Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 613)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 613)

مسئلہ:عقیقہ کا گوشت چاہے کچا تقسیم کرے چاہے پکا کر دعوت کر کے کھلائے دونوں طرح درست ہے۔

 مسئلہ:عقیقہ کا گوشت باپ، دادا،نانا،نانی ، دادی وغیرہ سب کو کھانا درست ہے، عقیقہ کے دن بچے کا سر مونڈنے میں یہ مصلحت ہے کہ پیٹ کے اندر جو بال اگتے ہیں وہ کمزور ہوتے ہیں اور مونڈنے کے بعد جو بال نکلتے ہیں وہ طاقتور ہوتے ہیں، لہٰذا کمزوربالوں کا دور کر دینا مناسب ہوا۔ نیز ایک نفع اور بھی ہے وہ یہ کہ بال مونڈے جانے سے سر کے مسامات کھل جاتے ہیں، ان کے ذریعہ اندر کی حرارت بآسانی باہر آجائے گی نیز اس سے سننے اور سونگھنے کی طاقت بڑھتی ہے، یہ حکمت تحفت الودود میں لکھی ہیں۔

اخلاق حسنہ کا بیان حسن اخلاق والے کا مرتبہ

اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا:بلاشبہ مومن بندہ اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے راتوں رات نماز میں کھڑے رہنے والے اور دن بھر روزہ رکھنے والے آدمی کا درجہ پالیتا ہے۔( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۴۳۱ از ابو دائود)

اچھی خصلت و عادت جسے نصیب ہوجائے تو اسے دنیا وآخرت کی خیر مل گئی ،اچھے اخلاق کا اللہ جلّ شانہ کے یہاں بہت وزن ہے ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ’’ قیامت کے دن سب سے زیادہ بھاری چیز جو مومن کی ترازو میں رکھی جائے گی وہ اچھے اخلاق ہوں گے۔‘‘

لفظ’’اچھے اخلاق‘‘ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔

 اس کی تشریح میں ہزاروں صفحات کی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ اللہ کی ساری مخلوق کے حقوق واجبہ ادا کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا ،بڑوں کا اکرام کرنا ،سب کو اپنی زبان اور ہاتھ کی تکلیف سے محفوظ رکھنا اور آگے پیچھے سب کی خیر خواہی کرنا، دھوکہ نہ دینا، خیانت نہ کرنا، سچ بولنا ،نرمی اختیار کرنا، ہر ایک سے اس کے مرتبہ کے مطابق برتائو کرنا، جو اپنے لیے پسند کرے دوسروں کے لئے وہی پسند کرنا، مشورہ صحیح دینا، بدزبانی سے بچنا، حیا اور شرم اختیار کرنا، مخلوق کی حاجتیں پوری کرنا، سب کے ساتھ خوبی کا برتائو کرنا ،بے جا غصہ نہ کرنا، حسد اور کینہ کو دل میں جگہ نہ دینا، یہ اور اسی طرح کی بیسیوں باتیں ہیں جن کو حسن اخلاق کا مفہوم شامل ہے۔

 ایک شخص نے عرض کیا: یارسول اللہ ! سب سے بہتر کیا چیز ہے جو انسان کو عطا کی گئی، حضوراقدسﷺ نے جواب میں فرمایا : ایسی چیز حسن اخلاق ہے۔( بیہقی)

حسن اخلاق کا مظاہرہ صحیح معنوں میں اس وقت ہوتا ہے جب لوگوں سے تکلیف پہنچے اور صبر کرتے ہوئے خوبی کا رویہ اختیار کرے۔

ایک حدیث میں ہے کہ حضور اقدسﷺ نے حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:توجہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈر اور گناہ ہوجائے تو اس کے بعد ہی نیکی بھی کرلے، یہ نیکی اس گناہ کو مٹادے گی اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ میل جول رکھ۔( احمد ،ترمذی)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا: مومنین میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھاہو۔( ابو دائود)

حضرت معاذاور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کو جب رسول اللہﷺ نے یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو وصیت فرمائی کہ لوگوں کے ساتھ آسانی کا برتائو کی جیو اور سختی سے پیش نہ آئیو، اور ان کو خوشخبریاں سنائیو اور نفرت نہ دلائیو اور آپس میں متفق رہیو اور اختلاف نہ رکھیو۔( بخاری)

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے ( یمن جانے کے لیے ) رکاب میں قدم رکھاتو رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو آخری وصیت یہ فرمائی کہ اے معاذ!لوگوں سے خوش خلقی سے پیش آنا۔( مشکوٰۃ)

 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے:

اللھم حسنت خلقی فاحسن خلقی(مشکوٰۃ)

اے اللہ تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے تو میرے اخلاق بھی اچھے کردے۔

 حسن اخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے، ہم چند اصول اور چیزیں لکھتے ہیں جو بہت سے اخلاق حسنہ کو جامع ہیں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online