Bismillah

591

۳۰رجب تا۶شعبان ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۸اپریل تا۴مئی۲۰۱۷ء

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ۔ ۶۶ (تابندہ ستارے۔576)

سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ (۶۶)

تابندہ ستارے ۔ ابو حفصہ (شمارہ 576)

صلاح الدین ایوبیؒکے اثر انگیز تعزیتی خطوط

نورالدین کی وفات کے بعد صلاح الدین ایوبیؒ نے مصر سے ملک الصالح اور دمشقی امراء کے نام نہایت اثر انگیز تعزیتی مراسلات بھیجے۔ ملک صالح کے نام اپنے تعزیتی خط میں اس نے لکھا:

’’ذیقعد بروز جمعۃ المبارک آنجناب کے اسم گرامی پر خطبہ جاری کیا گیا ہے اور موقفِ عظیم میں آپ کے لیے دعاء مانگی گئی ہے اور ایسی جماعت میںجو لغو گو اور خطاکار نہیں ہے۔ اس عاجز نے کلمۃ الاسلام کو اس لیے جمع کیا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ جماعت میں رحمت ہے۔ خدائے پاک ملک الصالح کی حکومت وسیادت کو ہمیشہ قائم رکھے اور ملک کو اس کی ذات سے اصلاح بخشے۔ یہ عاجز جس امر کی نیت رکھتا ہے( یعنی اس کی تائید و حمایت اور اس کے مقبوضات کو وسعت دینا) اس کی اس کو توفیق عطا ء فرمائے‘‘ دمشقی امرا ء کے نام صلاح الدین نے اپنے تعزیت نامہ میں لکھا:

’’مولیٰ(میرے مالک) نور الدین کی نسبت بری خبر ملی ہے۔ خدا ہم کو مولیٰ کی نسبت بری خبر سے بچائے اور اس کی عافیت کی خبر سے ہمارے چہرے اور دلوں کو روشن کرے۔ اس خبر کے سننے سے کمر ٹوٹ گئی ہے اور سینہ تنگ ہوگیا ہے۔ ضبط وصبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ خدا کی پناہ اگر فی الواقع یہ خبر صحیح ہے اور پیغامِ اجل مولیٰ موصوف کو بھی پہنچ گیا ہے تو پھر ہم مصائب و حوادث کے طوفان میں گھر گئے ہیں۔ بادشاہ اچھی زمین میں اچھے پھل کے لیے بیج بوتے ہیں۔ خدا سے ڈرتے رہو اور اپنے اندر کسی قسم کے اختلاف کو نہ گھسنے دو کہ اس سے دشمن کو فائدہ پہنچے گا اور وہ نعمتیں جو زمانہ نے عاجز ہو کر ان کے حقداروں تک پہنچائی تھیں ان سے چھن جائیں گی۔تم’’بنیانِ مرصوص‘‘بن جائو اور ایک دوسرے کے دست وبازو بن جائو۔ ایسے دل بن جائو جن میں ایک دوسرے کے لیے سراسر محبت اور شفقت ہو۔ ایسی تلورایں بن جائو جو ایک نیام میں یکجا ہو جائیں۔ تمہارا نفاق تمہیں عذاب میں مبتلا کردے گا اور تمہارا رعب جاتا رہے گا۔

 کفر اسلام پر حملہ آور ہونے کے لئے متحدہے، ہم مولیٰ نورالدین کے خاندان کے حامی اور مددگار ہیں اور اس پر کسی طرح کی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ مولیٰ نورالدین کی وصیت سے ہم مطلع ہوگئے ہیں کہ اس کا فرزند اس کا جانشین ہے۔ اگر وصیت کے مطابق سب حاضر وغائب نے اس کی اطاعت قبول کرلی ہے تو ہمارا مقصدبرآیا ورنہ جو شخص مولیٰ الملک الصالح کی مخالفت کرے گا،ہماری تلوار اس کے خلاف نیام سے باہر آجائے گی۔ اگر برخور دار موصوف اور اس کے باپ کے وزرا اور امراء کے درمیان اتفاق اور اتحاد رہا تو میرادلی مدعا پورا ہوجائے گا۔‘‘

