Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 667)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 667)

جیساکہ پہلے عرض کیا گیا کہ غیبت کرنا ،غیبت سننا، دونوں گناہ کبیرہ ہیں، لہٰذا اگر کسی موقع پر کسی کی غیبت ہونے لگے تو حاضرین کو چاہئے کہ اس کو روکیں اور جس کی غیبت ہو رہی ہے اس کا پارٹ لیں، اگر تردید کرنے کی قدرت نہ ہو تو دل سے برا سمجھتے ہوئے وہاں سے اُٹھ جائیں، اُٹھنا تو اپنے اختیار میں ہے۔ غیبت سننے میں کوئی مجبوری نہیں جیساکہ غیبت کرنے والے کے لیے بھی کوئی مجبور نہیں ہوتی، دوزخ کی آگ کا تصور کریں تو ہر گناہ چھوڑنا آسان ہوجاتا ہے۔

 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے پاس اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی گئی اور وہ اس کی مدد کرنے پر قدرت رکھتے ہوئے مدد کردیتا ہے( یعنی اس کی حمایت کرتا ہے اور اس کی طرف سے دفاع کرتا ہے اور غیبت کرنے والے کو روک دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس میں مدد فرمائے گا اور اگر قدرت ہوتے ہوئے اس کی مدد نہ کی تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی گرفت فرمائے گا۔( مشکوٰۃ المصابیح)

جس کی غیبت ہو رہی ہے اس کی طرف سے دفاع کرنے کا اجر:

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے اپنے بھائی کے گوشت کی طرف سے دفاع کیا جو غیبت کے ذریعہ کھایا جا رہا تھا تو اللہ تعالیٰ شانہ کے ذمہ ہوگا کہ اس کو دوزخ سے آزاد فرمادے( مشکوٰۃ المصابیح)

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بھی کوئی مسلمان اپنے بھائی کی آبرو کی طرف سے فارغ کرے( یعنی اس کی بے آبروئی کے موقع پر جو غیبت وغیرہ کے ذریعہ ہو رہی ہے اس کی حمایت کرے اور جو لوگ بے آبروئی کررہے ہو ں ان کی کاٹ کرے تو اللہ جلّ شانہ کے ذمہ ہوگا کہ قیامت کے دن دوزخ کو اس سے دور فرما دے، پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی’’ وکان حقا علینا نصرالمومنین‘‘( الروم)( مشکوٰۃ المصابیح)

پس اے بہنو! غیبت کرنے اور غیبت سننے، کسی کا مذاق بنانے اور نقل اتارنے اور ہر اس فعل سے سختی سے بچو اور اپنی اولاد کو اور سہیلیوں کو اور ملنے والیوں کو بچائو، جس سے کسی مسلمان کی آگے یا پیچھے بے آبروئی ہو رہی ہو۔

تانبے کے ناخنوں سے چہروں اور سینوں کوچھیلنے والے

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:جب میرے رب نے مجھے معراج کرائی تومیں ایسی قوم پر گزرا جس کے تانبے کے ناخن تھے وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے، میں نے پوچھا: اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟انہوں نے جواب دیا :یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کاگوشت کھاتے ہیں( یعنی غیبتیں کرتے ہیں) اور لوگوں کی آبروریزی کرتے ہیں ( مشکوٰۃ المصابیح)

بہت سے مرد اور عورت مجلس والوں کو ہنسانے کے لیے کسی حاضریا غیب کی غیبت کرتے ہیںیا مسخرہ پن کرتے ہیں یا نقل اتارتے ہیں اس وقت تو ذراسی دیر کی ہنسی میں نفس کو ذرا مزہ آجاتا ہے لیکن جب اس کی سزا ملے گی تو اس مزہ کا پتہ چلے گا، فرمایا حضور اقدسﷺ نے کہ بے شک بندہ کبھی کوئی ایساکلمہ کہہ دیتا ہے جس سے لوگوں کو صرف ہنسانا مقصود ہوتا ہے اس کلمے کی وجہ سے اتنا زیادہ گہرائی میں گرتا چلاجاتا ہے کہ ا س گہرائی کا فاصلہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے جتنا فاصلہ آسمانوں وزمین کے درمیان میں ہے( مشکوٰۃ المصابیح)

کسی کو تہمت لگانے کا عذاب

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضوراقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے کسی مومن کو منافق سے بچایا( یعنی غیبت کرنے والے کی تردید کی اور جس کی غیبت ہو رہی ہو اس کی حمایت کی)تو اللہ جلّ شانہ قیامت کے دن ایک فرشتہ بھیجیں گے ،جو حمایت کرنے والے  کے گوشت کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا( یعنی یا تو اسے دوزخ میں داخل نہ ہونے دے گا اور اگر وہ داخل ہوگیا تو اس کو عذاب نہ ہونے دے گا)اور جس کسی نے کسی مسلمان کو تہمت لگادی تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کے پل پر ٹھہرائے رکھے گا یہاں کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے( صاف ستھرا) ہوکر نکل جائے گا۔(مشکوٰۃ المصابیح: ص ۴۲۴ ازابودائود)

اس حدیث پاک میں دو باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، اول یہ کہ جو کوئی کسی کی غیبت کرے تو جس کی غیبت کی جارہی ہو اس کی طرف سے دفاع کیا جائے اور اس کا بہت بڑا فائدہ بتایا ہے یہ مضمون غیبت کے بیان میں بھی گزرہو چکا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online