Bismillah

686

۱۴تا۲۰رجب المرجب۱۴۴۰ھ  بمطابق ۲۲تا۲۸مارچ۲۰۱۹ء

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 676)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 676)

سورۂ احزاب میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور بنات طاہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ عام مسلمانوں کی عورتوں کو بھی پردہ کا حکم دیا گیا ہے:

سورۂ احزاب میں یہ بھی ارشاد ہے:

اے نبیﷺ! آپ اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحب زادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادیجئے (کہ جب مجبوری کی بنا پر گھروں سے باہر جانا پڑے تو) اپنے (چہروں کے) اوپر (بھی) چادروں کا حصہ لٹکالیاکریں۔

 اس آیت سے چند امور ثابت ہوئے:

اول یہ کہ آنحضرتﷺ کی بیبیوں اور صاحبزادیوں کے ساتھ دیگر مسلمان عورتوں کو بھی پورا بدن اور چہرہ ڈھانک کر نکلنے کے حکم میں شریک فرمایا گیا ہے اس سے بھی ان لوگوں کی خام خیالی کی واضح طور پر تردید ہوگئی جو یہ باطل دعویٰ کرتے ہیں کہ پردہ کا حکم صرف آنحضرتﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے لئے مخصوص تھا۔ دوسری چیز جو اس آیت سے ثابت ہورہی ہے وہ ہے پردہ کے لئے چہرہ پر چادر لٹکانے کا حکم اس سے ان جاہل اور گمراہ تجدد پسندوں کے دعوئوں کی تردید بھی ہوگئی جو کہتے ہیں کہ عورتوں کو چہرہ چھپا کر نکلنے کا حکم اسلام میں نہیں ہے۔

سورۂ احزاب میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور بنات طاہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ عام مسلمانوں کی عورتوں کو بھی پردہ کا حکم دیا گیا ہے:

سورۂ احزاب میں یہ بھی ارشاد ہے:

اے نبیﷺ! آپ اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادیجئے (کہ جب مجبوری کی بنا پر گھروں سے باہر جانا پڑے تو) اپنے (چہروں کے) اوپر (بھی) چادروں کا حصہ لٹکالیاکریں۔

 اس آیت سے چند امور ثابت ہوئے:

اول یہ کہ آنحضرتﷺ کی بیبیوں اور صاحبزادیوں کے ساتھ دیگر مسلمان عورتوں کو بھی پورا بدن اور چہرہ ڈھانک کر نکلنے کے حکم میں شریک فرمایا گیا ہے، اس سے بھی ان لوگوں کی خام خیالی کی واضح طور پر تردید ہوگئی جو یہ باطل دعویٰ کرتے ہیں کہ پردہ کا حکم صرف آنحضرتﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے لئے مخصوص تھا۔ دوسری چیز جو اس آیت سے ثابت ہورہی ہے وہ پردہ کے لئے چہرہ پر چادر لٹکانے کا حکم، اس سے ان جاہل اور گمراہ تجدد پسندوں کے دعوئوں کی تردید بھی ہوگئی جو کہتے ہیں کہ عورتوں کو چہرہ چھپا کر نکلنے کا حکم اسلام میں نہیں ہے۔

تفسیر ابن کثیر میں آیت بالا کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کاارشاد نقل کیا ہے:

یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنین کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب کسی مجبوری سے اپنے گھروں سے نکلیں تو ان چادروں سے چہروں کو ڈھانک لیں جو سروں کے اوپر بڑی چادریں اوڑ ھ رکھی ہیں اور راہ چلنے کے لیے صرف ایک آنکھ ظاہر کریں۔

 تیسری جوچیز اس آیت سے واضح ہو رہی ہے وہ پردہ کے لیے’’جلباب‘‘استعمال کرنے کا حکم ہے، عربی زبان میں جلباب بڑی چادر کو کہتے ہیں جسے عورتیں اپنے پہننے کے کپڑوں کے اوپر لپیٹ کر باہر نکلتی ہیں، قرآن شریف نے آیت بالا میں حکم دیا ہے کہ عورتیں جس طرح جلباب اعضاء جسم پر اور پہنے ہوئے کپڑوں پر لپیٹتی ہیں اس طرح چہروںپر بھی اس کاایک حصہ لٹکالیاکریں، اس طرح چادر لپیٹنے کا رواج بعض علاقوں کی عورتوں میں اب تک ہے اور برقعہ اسی جلباب کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے ،برقعہ کی نسبت یہ کہنا کہ شریعت اسلامیہ میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، سراسر جہالت ہے۔برقعہ کا ثبوت یدنین علیھن من جلابیبھن سے ہورہا ہے۔

