Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رمضان اور قرآن۔۳

رمضان اور قرآن۔۳

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 694)

صفت ربوبیت کایہ چشمہ فیاض اس ماہ رمضان میں ہی موجزن ہوااورانسانی ہدایت کی آخری کتاب نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ کا یہ وہ آخری پیغام ہے کہ اس کے بعد پھر کوئی پیغام آنے والا نہیں ہے۔

اس لیے اس میں ہدایت ربانی کا آفتاب اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ جلوہ فرما ہے، اسی حقیقت کو ھدی للناس کہہ کر واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح پچھلی امتوں پر ہدایت و رہنمائی کے لیے آسمانی کتابیں نازل فرمائی ہیں یہ کتاب بھی اسی جنس کی ہے ہدایت ہونے میں، اس میں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے یہ کتاب بھی اپنے اندر ہدایت اور راہنمائی کے سارے اقدار لیے ہوئے ہے، پھر بینات من الھدیٰ والفرقان کہہ کر اس کتاب عظیم کا دوسری کتابوں سے امتیاز بیان فرمایا کہ دوسری آسمانی کتابوں اور اس کتاب میں یہ فرق ہے کہ اس میں ہدایت ربانی کھلے کھلے اور واضح دائل وبراہین کے ساتھ موجود ہے، حق و باطل اور فضائل و رذائل کا فرق اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ اس کے علاوہ فرق ممکن نہیں ہے، اس لیے اس عظیم الشان نعمتِ ہدایت پر اللہ تعالیٰ کاشکریہ بھی فرض کیاگیا جو قرآن کی تشکیل میں اس نے ہمیں عطاء فرمائی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایک شکر گزار انسان کے لیے کسی نعمت کی شکر گزاری اور کسی احسان کے اعتراف کی بہترین صورت اگر ہو سکتی ہے تو وہ صرف یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس مقصد کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ تیار کرے جس کے لیے عطاء کرنے والے نے وہ نعمت عطاء کی ہو۔قرآن کریم ہم کو اس لیے عطاء فرمایاگیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کا راستہ جان کر اس پر چلیں اور ہدایت ربانی کو اپنے قلوب میں پوری طرح جذب کریں، پھر اس کے بعد پوری دنیا کو اس پر چلائیں، اس مقصدِ عظیم کے لیے ہم پر اس مبارک مہینہ میں تین عبادتیں رکھی گئیں:

 (۱) روزہ(۲) تراویح(۳)اعتکاف

اس صحبت میں صرف روزہ اور قرآن کا تعلق بیان کیاجاتا ہے۔

 روزہ:

اس اہم ترین عبادت کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں بتلایا کہ یہ قدیم ترین عبادت ہے اور پچھلی امتوں پر بھی فرض رہی ہے ،چنانچہ فرمایاگیا:

’’اے ایمان والو! تم پرروزہ اس طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا توقع ہے کہ تم متقی بن جائو گے۔‘‘

