Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔667)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 667)

(یعنی جب و ہ اس جگہ کا احترام نہیں کررہے ہیں تو کعبہ کے اندر کا احترام بھی نہیں کریں گے) اللہ کی قسم! وہ تم کو کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا بھی پائیں گے تو بھی تمہیں ضرور قتل کردیں گے۔ پھر ان سے عرض کیا گیا:کیا آپ ان سے صلح کے بارے میں گفتگونہیں فرماتے ہیں، انہوں نے فرمایا:کیا یہ صلح کی بات کرنے کا وقت ہے؟اگر تم ان کو کعبہ کے اندر بھی مل گئے تو وہ تم سب کو ذبح کردیں گے۔ اور یہ شعر پڑھے:

اور میں کوئی عار والی چیز اختیار کرکے اس کے بدلے میں زندگی کو خریدنے والا نہیں ہوں اور نہ موت کے ڈر سے کسی سیڑھی پرچڑھنے والا ہوں۔

مجھے ایسے تیرکا شوق ہے جو اپنی جگہ سے نکل نہ سکے اور کیا موت سے ملاقات کو چاہنے والا کسی اور طرف کا ارادہ کرسکتا ہے؟

اور پھر آلِ زبیر کی طرف متوجہ ہو کر ان کو نصیحت فرمانے لگے اور کہنے لگے کہ ہر آدمی اپنی تلوار کی ایسے حفاظت کرے جیسے اپنے چہرہ کی حفاظت کرتا ہے کہ کہیں وہ ٹوٹ نہ جائے ، ورنہ عورت کی طرح ہاتھ سے اپنابچائو کرے گا۔ میں نے ہمیشہ اپنے لشکر کے اگلے حصہ میں شامل ہو کر دشمن سے مقابلہ کیا ہے اور مجھے زخم لگنے سے کبھی درد نہیں ہوا، اگر ہوا ہے تو زخم پردوا لگانے سے ہوا ہے۔

یہ لوگ آپس میں اس طرح باتیں کررہے تھے کہ اچانک کچھ لوگ باب بنی جمح سے اندر داخل ہوئے جن میں کالے رنگ کا ایک آدمی تھا ۔حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے پوچھا:

یہ لوگ کون ہیں؟کسی نے کہا:یہ حمص والے ہیں۔ اس پر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے دو تلواریں لے کر ان پر حملہ کردیا۔ مقابلہ میں سب سے پہلے وہ کالا آدمی ہی آیا ۔ انہوںنے تلوار مارکر اس کی ٹانگ اڑا د ی ۔اس نے تکلیف کی شدت کی وجہ سے کہا:ہائے، اے بدکار عورت کے بیٹے! (نعوذ باللہ من ذلک!) حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

دفع ہواے حام کے بیٹے!(کالے لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حام کی نسل میں شمار ہوتے ہیں) کیا حضرت اسماء بدکار ہوسکتی ہیں؟ پھر ان سب کو مسجد سے نکال کر واپس آئے۔ اتنے میں کچھ لوگ بابِ بنی سہم سے داخل ہوئے ۔ انہوں نے پوچھا یہ لوگ کون ہیں؟کسی نے کہا:

یہ اردن والے ہیں۔ تو یہ شعر پڑھتے ہوئے ان پر حملہ کیا:

میں نے سیلاب جیسی غارت گری نہیں دیکھی کہ جس کا غبار رات تک صاف نہ ہو۔

 اور ان کوبھی مسجد سے نکال دیا۔ اتنے میں کچھ لوگ بابِ بنی مخزوم سے داخل ہوئے تو ان پر یہ شعر پڑھتے ہوئے حملہ کیا:

لوکان قرنی واحدا کفیتہ

اگر میرا مقابل ایک ہوتا تو میں اس سے نمٹنے کے لیے کافی تھا

 مسجد الحرام کی چھت پر ان کے مددگار کھڑے تھے جو(داخل ہونے والے) ان کے دشمن پر اوپر سے اینٹیں وغیرہ پھینک رہے تھے۔

جب حضرت ابن زبیررضی اللہ عنہما نے ان داخل ہونے والوں پر حملہ کیا تو ان کے سر کے بیچ میں ایک اینٹ آکر لگی جس سے ان کا سرپھٹ گیا تو کھڑے ہو کر یہ شعر پڑھا:

ہمارے زخموں کا خون ہماری ایڑیوں پر نہیں گراکرتا ہے بلکہ ہمارے قدموں پر گراکرتا ہے یعنی ہم بہادر ہیں، ہمیں جسم کے اگلے حصے پر زخم آتا ہے پچھلے حصے پر نہیں آتا ہے۔

اس کے بعد وہ گرگئے تو ان کے دوغلام ان پر یہ کہتے ہوئے جھکے کہ غلام اپنے آقا کی حفاظت کرتا ہے اور اپنی بھی حفاظت کرتا ہے، پھر دشمن کے لوگ چل کر ان کے قریب آگئے اور انہوں نے ان کا سرکاٹ لیا۔

حضرت اسحاق بن ابی اسحاق ؒ فرماتے ہیں کہ جس دن حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما مسجد حرام میںشہید کیے گئے، میں وہاں موجود تھا (میں نے دیکھا کہ) لشکر مسجد حرام کے دروازے سے داخل ہونے لگے۔

 جب بھی کسی دروازے سے کچھ لوگ داخل ہوتے تو ان پر حضرت ابن زبیررضی اللہ عنہما اکیلے حملہ کرکے ان کو مسجدحرام سے نکال دیتے ۔ وہ اسی طرح بہادری سے لڑرہے تھے کہ اتنے میں مسجد کے کنگروں میں سے ایک کنگر ااُن کے سر پر آگرا جس سے نڈھال ہو کر وہ زمین پر گرپڑے اور وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے:

اے میری اماں جان حضرت اسماء! اگر مجھے قتل کردیا جائے تو آپ مجھے بالکل نہ روئیں کیونکہ میری خاندانی شرافت اور میرا دین محفوظ اور باقی ہے اور وہ کاٹنے والی تلوار باقی رہ گئی ہے جس کو پکڑنے سے میرا دایاں ہاتھ کمزور اور نرم پڑتا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online