Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔663)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 663)

حضرت براء رضی اللہ عنہ کو(مسیلمہ کے لشکر کا سپہ سالار) محکم الیمامہ ملا۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے اس پر تلوار کا حملہ کرکے اسے زمین پر گرادیا اور اس کی تلوار لے کر اسے چلانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ تلوار ٹوٹ گئی۔

 حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس دن مسیلمہ سے لڑائی ہوئی اس دن مجھے ایک آدمی ملا جسے یمامہ کا گدھا کہا جاتا تھا۔ وہ بہت موٹا تھا اور اس کے ہاتھ میں سفید تلوار تھی۔ میں نے اس کی ٹانگوں پر تلوار سے وار کیا اور ایسا معلوم ہوا کہ غلطی سے لگ گئی، اس کے پائوں اُکھڑ گئے اور وہ گدی کے بل گرگیا ۔میں نے اس کی تلوار لے لی اورا پنی تلوار میان میں رکھ لی اور میں نے اس تلوار سے ایک ہی وار کیا جس سے وہ تلوار ٹو ٹ گئی۔

 حضرت ابن اسحاق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے دن مسلمان آہستہ آہستہ مشرکوں کی طرف بڑھتے رہے یہاں تک کہ ان کو ایک باغ میں پناہ لینے پر مجبور کردیا اور اسی باغ میں اللہ کا دشمن مسیلمہ بھی تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا:اے مسلمانو! مجھے اُٹھا کر ان دشمنوں پر پھینک دو۔ چنانچہ ان کو اٹھایا گیا۔ جب و ہ دیوار پر چڑھ گئے تو انہوں نے اپنے آپ کو اندر گرادیا اور باغ میں ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے لیے اس باغ کا دروازہ کھول دیا اور مسلمان اس باغ میں داخل ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے مسیلمہ کو بھی قتل کرادیا۔

حضرت محمد بن سیرین ؒ بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان اس باغ تک پہنچے تو دیکھا کہ اس کا دروازہ اندر سے بند کیا جا چکا ہے اور اندر مشرکوں کا لشکر تھا۔ تو حضرت براء رضی اللہ عنہ ایک ڈھال پر بیٹھ گئے اور فرمایا :تم لوگ اپنے نیزوں سے اوپر اٹھا کر مجھے ان مشرکوں پر پھینک دو۔

 چنانچہ انہوں نے حضرت براء کو اپنے نیزوں پر اٹھا کر باغ کے پیچھے کی طرف سے باغ میں پھینک دیا۔( باغ کا دروازہ کھل جانے کے بعد( مسلمانوں نے دیکھا کہ حضرت براء مشرکوں میں سے دس آدمی قتل کرچکے ہیں۔

 حضرت ابن سیرینؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے کسی لشکر کا ہرگز امیر نہ بنانا، کیونکہ یہ ہلاکت ہی ہلاکت ہیںاپنی جان کی بالکل پروا نہیں کرتے ہیں، امیر بن کر یہ مسلمانوں کو بھی ان جگہوں میں لے جائیں گے جہاں ہلاکت کا خطرہ زیادہ ہوگا۔

حضرت ابو محجن ثقفی رضی اللہ عنہ کی بہادری

حضرت ابنِ سیرینؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو محجن ثقفی رضی اللہ عنہ کو شراب پینے کی وجہ سے کوڑے لگا کرتے تھے۔ جب بہت زیادہ پینے لگے تو مسلمانوں نے انہیں باندھ کر قید کردیا۔ جب جنگِ قادسیہ کے دن یہ مسلمانوں کو دشمن سے لڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے تو انہیں یہ محسوس ہوا کہ مشرکوں نے مسلمانوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ تو انہوں نے ( مسلمانوں کے امیر) حضرت سعدرضی اللہ عنہ کی اُمّ ولد یا ان کی بیوی کے پاس پیغام بھیجا کہ ابو محجن یہ کہہ رہا ہے کہ اسے جیل خانہ سے رہا کردو اور اسے یہ گھوڑا اور یہ ہتھیار دے دو، وہ جاکر دشمن سے جنگ کرے گا اور پھر وہ تمام مسلمانوں سے پہلے تمہارے پاس واپس آجائے گا تم اسے پھر جیل خانہ میں باندھ دینا۔ ہاں! اگر ابو محجن وہاں شہید ہوگیا تو پھر اور بات ہے۔ اور یہ اشعار پڑھنے لگے:

رنج و غم کے لیے اتنا کافی ہے کہ سوار تو نیز ہ لے کر لڑ رہے ہیں اور مجھے بیڑیوں میں باندھ کر جیل خانہ میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

 جب میں کھڑا ہوتا ہوں تو لوہے کی بیڑیاں میرے قدم روک لیتی ہیں اور میرے شہید ہونے کے تمام دروازے بند کردیئے گئے ہیں اور میری طرف سے پکارنے والے کو بہراکردیا گیا ہے۔

اس باندی نے جا کر حضرت سعدرضی اللہ عنہ کی بیوی کو ساری بات بتائی۔ چنانچہ حضرت سعدرضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان کی بیڑیاں کھول دیں اور گھر میں ایک گھوڑا تھا وہ ان کو دے دیا اور ہتھیار بھی دے دیئے۔ وہ گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے نکلے اور مسلمانوں سے جاملے۔ وہ جس آدمی پر بھی حملہ کرتے اسے قتل کردیتے اور اس کی کمر توڑ دیتے۔ جب حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا تو ان کو بڑی حیرانی ہوئی اور وہ پوچھنے لگے:یہ سوار کون ہے؟بس تھوڑی ہی دیر میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دے دی اور حضرت ابو محجن رضی اللہ عنہ نے واپس آکر ہتھیار واپس کردیئے اور اپنے پیروں میں پہلے کی طرح بیڑیاں ڈال لیں۔ جب حضرت سعدرضی اللہ عنہ اپنی قیام گاہ پر واپس آئے تو ان کی بیوی یا ان کی اُم ولد نے کہا:آپ کی لڑائی کیسی رہی؟

حضرت سعدرضی اللہ عنہ لڑائی کی تفصیل بتانے لگے اور کہنے لگے:ہمیں ایسے ایسے شکست ہونے لگی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سفید سیاہ گھوڑے پر ایک آدمی کو بھیج دیا۔ اگر میں ابو محجن کو بیڑیوں میں بندھا ہوا چھوڑ کر نہ گیا ہوتا تومیں یقین کرلیتا کہ یہ ابو محجن کا کارنامہ ہے۔ تو انہوں نے کہا:اللہ کی قسم!یہ ابو محجن ہی تھے۔ اور پھر اس کا سارا واقعہ سنایا۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online