 اوربعض جاہل جویہ کہتے ہیں کہ یہ حکم ہنگامی حالت کے لیے تھا، اس وقت منافقین شرارت کرتے تھے پس جبکہ منافقین کی سرکوبی ہوگئی اور ان سے خطرہ نہ رہا تو یہ حکم بھی منسوخ ہوجانا چاہئے، جواب اس کا یہ ہے کہ فتنہ وفساد کوروکنے کے لیے یہ حکم دیاگیا تھااور اس دور میں جبکہ فتنہ فساد بہت زیادہ ہے، عصمت و عفت کے دشمن بڑھ گئے ہیں، جوبد نظر اور بد نفس ہیں جو بدباطنی کے باعث عورتوں کو تانکتے جھانکتے اور پریشان کرتے ہیں تو اس حکم کی اہمیت اور زیادہ ہوگئی ،آیت کا سبب نزول جو بھی ہو حکم عام ہواکرتاہے۔

 ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب اوالقی السمع وھو شھید

ایک غلط فہمی کی تردید:

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پردہ کا حکم تو اسلام میں ہے لیکن چہرہ کا پردہ نہیں ہے، ان نادانوں کی سمجھ میں یہ بھی نہیں آتاکہ اگر چہرہ کا پردہ نہیں ہے تو مردوں اور عورتوں کو نظریں نیچی رکھنے کا کیوں حکم ہے؟(جو سورئہ نور میں واضح طور پر موجود ہے) چہرہ ہی میں تو کشش ہے اور وہی مجمع المحاسن ہے۔ سورئہ احزاب کی آیت یدنین علیھن من جلابیبھن سے چہرہ ڈھانکنے کا واضح حکم معلوم ہو رہاہے اور بعض لوگوں کو نماز کے مسئلہ سے دھوکا ہوا ہے، عورت کا ستر نماز کے لیے اتنا ہے کہ چہرہ اور گٹوں تک دونوں ہاتھوں اور ٹخنوں تک دونوں قدموں کے علاوہ پورا جسم ایسے کپڑے سے ڈھانکا ہوارہے کہ بال اور کھال اچھی طرح چھپ جائے، نماز میں اگر چہرہ کھلا رہے تو نماز ہوجائے گی۔ فقہ کی کتابوں میں یہ مسئلہ شرائط نمازکے بیان میں لکھا ہے پردہ کے بیان میں نہیں لکھا، منہ کھول کو نماز ہوجانے کے جواز سے غیر محرم کے سامنے بے پردہ ہوکر آنے کاثبوت دینا بڑی بددیانتی ہے، فقہاء پر اللہ کی ہزاروں رحمتیں ہوں ان پاک طینت بزرگوں کے دل پہلے ہی کھٹک گئے تھے کہ فاسد الخیال لوگ مسائل نمازکی تصریحات سے نامحرموں کے سامنے بے پردہ ہوکر آنے پر استدلال کریں گے۔ درمختار میں جہاں شرائط نماز کے بیان میں یہ مسئلہ لکھا ہے کہ چہرہ اور کفین( ہتھیلیاں) اور قدمین( پائوں) ڈھانکنا صحت نماز کے لیے ضروری نہیں ہیں وہیں یہ بھی درج ہے:(جاری ہے)

وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لا لانہ عورۃ بل لخوف الفتنۃ الخ

 اور جوان عورت کو( نامحرم) مردوں کے سامنے چہرہ کھولنے سے روکا جائے گا ( اور یہ روکنا) اس وجہ سے نہیں کہ چہرہ (نماز کے) ستر میں داخل ہے بلکہ اس لیے کہ ( نامحرم) کے سامنے چہرہ کھولنے میں فتنہ کا خوف ہے۔(درمختار،شامی ص ۲۸۴ج۱)

شیخ ابن ہمام ؒ زادالفقیر میںشرائط نمازبیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وفی الفتاوی الصحیح ان المعتبر فی فسادالصلوٰۃ انکشاف مافوق الاذنین و فی حرمۃ النظر یسوی بینھا ای مافوق الاذنین وتحتھما

فتاویٰ کی کتابوں میں ہے کہ مذہب صحیح یہ ہے کہ کانوں سے اوپر( یعنی بال اورسر) کے کھل جانے سے نماز فاسد ہوگی اور غیر مردوں کے لیے کانوں کے اوپر حصہ اورکانوں کے نیچے کا حصہ یعنی چہرہ وغیرہ کے دیکھنے کاایک ہی حکم ہے یعنی دونوں حصوں کا دیکھنا حرام ہے۔

 (جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online