Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔598)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 598)

اس کے بعد حضرت عبدالرحمن خاموش ہوگئے اور باقی لوگ بھی خاموش رہے۔

 حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ اس پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ آپ اس دین اسلام والوں کے بڑے خیر خواہ ہیں اور ان کے لیے بڑے شفیق ہیں۔ جب آپ کو اپنی رائے میں عام مسلمانوں کے لیے فائدہ نظر آرہا ہے تو آپ بے کھٹک اس پر پوری طرح عمل کریں، کیونکہ آپ کے بارے میں ہم میں سے کسی کو کوئی بدگمانی نہیں ہے۔ اس پر حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت ابو عبیدہ، حضرت سعید بن زید اور جو مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم اس مجلس میں موجود تھے ان سب نے کہا کہ حضرت عثمان درست فرمارہے ہیں۔ جو آپ کی رائے ہے آپ اس پر ضرور عمل کریں، کیونکہ ہم نہ تو آپ کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ آپ پر کوئی الزام لگا سکتے ہیںاور اسی طرح کی اور باتیں کہیں۔ ان لوگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے لیکن وہ خاموش تھے، انہوں نے ابھی تک کچھ نہیں کہا تھا۔

 توحضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے ابو الحسن! تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ چاہے آپ خود ان کے پاس جائیں چاہے کسی اور کوان کے پاس بھیج دیں ان شاء اللہ کامیابی آپ ہی کو ہوگی، آپ کی مدد ضرور ہوگی۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں خیر کی بشارت دے! یہ تمہیں کہاں سے پتہ چل گیا( کہ جیتنا تو ہمیں ہی ہے اور ہماری مدد ضرور ہوگی؟) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دین اپنے دشمنوں پر غالب آکر رہے گا، یہاں تک کہ یہ دین مضبوطی سے کھڑا ہوجائے گا اور دین والوں کو غلبہ مل جائے گا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے تعجب سے فرمایا: سبحان اللہ! یہ حدیث کتنی عمدہ ہے،تم نے یہ حدیث سنا کر مجھے خوش کردیا ،اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں میں بیان کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے مناسب حمد و ثنا بیان کی اور حضورﷺ پر درود بھیجا اس کے بعد فرمایا:

اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں نعمتِ اسلام عطا فرمائی اور جہاد کا حکم دے کر تمہیں اعزاز بخشا اور یہ دین دے کر تمہیں تمام دینوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اے اللہ کے بندو! شام میں جاکر رومیوں سے غزوہ کرنے کے لیے تیار ہوجائو۔ میں تمہارے لیے بہت سے امیر مقرر کروں گا اور انہیں الگ الگ جھنڈے باندھ کردوں گا، تم اپنے رب کی اطاعت کرو اور اپنے امیروں کی مخالفت نہ کرو۔ نیت اور کھانا پینا ٹھیک رکھو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کریں اور ہرنیکی کو اچھی طرح کریں ( یہ ترغیبی بیان سن کر) لوگ خاموش رہے اور اللہ کی قسم! انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ اس پر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ خلیفۃ رسول اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے ہو؟حالانکہ انہوں نے تمہیں اس چیز کی دعوت دی ہے جس میں تمہاری زندگی ہے۔ اگر بغیر محنت کے مال غنیمت کے ملنے کی امید ہوتی یا تھوڑا اور آسان سفر ہوتا تو تم جلدی سے قبول کرلیتے۔

 ( اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرضا قریبا وسفراقاصدا کے الفاظ استعمال کیے جو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لیے استعمال فرمائے ہیں) اس پر حضرت عمرو بن سعید رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: اے ابن الخطاب! کیا تم ہمارے بارے میں منافقوں والی مثالیں استعمال کرتے ہو؟تم جو ہم پر اعتراض کررہے ہو کہ ہم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دعوت کو قبول نہیں کیا ، تو تم نے ان کی دعوت قبول کرنے میں پہل کیوں نہیں کی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اگر یہ مجھے دعوت دیتے تو میں ضرور قبول کرلیتا اوراگر یہ مجھے غزوہ میں بھیجتے تو میں ضرور چلا جاتا۔ حضرت عمرو بن سعیدرضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم غزوئہ میں جائیں گے تو تمہاری وجہ سے نہیں جائیں گے،ہم اللہ کے لیے جائیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق عطا فرمائے!تم نے بہت عمدہ بات کہی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرورضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ بیٹھ جائیں ، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے! تم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جو الفاظ سنے ہیں اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد کسی مسلمان کو تکلیف پہنچانا یا ڈانٹنا نہیں ہے، بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ سست ہو کرزمین سے چمٹے جارہے ہیں ان میں جہاد کے لیے جانے کا اُبھار اور شوق پیدا ہوجائے۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online