Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۵

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۵

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 663)

تو وہ زکوٰۃ کو ٹیکس سمجھ کر بڑی ناگواری سے ادا کرتے تھے ،اسی لئے رسول اللہﷺ کی وفات کا انتظار کرتے تھے آخر جب آپ ﷺ کی وفات ہوگئی تو ان قبیلوں اور ان کی روش پر چلنے والوں کے چند گروہ بن گئے۔ ایک گروہ نے کھلم کھلا ارتداد کا اور اس زمانہ کے خود ساختہ نبیوں کی پیروی کا اعلان کردیا ،دوسرے گروہ نے پاداش ارتداد یعنی قتل وغیرہ کے خوف سے کفروارتدادکا صاف صاف اعلان تو نہیں کیا بلکہ زکوٰۃ کی عبادتی شان اور اس کی فرضیت سے انکار کردیا اور یہ سمجھا کہ زکوٰۃ ایک ٹیکس ہے جس طرح دوسرے ٹیکس بادشاہ اور حکومتیں لیا کرتی تھیں،ہم یہ ٹیکس رسول اللہﷺ کو دے دیا کرتے تھے خواہ ناگواری سے ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ ہم نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی اور ان کو اپنا حاکم تسلیم کرلیا تھا لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ادا نہیں کریں گے کیونکہ ہم نے نہ ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور نہ ان کو اپنا حاکم تسلیم کرتے ہیں۔

چنانچہ بنو غطفان کی شاخ بنو ذبیان کا ایک شاعر اپنی قوم کو زکوٰۃ دینے سے انکار کررہا ہے:

اطعنا رسول اللّٰہ ما کان بیننا

فیا لعباد اللّٰہ مالابی بکر

ایورثہابکرااذامات بعدہ

وتلک لعمر اللّٰہ قاصمۃ الظہر

فہلا رددتم وفدنا بزمانہ

وہلا خشیتم حس راغیۃ البکر

وان التی سالوکموفمنعتمو

لک التمر او احلی الی من تمر

 فقیہ العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں :

’’ان لوگوں نے اپنی جہالت سے یہ سمجھ لیا تھا کہ زکوٰۃ بھی ایک ایسا ہی مالی ٹیکس ہے جیسے ہر حکمران اپنی رعایا سے مختلف قسم کے مالی ٹیکس صول کیا کرتا ہے، لہٰذا جب تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بقید حیات تھے آپﷺ نے بحثییت حکمران اور بادشاہ ہم سے زکوٰۃ وصول کی اور ہم نے دی ، آپ ﷺ کو اس کا حق تھا اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد جب ہم آزاد ہوگئے تو جو ہمارے حکمراں ہوں گے ان کو اختیار ہے کہ وہ دوسرے تمام ٹیکسوں کی طرح ہم سے زکوٰۃ وصول کریں یا نہ کریں۔وہ زکوٰۃجو ہم حضورﷺ کے زمانہ میں دیتے تھے وہ بہر حال حضورﷺ کے ساتھ ختم ہوگئی اس کے مطالبہ کا اب کسی کو حق نہیں۔‘‘

اسی گروہ کے بارے میں حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔ شروع میں تو بعض صحابہ کو حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے موقف سے اختلاف تھا لیکن بعد میں تمام حضرات صحابہ اس پر متفق ہوگئے کہ’’منکرینِ فرضیتِ زکوٰۃ مرتدین ہیں اور ان سے کافروں کی طرح جنگ کی جائے‘‘ اور اس پر مکمل طور پر اجماع صحابہ منعقد ہوگیا۔

 اس تاریخی پس منظر کی وضاحت کے بعد ہم وہ حدیث پیش کرتے ہیں جو اس مسئلہ میں قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ وفات پاگئے اور ابو بکررضی اللہ عنہ خلیفہ ہوگئے اور عرب کے جو قبائل کافر ہونے تھے ہوگئے( اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کا فیصلہ کرلیا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا :اے ابو بکر! تم ان لوگوں سے جنگ کیوںکر رہے ہو جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کرلیں پس جس شخص نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیا اس نے اپنی جان و مال کو مجھ سے بچا لیا، بجز حق اللہ کے اور اس کا حساب کہ اس کے دل میں کیا ہے اللہ کے سپرد ہے۔ اس پر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بخدا میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرے گا ایک کو مانے گا اور ایک کو نہیں، اس لئے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے جیسے نماز جان کا، خدا کی قسم اگر وہ رسی جو رسول اللہﷺ کو دیا کرتے تھے مجھے دینے سے انکار کریں گے تو اس کے منع کر نے پر ان سے جنگ کروں گا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا:پس بخدا میں نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کرنے پر حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو شرح صدر اور اطمینان قلب نصیب فرمادیا ہے تو میں نے بھی سمجھ لیا کہ یہی حق ہے۔

اس حدیث کی اہمیت کے بارے میں امام ابو سلیمان الخطابی فرماتے ہیں:

یہ حدیث دین کا ایک اہم ماخذ ہے اور اس میں علم اور فقہ کے بہت سے مسائل آگئے ہیں۔

 حدیث کی اسی اہمیت کے پیش نظر کبارائمہ حدیث نے اس کی تخریج کی ہے ،حافظ بدرالدین العینی تخریج کے سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں:

بخاری نے زکوٰۃ کے علاوہ اس حدیث کو مزید دوبابوں میں تخریج کیا ہے ایک تو استتابۃ المرتدین میں یحییٰ بن بکیر سے ،دوسرے باب الاعتصام میں عتبہ سے۔ امام مسلم نے کتاب الایمان میں عتبہ سے، ابو دائود نے زکوٰۃ میں عتبہ سے اسی طرح عمرو بن السرح اور سلیمان بن دائود سے تخریج کیا ہے ،ترمذی نے ایمان میں عتبہ سے تخریج کیا ہے، نسائی نے ایمان اور محاربہ میںعتبہ سے اور جہاد میں کثیر بن عبداللہ سے اور احمد بن سلیمان سے اور محاربہ میں زیادبن ایوب سے تخریج کیا ہے۔

 حدیث کی شرح یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعدجب صدیق اکبررضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور ارتداد بعض قبائل میں پھیل گیا۔ مرتدین کی دو بڑی قسمیں تھیں: ایک قسم تو وہ تھی جس نے کھلم کھلا کفرو ارتداد کا اعلان کردیا تھا اور نبوت کے دعویداروں میں سے کسی ایک کا اتباع کیا تھا، دوسرا گر وہ جیسا کہ ہم کئی باربتلا چکے ہیں بظاہر اللہ ورسول ﷺ پر ایمان رکھتا تھا البتہ یہ گروہ زکوٰۃ ادا کرنے کے سخت خلاف تھا اس سلسلہ میں ان سے بہت سے اعذار منقول ہیں، کبھی کہتے تھے کہ قرآن کریم میں پیغمبر ﷺ سے کہا گیا ہے ’’خذ من اموالھم‘‘( آپ ان کے مالوں سے زکوٰۃ وصول کریں)

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online