Bismillah

686

۱۴تا۲۰رجب المرجب۱۴۴۰ھ  بمطابق ۲۲تا۲۸مارچ۲۰۱۹ء

بابُ الجہاد (تابندہ ستارے۔676)

بابُ الجہاد

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 676)

اگر میں اس کا اقرار کرلوں حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ میں اس سے بری ہوں تو میں ایسی بات کا اقرار کروں گی جو ہوئی ہی نہیں ہے اور لوگ جو کہہ رہے ہیں اگر میں اس کا انکار کروں تو آپ لوگ مجھے سچا نہیں مانیں گے۔ پھر میں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام لینا چاہا مگر اس وقت مجھے یاد نہ آیا، تو میں نے کہا: اب میں بھی وہی بات کہتی ہوں جو حضرت یوسف علیہ السلام کے والد نے کہی تھی :

فصبرجمیل واللّٰہ المستعان علی ما تصفون

اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی سے مددمانگتا ہوں اس بات پر جو تم ظاہر کرتے ہو۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! حضور اکرمﷺ اپنی مجلس سے ابھی اُٹھے نہیں تھے کہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہونے لگی اور حسبِ سابق آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ آپﷺ کو آپ کے کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا اور چمڑے کا ایک تکیہ آپﷺ کے سرکے نیچے رکھ دیا گیا۔ میں نے جب (وحی نازل ہونے کا ) یہ منظر دیکھا تو نہ میں گھبرائی اور نہ میںنے اس کی پرواہ کی، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میں بے قصور ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ پر ظلم نہیں فرمائیں گے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں عائشہ کی جان ہے، میرے والدین پر اس وقت سخت پریشانی کی حالت تھی۔ ابھی حضور اکرمﷺ کی وہ حالت دور ہوئی تھی کہ مجھے یقین ہوگیا کہ اس ڈر سے میرے والدین کی جان نکل جائے گی کہ کہیں اللہ کی طرف سے لوگوں کی بات کی تصدیق نہ آجائے۔ پھر جب آپﷺ کی حالت ٹھیک ہوگئی تو آپ ﷺبیٹھ گئے، حالانکہ سردی کا موسم تھا لیکن آپﷺ کے چہرۂ مبارک سے موتیوں کی مانند پسینہ ڈھلک رہا تھا۔آپﷺ اپنے چہرہ سے پسینہ پونچھتے ہوئے فرمانے لگے: اے عائشہ! تمہیں خوشخبری ہو! اللہ عزوجلّ نے تمہاری براء ت نازل فرمادی ہے۔ میں نے کہا: الحمدللہ! پھر آپﷺ لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے اور ان میں بیان فرمایا اور اس بارے میںجو قرآن اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا وہ لوگوں کو پڑھ کر سنایا ۔ پھر حضرت مسطح بن اَثاثہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت حمنہ بنتِ جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں حکم فرمایا جس پر انہیں حد لگائی گئی۔ ان حضرات نے اس بے حیائی کی بات کے پھیلانے میں حصہ لیا تھا۔

امام احمد نے یہی حدیث بہت لمبی بیان کی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ (جب حضور اکرمﷺ نے میری براء ت کی آیت سنائی تو) میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ کھڑی ہوکر حضور اکرمﷺ کے پاس جائو (اور حضور اکرمﷺ کا شکریہ ادا کرو) میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں کھڑی ہوکر حضور اکرمﷺ کے پاس نہیں جائوں گی اورمیں تو صرف اللہ عزوجلّ ہی کی تعریف کروں گی جس نے میری براء ت نازل فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے:

ان الذین جاء وابالافک عصبۃ منکم(جو لوگ لائے ہیں یہ طوفان تمہیں میں ایک جماعت ہیں)سے دس آیتیں نازل فرمائیں۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت مسطح رضی اللہ عنہ پر رشتہ دار ہونے یا غریب ہونے کی وجہ سے خرچ کیا کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے میری براء ت کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا :ا للہ کی قسم! جب اس مسطح نے عائشہ کے بارے میں اتنی بڑی بات کہہ دی ہے تو اب اس کے بعد اس پر کبھی خرچ نہیں کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

اور قسم نہ کھائیں بڑے درجے والے تم میں سے اور کشائش والے اس پر کہ دیں قرابتیوں کو اور محتاجوں کو اور وطن چھوڑنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کرے اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان۔

(اس آیت کو سن کر) حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف فرمائے۔ پھر حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کو جو خرچہ دیا کرتے تھے وہ دینا شروع کردیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس کا خرچ کبھی نہیں روکوں گا۔

قبیلہ بنو غفار کی ایک عورت فرماتی ہیں کہ میں بنو غِفار کی عورتوں کے ساتھ حضور اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ آپﷺ غزوۂ خیبر میں تشریف لے جارہے تھے ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہم بھی آپ ﷺکے ساتھ اس سفر میں جانا چاہتی ہیں۔ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کریں گی اور جتنا ہوسکا ہم مسلمانوں کی مدد کریں گی۔ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ برکت دے! چلو۔ ہم بھی آپ ﷺکے ساتھ گئیں۔ میں نو عمرلڑکی تھی، حضور اکرمﷺ نے اپنے کجاوے کے تھیلے پر مجھے اپنے پیچھے بٹھالیا۔ اللہ کی قسم! حضورﷺ صبح کے قریب نیچے اُترے اور اونٹنی بٹھادی تو میں بھی کجاوے کے تھیلے سے اُترگئی۔ تو میں نے دیکھاکہ تھیلے کو میرا خون لگا ہوا ہے اور یہ مجھے پہلا حیض آیا تھا۔ مجھے شرم آگئی اور میں سمٹ کر اونٹنی کی طرف چلی گئی۔ جب حضور اکرمﷺ نے مجھے اس حال میں دیکھا تو آپﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ شاید تمہیں حیض آگیا ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺنے فرمایا: اپنی حالت درست کرلو۔ پھر ایک برتن میں پانی لے کر اس میں نمک ڈال لو، پھر کجاوہ کے تھیلے کو جہاں خون لگا ہوا ہے وہ دھو ڈالو پھر اپنی جگہ جاکر بیٹھ جائو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خیبرکو فتح کیا تو حضور اکرمﷺ نے ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے کچھ حصہ دیا اور یہ ہار جو تم میرے گلے میں دیکھ رہی ہو یہ حضورﷺ نے مجھے دیا تھا اور اپنے ہاتھ سے میرے گلے میں ڈالا تھا۔(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online