Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

افادات اکابر۔ 667

 افادات اکابر

(شمارہ 667)

تخلیقِ کائنات کا مقصد

قرآن مجید میں بہت سی جگہ عقیدۂ آخرت کے اثبات کے لئے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ اگر اس کائنات کی تخلیق کامنشا صرف یہی ہوتا کہ اس دنیا کا نقشہ وجود میں آجائے اور اس کا کوئی نتیجہ نہ ہو تو یہ محض ایک فعلِ عبث اور کھیل تماشا ہوتا اور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ قدسی صفات کھیل تماشے سے بلند وبالا اور عبث ولا یعنی سے پاک اور منزہ ہے۔

’’ پس کیا تمہارا خیال ہے کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے۔ (سورۂ المؤمنون)

 یہ کارخانہ عالم بے نتیجہ و بے مقصد نہیں بلکہ ذریعہ و وسیلہ ہے ایک بڑے مقصدکا، یہ عبوری و عارضی اور امتحانی وابتلائی زندگی خود مقصد نہیں بلکہ یہ تمہید ہے آخرت کی ،جہاں کی زندگی ابدالآباد کی زندگی ہوگی، سورئہ فاتحہ سے سورئہ الناس تک بے شمار مقامات پر محیر العقول معجزانہ اسلوب اور عجیب مؤثر انداز میں یہ حقیقت بار بار ذہن نشین کرائی گئی ہے، سورئہ فاتحہ میں جسے ایک مسلمان کم ازکم ۳۲ مرتبہ روزانہ پڑھتا یا سنتا ہے حق تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمتِ عامہ کے فوراً بعد یوم الدین کی مالکیت اور بادشاہی کااعلان کیا گیا ہے تاکہ ہر لحظہ یہ عقیدہ پیش نظر رہے کہ دنیا مقصد نہیں اصل منزلِ مقصود آخرت اور صرف آخرت ہے۔

(بصائر و عبر: ص۴۰۴)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online