Bismillah

659

۳تا۹محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۴تا۲۰ستمبر۲۰۱۸ء

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۷)

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۷)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 651)

۲۔ص ۹۶ پر ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث کا ترجمہ درج کیا ہے اصل حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

روی عن ابن عباس رضی اللہ عنہما عن رسول اللہﷺ انہ قال لیس للولی مع الثیب امر(بدائع ص ۲۴۸)

عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ثیبہ پر ولی کا کوئی اختیار نہیں۔

 اس حدیث سے ملک العلماء الکاسانی نے نتیجہ نکالا ہے۔

 وھذا قطع ولایۃ الولی عنھا

یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ثیبہ کی ولایت منقطع ہے۔

 جناب مؤلف نے صاحب بدائع کے استنباط اور نتیجہ کو بھی اصل حدیث کے الفاظ سمجھ کر اس کا جزبنا لیا اور ترجمہ کرڈالا:

چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ثیبہ پر ولی کا کوئی حکم نہیں اور ثیبہ ہونا ولی کی ولایت کومنقطع کرتا ہے۔( ص ۹۶)

(۳) ص ۸۹ پر لانکاح الا بولی والی روایت پر بحث کی گئی ہے جو سب کی سب نصب الرایۃ للزیلعی سے ماخوذ بلکہ اس کا لفظی ترجمہ ہے لیکن حوالہ نداردہے خیر :

ع’’ایں ہم اندر عاشقی غم ہائے دگر‘‘

لیکن ایک جگہ اسی بحث میں امام زہری کے متعلق لکھا ہے کہ :ان کے سامنے راوی حدیث سلیمان بن موسی اور ان کی روایت کردہ حدیث کا تذکرہ امام موصوف نے راوی حدیث کی توثیق کی اور ان کے حق میں تعدیل کے الفاظ کہے اصل الفاط ہیں فاثنی علیہ خیرا اس کا ترجمہ مولف نے کیا:’’روایت بیان کرنے والے کے حق میں دعائے خیر کی‘‘

(۴) ص ۱۷۸ پر مسلم مرد کے مشرکہ سے نکاح اور غیر مسلم مرد کے مسلمہ سے نکاح کا فرق بیان کرنا چاہا لیکن فرق کو واضح طور پر بیان نہیں کر سکے معلوم ہوتا ہے کہ بدائع وغیر کا ترجمہ ہے لیکن اس کو سمجھ نہیںسکے ہیں۔

۵۔ص ۲۴۶ پر ایک بحث کے سلسلہ میں اما م سرخسی کی مبسوط سے ترجمہ کیا ہے ایک لفظ کے ترجمہ میںسخت غلطی کی ہے سرخسی کی اصل عبارت یہ تھی:

فان قیل العتق کان یملک مراجعتھا من قرئین( ص ۲۱۶ ج۴)

کیونکہ آزادی سے پہلے شوہر کو دوحیضوں میں رجوع کرنے کا حق تھا۔

قرأین قرء کا تثنیہ ہے جس کے معنی حیض یاطہر کے ہیں اب جناب مولف سے اس کا ترجمہ سنئے:

کیونکہ عتق سے پہلے شوہر کو اس کی جانب مراجعت کرنے کا حق صرف قرائن سے ثابت تھا( مجموعہ قوانین اسلام ص ۲۴۶)

۶۔اسی طرح ص۲۴۷ پرخیار اور خیار عتق کے ذیل میں بھی امام سرخسی کی المبسوط سے ترجمہ کیا ہے لیکن چونکہ بعض عبارات کا مطلب نہیں سمجھ سکے ہیں اس لئے ان کو حذف کردیا ہے اور اس کی وجہ سے عبارات گنجلک ہوگئی اور مطلب واضح نہ ہوسکا۔

 ۷۔ص ۲۸۶ پر مہر کے شرط نکاح ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بدائع کی عبارت کا مسلسل ترجمہ کیا ہے لیکن یہاں بھی مطلب واضح نہیں کر سکے کیونکہ اصل عبارت کو سمجھ نہیں سکے اسی صفحہ پر ایک عجیب غلطی کاشکار ہوئے ہیں بحث یہ چل رہی تھی کہ امام شافعیؒ کے نزدیک مہر انعقاد نکاح کے لئے شرط نہیں ہے امام شافعیؒ آیت کریمہ و آتو النساء صدقاتھن نحلۃ سے استدلال کرتے ہیں کہ نحلۃ کے معنی ’’عطیہ‘‘ کے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ مہر ایک صلہ زائد ہے اس کے جواب میں صاحب بدائع نے کہا کہ نحلۃ کے معنی صرف’’ عطیہ‘‘ اور ’’صلہ‘‘ کے ہی نہیں آتے بلکہ اس کے معنی’’مسلک‘‘ اور ’’دین‘‘ کے بھی ہیں اس لئے آیت کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ تم عورتوں کو ان کے مہردینی جذبہ کے ماتحت ادا کیا کرو‘‘ مولف دِین کے دَین سمجھ گئے اور ارشاد فرمایا:

