Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

کفریاتِ پرویز (۲)

کفریاتِ پرویز (۲)

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 613)

کفریاتِ پرویز

اس آیت مقدسہ کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ اس میں اللہ اور رسول سے مراد’’مرکز ملت‘‘(Central Athority ) اور اولی الامر سے مفہوم افسران ماتحت، اس سے مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مقامی افسر سے کسی معاملہ میں اختلاف ہوجائے تو بجائے اس کے کہ وہیں مناقشہ شروع کردو امرمتنازع فیہ کو مرکزی حکومت کے سامنے پیش کردواسے مرکزی حکومت کی طرف(Refer)کر دو، مرکز کا فیصلہ سب کے لئے واجب التسلیم ہوگا۔( اسلامی نظام ص ۱۱۰)

رسول کو قطعاً یہ حق نہیں کہ لوگوں سے اپنی اطاعت کرائے:

’’یہ تصور قرآن کی بنیادی تعلیم کے منافی ہے کہ اطاعت اللہ کے سوا کسی اور کی بھی ہو سکتی ہے۔حتی کہ خود رسول اللہﷺ کے متعلق واضح اور غیر مبہم الفاظ میںبتلادیا گیا ہے کہ اسے بھی قطعاً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ لوگوں سے اپنی اطاعت کرائے، لہٰذا اللہ اور رسول سے مراد وہ مرکز نظام دین ہے جہاں سے قرآنی احکام نافذ ہوں‘‘( معارف ج ۴ ص ۶۱۶)

رسول کی حیثیت:

۱)…’’اور تو اور انسانوں میں سب سے زیادہ ممتاز ہستی ( محمدﷺ) کی پوزیشن بھی اتنی ہی ہے کہ وہ اس قانون کا انسانوں تک پہنچانے والا ہے، اسے بھی کوئی حق نہیں کہ کسی پر اپنا حکم چلائے خدا اپنے قانون میںکسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘

۲)…پھر اسے بھی سوچئے کہ محبت رسول سے مفہوم کیا ہے؟ یہ مفہوم قرآن نے خود متعین کردیا ہے جب نبی اکرمﷺ خود موجود تھے توبہ حیثیت مرکز ملت آپﷺ کی اطاعت فرض اولین تھی۔

 رسول اللہ کی اطاعت اس لئے نہیں کہ وہ زندہ نہیں:

عربی زبان میں اطاعت کے معنی ہی کسی زندہ کے احکام کی تابعداری ہے، اسلامی نظام میں اطاعت امام موجودکی ہوگی جو قائم مقام ہوگا خدا اور رسول کا یعنی’’مرکز نظام حکومت اسلامی‘‘

ختم نبوت کامطلب:

۱)…ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ اب دنیا میں انقلاب شخصیتوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ تصورات کے ذریعہ رونما ہوا کرے گا اور انسانی معاشرہ کی باگ ڈور اشخاص کی بجائے نظام کے ہاتھ میں ہوا کرے گی۔

 ۲)…اب سلسلہ نبوت ختم ہوگیا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ اب انسانوں کو اپنے معاملات کے فیصلے آپ کرنے ہوں گے صرف یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کا کوئی فیصلہ ان غیر متبدل اصولوں کے خلاف نہ ہو جائے جو وحی نے عطا کئے ہیں اور جواب قرآن کی دفتین میں محفوظ ہیں۔

۳)…تم نے دیکھ لیا سلیم! کہ ختم نبوت کا مفہوم یہ تھا کہ اب انسانوں کو صرف اصولی راہ نمائی کی ضرورت ہے، ان اصولوں کی روشنی میں تفصیلات وہ خود متعین کریں گے لیکن ہمارے ہاں یہ عقیدہ پیدا ہوگیا( اور اسی عقیدے پر مسلمانوں کا عمل چلا آرہا ہے) کہ زندگی کے ہر معاملہ کی ہر تفصیل بھی پہلے سے متعین کردی گئی ہے اور ان تفاصیل میں اب کسی قسم کا ردوبدل نہیں ہو سکتا، یہ عقیدہ اس مقصد عظیم کے منافی ہے جس کے لئے ختم نبوت کا انقلاب عمل میں آیا تھا۔

قرآن عبوری دور کے لئے:

