Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۹

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۹

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 667)

جس کو سن کر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا :فواللّٰہ ماھو الا ان رأیت اللّٰہ شرح صدرابی بکر للقتال اور اسی وجہ سے یہ لوگ طرح طرح کی تاویلات کرتے اور شبہات کی پناہ لینے پر مجبور ہوئے، چنانچہ ان کی چندرکیک تاویلیں آپ کے سامنے آچکی ہیں۔

 ۵)ان مانعینِ زکوٰۃ کو تاویل کے باوجود باجماع صحابہ مرتد اور واجب القتال قرار دیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ زکوٰۃ کا خالص عبادت خداوندی اورفریضہ الہٰی ہونا ایک ایسی واضح حقیقت ہے کہ اس کا انکار کرنے کے لئے اگر کوئی شخص تاویل کے سینکڑوں لبادے اوڑھ لے تب بھی اس کا کفر و نفاق نہیں چھپ سکتا۔

 اب تک کے مضمون  میں ہم بتلا چکے ہیں کہ زکوٰۃ کی فرضیت اور اس کی عبادتی شان کا منکر حضراتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک مرتد ہے، اسی بنا پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مانعینِ زکوٰۃ سے قتال کیا اور کبار صحابہ نے بالآخر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے موقف سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ اس کو موصوف کے اثر جلیلہ میں شمارکیا اور برملا اظہار کیا کہ اس اقدام سے زکوٰۃ اور دوسرے ضروریات دین محفوظ ہوگئے اور ارکان ملحدین وزائغین کے دست و برد سے مصون ہوگئے۔ اب کسی کو یہ جرأت نہیں ہوگی کہ اسلام کا کلمہ پڑھتے ہوئے اسلام کے کسی رکن کا انکار کردے۔

 اجماع صحابہ کے بعد ہم اجماع امت کے سلسلہ میں کچھ نقول پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ ناظرین واقف ہوسکیں کہ زکوٰۃ کی فرضیت اور اس کے عبادت ہونے پر اور اس کے منکر کی تکفیر پر نہ صرف صحابہ بلکہ پوری امت کا اجماع و اتفاق رہا ہے اور اس سلسلہ میں کسی متنفس سے بھی اختلاف منقول نہیں ہے۔

 ترجمان احناف امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ فرماتے ہیں:

لان الصدقۃ عبادۃ فلا یجب علی الکافر

وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ عبادت ہے اس لئے کافر پر واجب نہیں ہے۔

کافر پر زکوٰۃ واجب نہ ہونا امت کا اجماعی مسئلہ ہے اس کی واضح دلیل یہی ہے جو امام صاحب موصوف دے رہے ہیں کہ زکوٰۃ عبادت ہے اور عبادت کسی کافر پر واجب نہیں ہو سکتی۔ زکوٰۃ اگر ٹیکس ہوتی تو مومن و کافر کی تفریق نہیں ہوتی کیونکہ ٹیکس جس طرح مومن پر عائدہوتا ہے اسی طرح کافر پر بھی ۔

امام شافعی المطلبی الہاشمی اپنی بے عدیل کتاب ’’الأم‘‘ میں زکوٰۃ کی فرضیت اور اس کا عبادت ہونا ثابت فرمارہے ہیں:

امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:وماامرواالا لیعبدوا اللّٰہ مخلصین لہ الدین حنفاء ویقیموا الصلوٰۃ ویؤتوا الزکوٰۃ وذلک دین القیمۃ ’’ان کو حکم یہی ہوا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اس طرح کہ عبادت کو اسی کے لئے خاص رکھیں یکسو ہو کر اور نماز کی پابندی رکھیں اور زکوٰۃ دیا کریں اور یہی طریقہ ہے درست مضامین کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتلایا کہ انسانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اس طرح کہ بندگی کو کامل طور پر اس کے لئے خاص کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کریں۔

 امام شافعیؒ فرمارہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو اس بات کا حکم دیا تھا کہ وہ صرف اسی کی بندگی کریں، بندگی میں شرک کی قطعاً آمیز ش نہ ہو، بندگی اور عبادت کے دو اہم شعبے بھی ساتھ ہی ساتھ ذکر فرمائے، ایک تو اقامت صلوٰۃ دوم ایتائے زکوٰۃ، کیونکہ صلوٰۃ عبادتِ بدن ہے اور زکوٰۃ عبادت مال ہے، غرض آیت کریمہ سے زکوٰۃ کی فرضیت اور س کا عبادت ہونا بالکل واضح ہے۔