تو حقیقت میں نحلۃ کا لفظ دین اور قرض کے معنی میں آیا ہے اس لئے یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ وجوب مہر ایک دَین اور قرض ہے محض عطیہ نہیں ہے جو دینے والے کی مرضی پر موقوف ہو( ص ۲۸۶)

۸۔ص ۲۹۸ پر بدائع کی عبارت کا ترجمہ کیا ہے اور بدائع کی عبارت فٹ نوٹ پر دی ہے بدائع کی عبارت یہ ہے۔

وجہ قو لھما انھا بالوطیٔ مرۃ واحدۃ او بالخلوۃ الصحیحۃ سلمت جمیع المعقود علیہ  برضاھا وھی من اھل التسلیم فبطل حقھا فی البضع کالبا ئع اذاسلم المبیع(بدائع ص ۲۸۹ ج ۲)

اس کا ترجمہ مؤلف سے سنئے:

صاحبین کے قول کی دلیل یہ ہے کہ زوجہ سے برضا ورغبت ایک مرتبہ وطی کرلینے سے یا خلوت صحیحہ ہوجانے سے تمام معقود علیہ مرد کے سپرد ہوگئے اور وہ خود اہل تسلیم میں سے ہو گئی اور اسکا اپنے کو روکے رکھنے کا حق باطل ہوگیا۔

 یہاں خط کشیدہ جملوں کا مطلب سمجھ نہیں سکے ہیں۔ معقود علیہ بضع( جنسی انتفاع) ہے جو مرد کے سپرد کیا گیا ہے،

 وھی من اھل التسلیم کا مطلب یہ ہے کہ عورت عاقلہ بالغہ ہے وہ اپنے نفس کی سپرد کردینے کی اہلیت رکھتی ہے اس لئے اسکا سپرد کرنا صحیح ہے۔

طباعت کی غلطیاں

 کہیں کہیں ٹائپ کی غلطی بھی معلوم ہوتی ہے مثلا!ص ۱۲۸ پر ہے لیکن ایسا نکاح جوگواہوں کی موجودگی میں ایک گواہ کی موجودگی میں ہو ا ہو فاسد قرار پائیگا۔ دوگواہوں کی موجودی میں نکاح صحیح ہوتا ہے۔’’دو‘‘ رہ گیا اسی طرح موجودگی کے بجائے غیر موجودگی ہونا چاہئے طباعت کی بعض غلطیوں کی نشاندہی ہم فٹ نوٹ میں کرچکے ہیں۔

 مجموعی طور پر کتاب اور مصنف کے متعلق ہماری رائے

ہمیں مولف سے سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ انہوں نے رہنما اصول تو نہایت شاندار اور امت اسلامیہ کے متفق علیہ اختیار کئے مگر مروجہ عائلی قوانین سے متصادم احکام ومسائل میں بین بین نیمے دروں نیمے بروں۔ کی پالیسی اختیار کرلی جس کوشریعت کی اصطلاح میں مداہنت فی الدین کہا جاتا ہے یہ مداہنت شرعا تو ناجائز اور حرام ہے ہی۔ خصوصا قوانین شرعیہ کے مدون کے قلم سے فن تالیف و تصنیف کے فرائض کے اعتبار سے بھی ایک مولف کی یہ ناقابل معافی فرو گذاشت ہے وہ خود اپنے رہنما اصول کی اسی تالیف میں خلاف ورزی کرے جس کے لئے اس نے وہ اصول قائم کئے ہیں ہم مولف کی اس دعا میں ان کے ساتھ شریک اور دست دعا ہیں:

اللہ سے دعا ہے کہ اس مجموعہ میں جو حق اور مسلمانان پاکستان کے لئے مفید ہوا شرف قبولیت بخش اور جاری فرما اور جو غلط ہواس کی تصحیح کی ہدایت فرما۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online