Bismillah

686

۱۴تا۲۰رجب المرجب۱۴۴۰ھ  بمطابق ۲۲تا۲۸مارچ۲۰۱۹ء

مستدرک حاکم کی ایک حدیث۔۲

مستدرک حاکم کی ایک حدیث۔۲

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 676)

ابن عدی نے کہا ہے کہ علماء جرح نے اسے کذاب کہا ہے، حافظ ابن حجرؒنے لسان المیزان ص ۲۵ ج۱ پر اس کا طویل ترجمہ ذکر کیا ہے اس کے چند ٹکڑے درج ذیل ہیں:

ابن عدی کہتے ہیں: علمائے جرح وتعدیل نے اس کو ’’جھوٹا‘‘ قرار دیا ہے اور اس کی نقل کردہ بہت سی روایتیں بے سروپا ہیں، اس کی من گھڑت روایتوں میں سے ایک روایت وہ ہے جو طبرانی وغیرہ نے اس کی سند سے بروایت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مرفوعاً نقل کی ہے کہ جنت نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی کہ اے رب! کیا آپ نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ آپ مجھے دوستونوں سے زینت بخشیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ میں نے تجھے حسن حسین سے زینت نہیں دی؟ اس پر جنت مچلنے لگی جس طرح دلہن نازو خرام سے مچلتی ہے۔

ابن ابی حاتم ’’الجرح والتعدیل‘‘ میں فرماتے ہیں: میں نے اس سے مصر میں سماع کیا، مگر اس کی احادیث کو روایت نہیں کیا کیونکہ یہ متکلم فیہ ہے۔

ابن عدی نے محمد بن سعد السعدی کی وساطت سے امام نسائی کا قول نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس میمون کا بھائی اور چند اور لوگ بیٹھے تھے اتنے میں ابن رشدین آیا، لوگوں نے اس پر تالیاں پیٹیں اور اسے مخاطب کرکے کہا: ’’او جھوٹے!‘‘ ابن رشدین نے ان کے رویے کی مجھ سے شکایت کی تو میمون کے بھائی نے اس کو کہا: کیا احمد بن صالح تجھے جھوٹا نہیں کہتے؟‘‘

’’رشدین کا سارا گھرانا، احمد سے رشدین تک ضعف میں مشہور تھا۔‘‘

اس حدیث میں ایک دوسرے راوی عبدالرحمن بن محمد بن زیاد المحاربی ابو محمد الکوفی پر بھی بعض آئمہ نے جرح کی ہے ابو حاتم کا قول حافظ ابن حجر نقل کرتے ہیں:

ثقہ راویوں سے روایت کرے تو صدوق ہے مگر یہ مجہول راویوں سے بے سروپا روایتیں نقل کرتا ہے، اس لیے اس کی حدیث کا ستیاناس ہوجاتا ہے۔‘‘

عجلی کہتے ہیں:یہ تدیس کیا کرتا تھا۔ امام احمد نے معمر سے اس کی روایت کو ’’منکر‘‘ کہا ہے۔

مروان کے والد حکم بن العاص کے ترجمہ میں حافظ ابن حجر’’ الاصابۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:

ابن السکن فرماتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے اس (حکم) کے لیے بددعاء کی تھی، مگر یہ ثابت نہیں (محض افسانہ ہے)

حافظ نے اس سلسلہ میں چند حدیثیں بھی نقل کی ہیں اور سب پر کلام کیا ہے۔ ایک حدیث کے ضمن میں کہتے ہیں:

بیہقی نے ’’دلائل‘‘ میں اسی سند سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس سند میں ضرار بن صرد ایک راوی رافضیت میں بدنام ہیں۔‘‘

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی حدیث کے سلسلہ میں کہتے ہیں:

اصل قصہ بخاری میں ہے مگر اس میں یہ زیادتی نہیں۔

حاصل یہ کہ مستدرک کی وہ روایت جو ملک غلام علی صاحب نے مروان کی ملعونیت ثابت کرنے کے لئے پیش کی ہے اور جسے مولانا محمد تقی عثمانی نے فراخدلی سے قبول فرمالیا ہے، وہ صحیح نہیں۔ نہ حافظ ذہبی نے اس کی تصحیح پر صاد کیا ہے اور نہ اصول حدیث کے معیار ہی پر وہ پوری اُترتی ہے۔ مروان اور بنی اُمیہ کے بارے میں بیشتر روایات وحکایات کا یہی حال ہے کہ وہ کارخانہ رفض کی پیداوار ہیں اور یہ ایک الگ مقالے کا موضوع ہے۔ واللّٰہ یقول الحق وہو یہدی السبیل

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online