 اور اس کے آخر میں امام موصوف فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کی فرضیت تو اپنی کتاب مقدس میں بیان فرمادی ہے( لیکن تفصیلات بیان نہیں فرمائیں)لہٰذا اپنے نبیﷺ کی زبان سے بتلایا کہ کس قدر مال میں زکوٰۃ آتی ہے ،نیز زکوٰۃ والے اموال میں کہاں زکوٰۃ برقرار رہتی ہے اور کہاں ساقط ہوجاتی ہے، پھر کچھ مال ایسے بھی ہیں جن میں سرے سے زکوٰۃ واجب ہی نہیں ہوتی۔

امام جلیل کے ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زکوٰۃ کی فرضیت ،مصارفِ زکوٰۃ بیان فرمائے لیکن باقی تفصیلات اپنے نبی کریمﷺ کی زبان مبارک سے بیان فرمائیں، لہٰذا آپﷺ نے اپنی احادیث میں اس کی تفصیلات بیان فرمائیں ۔نصاب، مقدار و محل ، زکوٰۃ کن پر ہوتی ہے اور کن پر نہیں، اسی طرح زکوٰۃ کس مال پر آتی ہے اور کس پر نہیں، غرض یہ تمام تفصیلات آپ نے بیان فرمائیں ۔

امام ابو سلیمان الخطابی الشافعیؒ(المتوفیٰ ۳۸۸ ) ایک حدیث کی شرح کے ذیل میں فرماتے ہیں:

بتلائیے کہ اگر کوئی گروہ مسلمانوں کازکوٰۃ کی فرضیت کا انکارکرے اسی طرح یہ گروہ زکوٰۃ امام کو ادانہ کرے تو کیا ان کو باغی سمجھا جائے گا، جواب یہ ہے کہ نہیں! کیونکہ اس زمانہ میںزکوٰۃ کی فرضیت کا جو شخص بھی انکار کرتا ہے وہ باجماع جمیع مسلمین کافر ہے…

امام ابو سلیمان الخطابی الشافعی کس قدر صراحت سے فرمارہے ہیں کہ زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور زکوٰۃ کو ٹیکس سمجھنا درحقیقت اس کی فرضیت کا انکار ہے۔

اس کے بعد مزید صراحت کرتے ہیں:ـ

آج دین اسلام پھیل گیا ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت کا علم مشہور و معروف ہوچکا ہے جس کو ہر خاص و عام سبھی جانتے ہیں اور عالم وجاہل اس میںبرابر کے شریک ہیں، اس لئے جو بھی شخص کسی بھی تاویل کے پردہ میں اس کا انکار کرے اس کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔

 زکوٰۃ کی فرضیت جس طرح خاص و عام کو معلوم ہے اسی طرح اس کی عبادتی شان بھی ہر ایک کو معلوم ہے، اس لئے فرضیت کا منکر جس طرح معذور نہیں اسی طرح اس کی عبادتی شان کا منکر بھی معذور نہیں ہے۔

 امام ابو الولید محمد بن احمد بن رشد الکبیر المتوفی ۵۲۰؁ھ نے اپنی کتاب’’المقدمات‘‘ میں زکوٰۃ کی فرضیت ، اس کے وجوب اور عبادت ہونے پر بڑی سیر حاصل بحث کی ہے، پوری بحث کو ہم یہاں بیان نہیں کرسکتے البتہ جستہ جستہ اقتباسات حاضر خدمت ہیں:

والزکاۃ واجبۃ کوجوب الصلوٰۃ اوجبھا اللّٰہ تعالیٰ علی عبادہ وقرنھا بھا فی غیر ماآیۃ من کتابہ

(زکوٰۃ اس طرح فرض ہے جس طرح نماز،اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے بندوں پر فرض کیا ہے اور اپنی کتاب میں نماز کے ساتھ اس کومتعدد آیات میں ملا کر ذکر کیا ہے)

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online