Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

نفیس پھُول ۔ 667

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 667)

ابو بکر مروزیؒ کہتے ہیں کہ میں نے احمدبن حنبلؒ کو نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے سنا،میں نے بات چلاتے ہوئے کہا:ابن ادہم نے فرمایا تو امام احمدؒ نے مجھے پوری بات کہنے کی مہلت نہ دی اور چیخ کر فرمانے لگے: میں تجھے آنحضرتﷺ اور آپ کے اصحاب کا حال سناتا ہوں اور تو مجھے ادھر ادھر کی باتیں سناتا ہے اور یہ بھی سنو کہ اگر کوئی شخص زُہد کا دعویٰ کرتا ہے اور اسباب سے انقطاع اختیار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں کھائوں پیوں گا نہیں، گرمی میں دھوپ سے چھائوں میں نہیں جائوں گا، سردی میں گرمی اور حرارت نہیں حاصل کروں گا تو یہ شخص بالا تفاق گنہگار ہے۔ ایسے ہی اگر وہ عیال دار ہوتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ مجھے کمانے کی ضرورت نہیں ان کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور اس کے بچے کسی آفت میں مبتلا ہوگئے تو گنہگار ہوگا، جیسا کہ آپﷺ کا ارشاد مبارک ہے ’’آدمی کے لئے یہ گناہ کافی ہے کہ ایسے لوگوں کو ضائع کردے جن کی ذمہ داری اس کے سر ہے‘‘ اور یہ بھی جان رکھو کہ کسب معاش کا اہتمام کرنا پریشانیوں سے نجات دلاتا ہے، دل کو فراغ ملتا ہے، مخلوق میں طمع رکھنے سے بچاتا ہے کیونکہ طبیعت کا بھی کچھ حق ہے جس کا وہ تقاضا کرتی ہے اور خود شریعت نے بھی اس کی وضاحت فرمائی ہے، ارشاد پاک ہے:’’ بیشک تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے اور تیری آنکھ کا تجھ پر حق ہے اور طبیعت کی مرید سالک کے ساتھ ہونے کی مثال اس کتے کی سی ہے جو رات کو آنے والے کو پہچانتا نہیں بلکہ ہر چلنے والے کو دیکھ کر بھونکتا ہے اور وہ اگر اس کی طرف ٹکڑا ڈال دے تو چپ ہوجاتا ہے۔ الحاصل یہ کہ اسباب کو اختیار کرنے کا مقصد صرف اور صرف افکارِ پریشان کا علاج  ہے، اس اصول کو خوب سمجھئے کہ بہت اہم ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online