ذاتی اوصاف ومحاسن
شوقِ جہاد اور سخت کوشی

سلطان نورالدین محمودؒ کی زندگی کا سب سے نمایاں اور درخشاں باب اس کا بے پناہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت ہے۔ اس نے اپنی زندگی جہادِ فی سبیل اللہ اور دین حق کی سربلندی کے لیے وقف کررکھی تھی۔ اس کی سب سے بڑی آرزو یہ تھی کہ صلیبی جنونیوں کی گردن ہمیشہ کے لیے توڑ کر رکھ دے یا ان کے خلاف لڑتا ہوا شہید ہوجائے۔ اگر اس کے دوسرے تمام خصائص کو نظر انداز کردیا جائے تو صرف یہی چیز اس کی مغفرت اورنامورِ اسلام کی صف میں اس کو امتیازی جگہ دلانے کے لیے کافی ہے۔ سلطان میدانِ جہاد میں ہمیشہ  صفِ اول میںرہتا تھا اور اپنے مرتبہ اور جان کی پرواہ کیے بغیر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر اپنے سپاہیوں کے شانہ بشانہ لڑتا تھا۔ اس کا قاعدہ تھا کہ لڑائی چھڑنے سے پہلے وضو کرتا پھر نہایت خشوع و خضوع سے دورکعت نماز پڑھتا اور سرسجدے میں رکھ کر اللہ تعالیٰ سے فتح ونصرت کی دعاء کرتا۔ پھر اپنے لشکر میں جہاد کی آیات پڑھتے ہوئے ایک چکر لگاتا۔ صفوں کو مناسب انداز میں مرتب کرتا اور پھر ان کو حملہ کا حکم دیتا تھا۔ سلطان یوں تو فطری طور پر ہی بڑا سخت کوش اور شجاع تھا لیکن اس کے بے پناہ جدبہ جہاد نے اسے اپنے دور میں ’’اشجع الناس‘‘بنادیا تھا۔اس کو شاہانہ کروفر،آراستہ وپیراستہ محلوں اور راگ رنگ کی محفلوں سے کوئی سروکار نہ تھا۔ اس کی راتیں گوشہ تنہائی میں سخت زمین پر بچھے ہوئے ایک مصلیٰ پر عبادت کرتے ہوئے گزرتی تھیں اور دن میدانِ جہاد میں گھوڑے کی پیٹھ پر یا ایک سادہ خیمے میں گزرتے تھے۔ وہ ایک عظیم الشان سلطنت کا فرمانروا تھا لیکن اس نے عیش و عشرت کی زندگی کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اور اس کے ہاں حکومت کی ظاہری شان و شوکت پر اسراف و تبذیر کی کوئی مدہی سرے سے موجود نہ تھی۔اس نے اپنے آپ کو جہاد فی سبیل اللہ اورخدمتِ خلق کے لیے وقف کردیا تھااور اپنے مقصد سے سچی لگن اور حمیتِ اسلامی نے اسے حددرجہ کا ثابت قدم بنادیا تھا۔ شدید گرمی یا سردی، برف، بارش، طوفان اور دشمنوں کی کثرتِ تعداد کوئی چیز بھی اس کو ہراساں نہ کر سکتی تھی۔ اس کے سپاہی ہر حال میں اس کو اپنے درمیان موجود پاتے تھے۔ وہ کسی بڑی سے بڑی مہم اور مصیبت سے بھی خائف نہیں ہوتا تھا ،اس کی بے مثل شجاعت اور جوشِ جہاد ایسا نہ تھا جو دوسرے مسلمانوں پراثرانداز نہ ہوتا۔ فی الحقیقت یہ اسی کی عزیمت و استقامت تھی جس نے قوم کی گرتی ہوئی ہمتوں کو تھام لیا تھا۔ یہ اسی کی بے خوفی اور ہمت تھی جس نے مسلمانوں میں جہاد فی سبیل اللہ کی روح پھونک دی تھی۔ وہ ایک بہادر سپاہی، ایک قابل جرنیل اور ایک پر جوش مسلمان تھا۔ اس کی عقابی نگاہوں نے اس مہیب خطرے کو بھانپ لیا تھا جو صلیبی جنگجوئوں کی صورت میں دنیائے اسلام کو زیر وزبر کرنے کے لیے نہایت سرعت سے بڑھتا چلا آہا تھا۔ وہ اس سیل بلا کے سامنے ایک آہنی دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔ افسوس کہ زندگی نے اسے مہلت نہ دی کہ وہ ارضِ فلسطین سے ان جنونی جنگ آزمائوں کو اپنے ہاتھوں سے نیست و نابود کرتا۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online