی سے یہ شہید ہوگئے۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں باہر نکلا تو حضورﷺ کے چند صحابہ کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عامر کا سارا عمل رائیگاں گیا، کیونکہ انہوں خود کشی کی ہے، میں روتا ہوا حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورﷺ نے مجھے فرمایا:تمہیں کیا ہوا؟ میں کہا:لوگ کہہ رہے ہیں کہ عامر کا سارا عمل رائیگاں گیا۔ حضورﷺ نے پوچھا: یہ بات کس نے کہی؟ میں نے کہا: آپ کے چند صحابہؓ نے۔ حضورﷺ نے کہا: ان لوگوں نے غلط کہا، عامر کو تو دُگنا اجر ملے گا۔ حضورﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوبلانے کے لیے آدمی بھیجا، ان کی آنکھ دکھ رہی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: آج میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔

میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے لے کر آیا۔ آپﷺ نے ان کی آنکھ پر لعاب مبارک لگایا وہ فوراً ٹھیک ہوگئی۔ حضورﷺ نے ان کو جھنڈا دیا۔ مرحب پھر وہی اشعار پڑھتا ہوا باہر نکلا:

اس کے مقابلہ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلے:

 میں وہ شخص ہوں کہ جس کی ماں نے اس کا نا م حیدر یعنی شیر رکھا۔ میں جنگل کے ہولناک منظر والے شیر کی طرح ہوں۔ میں دشمنوں کو پورا پورا ناپ کر دوں گا جیسے کہ کھلے پیمانہ میں پورا پورا دیا جاتا ہے( یعنی میں دشمن میں وسیع پیمانے پر خون ریزی کروں گا)

چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تلوار کاایسا وار کیا کہ مرحب کا سرپھاڑ کر اسے قتل کردیا اور اس طرح خیبر فتح ہوگیا، اس روایت میں اسی طرح آیا ہے کہ ملعون مرحب یہودی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی قتل کیا ہے اور ایسے ہی امام احمدؒ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جب میں نے مرحب کو قتل کیا تو اس کا سر لے کر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لیکن موسیٰ بن عقبہ نے امام زہری سے یہ روایت نقل کی ہے کہ مرحب کوقتل کرنے والے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ہیں اور اسی طرح محمد بن اسحاق نے اورواقدی نے حضرت جابررضی اللہ عنہ وغیرہ حضرات سے نقل کیا ہے۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online