Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 598)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 598)

اور اگر نکاح کے بعد میاں بیوی میں یکجائی ہوچکی ہے تو دیکھا جائے گاکہ عورت کو حمل ہے یا نہیں، اگر عورت کو حمل ہو تو اس کی عدت وضع حمل پر ختم ہوگی، یعنی جب تک ولادت نہ ہوجائے اس وقت تک عدت میں رہے گی خواہ ایک دن بعد وضع حمل ہوجائے خواہ کئی مہینے لگ جائیں یا سال ڈیڑھ سال یا اس سے بھی زیادہ لگ جائے ( واضح رہے کہ شریعت میں حمل کی مدت زیادہ سے زیادہ دوسال ہے) اور اگر اسے حمل نہ ہو تو اس کی عدت یہ ہے کہ تین ماہواری گذر جائے اس کے لئے کوئی مدت مقرر نہیں ہے جتنے دن میں تین حیض گذریں اتنے دن کی عدت میں رہنا ہوگا، عورتوں میں یہ مشہور ہے کہ تین مہینے تیرہ دن یا تین مہینے دس دن عدت ہے شرعاً اس کا کوئی ثبوت نہیں، عدت کا مدارحمل ہونے کی صورت میں وضع حمل پر اور حمل نہ ہونے کی صورت میں تین حیض گذر جانے پر ہے۔

 مسئلہ: اگر کسی عورت کو ایسی حالت میں طلاق ہوئی کہ اسے اب تک حیض نہیں آیا یا زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا ہو تو اس کی عدت تین ماہ ہے یہ تین ماہ چاند کے حساب سے شمار ہوںگے، قرآن مجید نے ان مسائل کو سورئہ بقرہ اور سورئہ طلاق میں بیان فرمایا ہے۔ سورئہ بقرہ میں ارشاد ہے: والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروء یعنی جن عورتوں کو طلاق دے دی جائے وہ تین حیض تک اپنے کو نکاح سے روکے رکھیں ۔ اور سورئہ طلاق میں فرمایا ہے :

والئی یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم فعدتھن ثلا ثۃ اشھر والئی لم یحضن

یعنی جو عورتیں حیض سے ناامید ہوچکی ہیں(بڑھاپے کی وجہ سے) اگر تم کو ( ان کی عدت مقرر کرنے میں)شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے۔ ایسے ہی ان عورتوں کی عدت تین ماہ ہے جن کو اب تک حیض نہیں آیا۔

 اب رہی وہ عورت جس کا شوہر وفات پاچکا ہو اس کی عدت میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ حمل سے ہے تو جب بھی وضع حمل ہوجائے اس وقت اس کی عدت ختم ہوجائے گی، اگرچہ شوہر کی وفات کو دوچار دن ہی گذرے ہوں یااس سے بھی کم وقت گذرا ہو۔ حدیث بالا میں یہی مسئلہ بتایا ہے اور اگر حمل کی مدت بڑھ جائے تو اس کے بقدر عدت کے ایام بڑھ جائیں گے اور اگر یہ عورت حمل سے نہیں ہے تو اس کی عدت چاند کے اعتبار سے چارمہینہ دس دن ہے حیض آتا ہو یا نہ آتا ہو، قرآن مجید میں ارشاد ہے:

والذین یتوفون منکم ویذرون ازوجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا

اور جو لوگ تم میں وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن۔

 مسئلہ: جس عورت کا نکاح اصول شریعت کے مطابق کسی مسلمان حاکم نے فسخ کیا ہو اس پر بھی عدت لازم ہے اور اسے عدت طلاق پوری کرنی ہوگی۔

 مسئلہ:جس عورت نے شوہر سے خلع کرلیا ہواسے بھی عدت طلاق گزارنی ہوگی۔

 مسئلہ: جس عورت کو طلاق دے دی گئی ہو اس کے عدت کے زمانہ کا نان نفقہ اور رہنے کا گھر طلاق دینے والے شوہر ہی کے ذمہ ہے بشرطیکہ عورت شوہر کے دئیے ہوئے اس گھر میں عدت گزارے جس میں طلاق سے پہلے رہتی تھی اگر ماں باپ کے یہاں چلی جائے تو شوہر پر ایام عدت کا نان نفقہ واجب نہ ہوگا، واضح رہے کہ ایام عدت شوہر ہی کے گھر پر گزارنا لازم ہے جہاں رہتے ہوئے طلاق ہوئی اور طلاق بائن یا مغلظہ ہو تو شوہر سے پردہ کرکے رہے۔

 مسئلہ: اگر عورت ایام عدت کا نان نفقہ معاف کردے تو معاف ہوجائے گا۔

 مسئلہ:جس عورت کا شوہر وفات پاجائے اس عورت کے لیے شوہر کے مال میں میراث تو ہے لیکن عدت کا نان نفقہ نہیں اور اگر مہر وصول نہ ہو ا ہو اور معاف بھی نہ کیا تو حصہ میراث سے پہلے مہر وصول کرے گی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online