۱)…اب رہا یہ سوال کہ اگر اسلام میں ذاتی ملکیت نہیں تو پھر قرآن میں وراثت وغیرہ کے احکام کس لئے دئیے گئے ہیں؟سواس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن انسانی معاشرے کو اپنے متعین کردہ پروگرام کی آخری منزل تک آہستہ آہستہ بتدریج پہنچاتا ہے۔ اس لئے وہ جہاں اس پروگرام کی آخری منزل کے متعلق اصول اور احکام متعین کرتا ہے عبوری دور کے لئے بھی ساتھ کے ساتھ راہنمائی دیتا چلا جاتا ہے، وراثت، قرضہ، لین دین، صدقہ و خیرات سے متعلق احکام اس عبوری دور سے متعلق ہیں جس میں سے معاشرہ گزر کر انتہائی منزل تک پہنچتا ہے۔

۲)…قرآن میں صدقہ و خیرات وغیرہ کے لئے جس قدر ترغیبات و تحریصات یا احکام وضوابط آتے ہیں وہ سب اسی عبوری دور(Transitional Period) سے متعلق ہیں ۔

۳)…اس نظام کے قیام کے بعد کوئی مفلس اور محتاج باقی نہیں رہ سکتا، لہٰذا مفلسوں اور محتاجوں کے متعلق اس قسم کے احکام صرف عبوری دور سے متعلق ہیں۔

شریعت محمدیہ منسوخ:

۱)…’’طلوع اسلام‘‘ بار بار متنبہ کرتا رہتا ہے اوراب پھر ملت کو متنبہ کرتا ہے کہ خدا کے لئے ان چور دروازوں کو بند کرو، دین کی بنیاد صحیح قرآن اور فقط قرآن ہے جو ابدالآباد تک کے لئے واجب العمل ہے، روایات اس عہد مبارک کی تاریخ ہیں کہ رسول اللہﷺ والذین معہ نے اپنے عہد میں قرآنی اصول کو کس طرح متشکل فرمایا تھا، یہ اس عہد مبارک کی شریعت ہے قرآنی اصول کی روشنی میں کسی فرد واحد کوجزئیات مستنبط کر کے اپنے عہد کے لئے شریعت بنادینے کا حق نہیں ہے، خواہ وہ کتنا ہی اتباع محمدی( بقول مرزا) یا کتنا ہی مزاج شناسی رسول( بقول مودودی) کا دعویدار کیوں نہ ہو بلکہ یہ حق صرف صحیح قرآنی خطوط پر قائم شدہ مرکز ملت اور اس کی مجلس شوریٰ کا ہے کہ وہ قرآنی اصول کی روشنی میں صرف ان جزئیات کو مرتب و مدون کر سکے جن کی قرآن نے کوئی تصریح نہیں کی پھریہ جزئیات ہر زمانے میں ضرورت پڑنے پر تبدیل کی جا سکتی ہیں یہی اپنے زمانے کے لئے شریعت ہیں۔

۲)…اگر رسول اللہﷺ کی متعین فرمودہ جزئیات کو قرآنی جزئیات کی طرح قیامت تک واجب الاتباع( یعنی ناقابل تغیر و تبدل) رہنا تھا توقرآن نے ان جزئیات کو بھی خود ہی کیوں نہ متعین کردیا؟یہ سب جزئیات ایک ہی جگہ مذکور اور محفوظ ہوجائیں … اگر خدا کا منشاء یہ ہوتا کہ زکوٰۃ کی شرح قیامت تک لئے اڑھائی فی صد ہونی چاہئے تو وہ اسے قرآن میں خود نہ بیان کردیتا، اس سے ہم ایک نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ منشائے خدا وندی تھا ہی نہیں کہ زکوٰۃ کی شرح ہرزمانے میں ایک ہی رہے۔

 ساری شریعت میں ردوبدل:

۱)…قرآن کے ساتھ انسان کو بصیرت عطا ہوئی ہے اس لئے جن امور کی تفصیل قرآن نے خود بیان نہیں کی ان کی تفصیل قرآنی اصولوں کی روشنی میں ازروئے بصیرت متعین کی جائے گی یہی رسول اللہﷺ نے کیا اور ہمارے لئے بھی ایسا کرنا منشائے قرآنی اور سنت رسول اللہ کے عین مطابق ہے، اس باب میں اخلاق ،معاملات اور عبادات میں کوئی تفریق و تخصیص نہیں اگر تفریق مقصود ہوتی تو عبادات کی جزئیات قرآن خود ہی متعین کردیتا۔

 ۲)…جس اصول کا میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے وہ قانون اور عبادات دونوں پر منطبق ہوگا، یعنی اگر جانشین رسول اللہ( قرآنی حکومت) نماز کی کسی جزئی شکل میں جس کا تعین قرآن نے نہیں کیا اپنے زمانے کے کسی تقاضے کے ماتحت کچھ ردوبدل ناگزیر سمجھے تو وہ ایسا کرنے کی اصولاً مجاز ہوگی۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online