 آیت کریمہ میں فرضیت روزہ کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح فرمایا کہ یہ عبادت پچھلی امتوں پر فرض رہی ہے، اس لیے امت محمدیہ جس کے سر پر امامت عالم کا تاج رکھا گیا ہے وہ کس طرح اس عبادت اور اس کے ثمرات سے محروم رہ سکتی تھی۔ پھر ا س کی حکمت بتلائی گئی کہ روزہ کی حکمت یہ ہے کہ تم تقویٰ کے زیور سے آراستہ ہو کر شہادت علی الناس کا فریضہ ادا کرو۔ اس آیت کے ذیل میں……امام رازیؒ قفال مروزی سے نقل کرتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے ہم کواس اہم عبادت کامکلف بنایا تودیکھو کہ اس عبادت کو کس طرح آسان فرمادیا پہلے تو کہا کہ یہ عبادت تم پر نئی فرض نہیں کی جارہی ہے بلکہ تم سے پہلے ساری امتیں اس عبادت کی مکلف تھیں اور جب کوئی مشکل چیز عام ہوجائے تو وہ آسان ہوجاتی ہے پھر روزہ کی فرضیت کی حکمت ظاہر فرمائی کہ روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اگر روزہ تم پرفرض نہیں ہوتا تو یہ مقصد عظیم فوت ہوجاتا، اس کے بعد فرمایا کہ روزے بھی چند دن کے ہیں۔ اگر ساری عمر یا سال کے اکثر حصے میں روزہ فرض ہوتا تو تم مشقت میں پڑ جاتے ، بعدازاں فرمایا کہ روزہ کی اہم عبادت کو سال کے بہترین زمانہ میں رکھا یعنی رمضان کے مہینہ میں جس میں قرآن کریم جیسی کتاب نازل فرمائی، آخر میں فرمایا کہ اس عبادت کو ہرگز ترک نہ کرنا، اگر بیماری یا سفر کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکو تو صحت ہوجانے کے بعدیا سفر ختم ہوجانے کے بعد اس کی قضا ضرور کرلینا، اس طرح بیان کرنے سے بھی مشقت کا ازالہ فرمایا کہ تم کوروزہ کے سلسلہ میں سفر یا مرض کی صورت میں افطار کی اجازت دے دی، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل بے حدو حساب ہے۔‘‘

پیغمبرﷺ نے اس عبادت کے بہت سے گوشے واضح فرمائے ہیں، ایک حدیث میں آپﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرماتے ہیں:

’’ہر نیکی کابدلہ دس سے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا ہے، سوائے روزہ کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کابدلہ دوں گا۔‘‘

یہ حدیث رسول متعدد طرق سے متقارب الفاظ کے ساتھ مروی ہے، حافظ عراقی نے تخریج احیاء میں اس کے مختلف الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں، ہم نے جو الفاظ نقل کئے ہیں یہ صحیح بخاری میںبروایت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ مروی ہیں۔ حدیث کا پہلا جملہ تو واضح ہے دوسرے جملہ پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ساری ہی عبادتیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں وہ کونسی خصوصیت تھی کہ روزہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی۔

اس سلسلہ میں علامہ مرتضیٰ زبیدیؒ نے چند اقوال نقل کئے ہیں جن کی تلخیص درج ذیل ہے:

۱)کھانے پینے سے بے نیازی حق تعالیٰ کی شان ہے، بندہ جب روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے کچھ مشابہت حاصل کرتا ہے اس لیے فرمایاگیا کہ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔

۲)نماز، سجدہ،رکوع، ذکر، صدقہ سے غیر اللہ کی بندگی،بت پرستوں یاگمراہ فرقوں نے بھی کی لیکن روزہ سے غیراللہ کی بندگی نہیں کی گئی، کبھی نہ سنا گیا یادیکھا گیا کہ کسی بت پر ست یا گمراہ نے اپنے بت یا بزرگ کے نام پر روزہ رکھا ہو اس لیے فرمایا گیا کہ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کابدلہ دوں گا۔

 ۳)اگر کوئی کسی کا حق غضب کرے یاتکلیف وایذاء دے اوردنیا میں اس کا حق ادا کرے یا معاف کرائے بغیر مرجائے تو اللہ تعالیٰ ظالم سے اس کی نماز، عبادات اس کے ظلم کے بدلہ میں دلوائیں گے، البتہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جوکسی کے حق میں بدلہ میں نہیں دیا جائے گا اس لیے اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف فرمائی۔

۴)عام عبادات اور طاعات کا قانون یہ ہے کہ ہر نیکی کا ثواب دس گناسے سات گنا تک دیا جاتا ہے لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ اس میں یہ قانون نہیں، اللہ تعالیٰ اپنی جو د وسخا کا اظہار فرماتا ہے اور روزہ دار کوبے حدوحساب اجردیتا ہے، وجہ ظاہر ہے کہ روزہ صبر ہے اور صبر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

انما یوفی الصابرون اجرھم بغیرحساب

(صبر کرنے والوں کو بے حد و حساب اجردیا جائے گا)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor