Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ (قسط۲۱)

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ  (قسط ۲۱)

(شمارہ 576)

۹)گجرات کے مشہور مقدمہ میں جب لدھارام رپورٹر سی۔آئی ۔ڈی نے حقیقت حال کا انکشاف عدالت عالیہ میں کیا اور شاہ جی کی رہائی ہوگئی تو لدھارام سے پوچھا گیا: آخر تونے سرکاری ملازم ہوتے ہوئے یہ جھوٹی شہادت دینے سے گریز کیوں کیا اور سچی شہادت سے اپنے کو خطرے میں کیوں ڈالا؟تو اس نے بتایا کہ میں نے سرکاری ملازمت میں ہمیشہ سچی جھوٹی شہادتیں دی ہیں اور اس دن بھی شاہ جی کے خلاف جھوٹی شہادت دینے کے لئے تیار ہو کر آیا تھا۔ ڈائری میں ردوبدل اگرچہ اعلیٰ حکام کے حکم سے کیا تھا لیکن اس میںبہرحال میری بھی رضامندی شامل تھی۔

ہوا یہ کہ میں جب گواہی دینے عدالت میں آیاتو شاہ جی کو دیکھا کہ رشیوں اور منیوں کی شکل و صورت کا ایک سچا انسان کھڑا ہے۔ مجھے کسی مخفی طاقت نے ٹوکا کہ یہ شخص اب میری جھوٹی شہادت پر پھانسی کی سزاپائے گا، میرادل لرزگیا میں نے دل ہی دل میں توبہ کی اور عہد کرلیا کہ دنیا کی ہر مصیبت برداشت کرلوںگا لیکن اس عظیم انسان کے خلاف جھوٹی شہادت دینے کا پاپ نہیں کمائوں گا، تب میں نے شاہ جی کے وکیل کو علیحدگی میں ساراماجرا بیان کیا، ساتھ ہی اپنا ارادہ بھی بتایا۔ لدھارام نے ہائی کورٹ میں شہادت دی کہ شاہ جی پر یہ تمام جھوٹا الزام ہے، شاہ جی ان تمام الزاموں سے بری ہیں۔ اس بات پر ملازمت سے لدھارام کو ہٹادیاگیا اور اسے تین سال سخت قید کی سزا ہوئی لیکن شاہ جی کی معجزانہ رہائی کا باعث بن گیا۔ اس مقدمہ میں شاہ جی نو ماہ کے قریب جیل میں رہے جب رہا ہو کر آئے تو تقریروں میں اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ایک طرف میں بے نواتھا میرے غریب ساتھی جیلوں میں مقید تھے، میری اولاد کمسن اور والد ضعیف العمر تھے دوسری طرف فرنگی کی صولت و حشمت تھی خزانے اس کے ، پولیس اس کی ،عدالتیں اس کی ،جیل خانے اس کے، سب اختیارو اقتدار اسی کا تھا پھر ترنم سے پڑھتے:

روحِ بخت ملاقی ان کا

چرخِ ہفت طباقی ان کا

محفل ان کی ساقی ان کا

آنکھیں میری باقی ان کا

حضرت یوسف علیہ السلام کے زندانی ہونے کا واقعہ دہراتے، زلیخا کی الزام تراشیوں کا تذکرہ کرتے، قرآن مجید کی آیت شریفہ وشھدشاھد من اھلھا

پڑھ کر لدھا رام کو انگریزوں کا گھریلو گواہ قراردیتے، اس مقدمہ سے رہائی کو اللہ کا عظیم احسان قرار دیتے، آخر میں فرماتے: اے اللہ! اس نعمت کے شکرانے میں تیری خدمت میں کیا پیش کروں کیونکہ جو نعمت سوچتا ہوں وہ سب تیر ے خزانوں میں موجود ہے۔

 ایک دن تقریر کرتے کرتے جھولی پھیلادی اور فرمایا: میرے پاس ایک ایسی چیز ہے جو تیرے پاس نہیں ہے، وہی تیرے شکر نعمت کے لئے پیش کرتا ہوں اور وہ میرے گناہ ہیں میرے پاس ان کے سوا کچھ نہیں۔ پھر یہ بیان کچھ اس عجزو انکساری اور رقت انگیز منظر میں پیش کیا کہ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔(چٹان سالنامہ: ص۲۸)

۱۰)ایک دفعہ شورش کاشمیری کی تاثیر مرحوم سے چھڑگئی بات یہ تھی کہ انہوں نے ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘اخبار لاہور میں پاکستان مبارک کے زیر عنوان ڈاکٹر حجازی کے قلمی نام سے ایک سلسلہ مضمون لکھا جس میں احرار کو مطعون کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میںشورش نے ایک ظالمانہ نظم لکھی۔

شاہ جی بگڑ گئے کہ تم نے یہ نظم کیوں لکھی؟تاثیر میرا دوست ہے۔ صورت حال بیان کی تو فرمایا:

کوئی بات نہیں اس سے پہلے ہمارا گوشت کون کون نہیں کھاتا رہا، رشمنوں نے کھایا ہے تو دوست بھی کھالیں، تاثیر آخر میرادوست ہے تم کس کس کا دامن پھاڑو گے۔

 یہ تھی شاہ جی کی اعلیٰ ظرفی جس نے انہیں دوست دشمن سب میں محبوب بنادیا تھا۔( چٹان سالنامہ:ص۲۲)

۱۱)شاہ جی پر جب پہلے پہل فالج کا حملہ ہوا تو حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ اور مولانا تاج محمود صاحب لائلپوری مدظلہ وغیرہ لاہور سے ملتان مزاج پر سی کے لئے تشریف لائے، اس وقت شاہ جی نے فالج کے حملے کا واقعہ سنایا :

کہ صبح اچھا بھلا اُٹھا، وضو کرنے لگا تو ہاتھ نے سول نافرمانی شروع کردی، منہ میں پانی ڈالا تو اس نے بھی بغاوت اختیار کی، میں سمجھ گیا فالج کا حملہ ہوا ہے اور میں مرنے لگا ہوں، جلدی جلدی وضو کیا صبح کی نمازادا کی اور زور زور سے پڑھا:اشھدان لاالہ الا اللّٰہ واشھدان محمداعبدہ ورسولہ لانبی بعدہ ولارسول بعدہ اور یہ پڑھ کر چارپائی پر لیٹ گیا کہ اگر اب موت آگئی تو ان شاء اللہ خاتمہ ایمان پر ہوجائے گا، تھوڑی دیر لیٹا رہا اور موت کا انتظار کرتا رہا لیکن موت نہ آئی۔ اب اُٹھا اندرگیا بھوک لگ رہی تھی رات کی ٹھنڈی کھچڑی کھالی، شاہ جی نے یہاں بات کو پھردہرایا کہ فالج کا حملہ موت کا انتظار اس پر ٹھنڈی کھچڑی کھالی البتہ یہ ایک غلطی ہوگئی جس کے لئے اللہ سے معافی مانگتا ہوں، آپ لو گ بھی معاف کردینا وہ یہ کہ کھچڑی کے بعدگھڑیا کا ٹھنڈا باسی پانی پینا بھول گیا۔ بس یہ کسررہ گئی۔

سبحان اللہ! شاہ جی کی کیا باغ و بہار طبیعت تھی کہ فالج کا حملہ ہے ،منہ پر لقوہ کا اثر ہے، زبان میں لکنت آچکی ہے لیکن اس ہولناک اور خوفناک مرض میں بھی شاہ جی کی زندہ دلی باقی تھی۔( چٹان سالنامہ: ص ۲۸)

۱۲)شاہ جی کے احباب نے بہت کوشش کی کہ کوئی مکان شاہ جی کے نام الاٹ کرالیں لیکن شاہ جی اس پر کبھی رضامند نہ ہوئے، آخر ان لوگوں نے ٹبی شیرخاں کے محلہ میں ایک چھوٹا ساکچا مکان بارہ روپے ماہوار لے لیا کیونکہ اس وقت کسی اچھے مکان کا انتظام نہیں ہو سکا تھا۔ جب ملک عطاء اللہ نے شاہ جی سے معذرت کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ مکان اگرچہ آپ کے لائق نہیں مگر عارضی ہے، ہم بہت جلد کوئی پکا اور اچھا سا مکان ڈھونڈلیں گے۔ شاہ جی نے ہنستے ہوئے پرُ مسرت لہجہ میں فرمایا:

میری جو حیثیت ہے وہ میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں، میری حیثیت سے تو یہ مکان بھی بڑا ہے میرے بزرگوں نے تو کھجور کی عارضی چھتوں اور کچی دیواروں میں ہمیشہ گذارہ کیا جنہیں مکان کہنا آپ لوگ شاید گناہ سمجھیں گے۔( سبحان اللہ! کیا اتباع سنت کا غلبہ اور محبت رسول اللہﷺ کی تھی کہ ہر معاملہ میں ان کی اتباع سنت کا غلبہ) اور یہ تو بہرحال مکان ہے اور مجھے اس واسطے بھی بہت پسند ہے کہ آپ لوگوں نے اسے میرے لئے پسند کیا ہے۔

 بات کا رخ موڑنے کے لئے ایک شخص نے عرض کیا کہ شاہ جی یہ محلہ بھی کچھ اچھا نہیں ہے اس محلہ کے لوگ آپ کو وہابی سمجھتے ہیں اس لئے مکان تو بہر حال ہم کہیں اور ہی لے کر دیں گے۔ البتہ عارضی طور پر چند دن کے لئے آپ کو یہاں گذارہ کرناپڑے گا ،یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا: وہابیت کا انتظام میں خود کرلوں گا۔ اور پھر مکان نہ بدلنا تھا اور نہ بدلا اور آخر وقت تک اسی مکان میں رہے اور وہیں سے جنازہ اُٹھا۔ اور وہابیت کا انتظام یوں ہوا کہ سال کے اندر محلے کے بڑے چھوٹے سب گھل مل گئے اور شاہ جی کو’’ اباجی اباجی‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کرتے تھے ۔شاہ جی سب کی شادی غمی میں صرف شریک ہی نہیں بلکہ مشیر بھی تھے اور ڈیوڑھی کے بارہ فٹ کمرے میں ہر وقت پندرہ بیس آدمی موجود رہتے، کوئی باتیں کر رہا ہے کوئی کمردبارہا ہے اور کوئی پائوں دبانے میں مصروف ہے اور شاہ جی ہیں کہ بچے بوڑھے سب کے ساتھ باتیں کئے جارہے ہیں اور مجلس ہردومنٹ کے بعد کشتِ زعفران بن جاتی ہے۔(چٹان سالنامہ:ص۲۹)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online