Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔617)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 617)

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا:تجھے کیا ہوا ہے؟اس نے کہا کہ چند مہینوں سے میرا خاوند سفر میں گیا ہوا ہے اور میں اس کی بہت زیادہ مشتاق ہوچکی ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :تیرا برائی کا ارادہ تو نہیں؟اس عورت نے کہا:اللہ کی پناہ! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:اپنے آپ کو قابو میں رکھو، میں ابھی اس کے پاس ڈاک کا آدمی بھیج دیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بلا نے کے لئے آدمی بھیج دیا اور خود( اپنی بیٹی) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے کہا:میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں جس نے مجھے پریشان کردیا ہے ،تم میری وہ پریشانی دو ر کردواور وہ یہ ہے کہ کتنے عرصہ میں عورت اپنے خاوند کی مشتاق ہو جاتی ہے؟ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنا سرجھکا لیا اور ان کو شرم آگئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حق بات کو بیان کر نے سے اللہ نہیں شرماتے ہیں۔حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تین مہینے ورنہ چار مہینے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے(تمام علاقوں میں) یہ خط بھیجا کہ لشکروںکو( گھر سے باہر)چار مہینے سے زیادہ نہ روکا جائے( اگر اجازت لیں) ۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ ایک دفعہ رات کے وقت باہر نکلے انہوں نے ایک عورت کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا:

تطاول ھذااللیل واسود جانبہ

وارقنی ان لا حبیب الاعبہ

یہ رات لمبی ہوگئی ہے اور اس کے کنارے کالے پڑگئے اور مجھے اس وجہ سے نیند نہیں آرہی ہے کہ میرا کوئی محبوب نہیں ہے جس سے میں کھیلوں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنی بیٹی) حضرت حفصہ  رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت زیادہ سے زیادہ کتنے عرصہ تک اپنے خاوند سے صبر کر سکتی ہے؟ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا:چھ مہینے تک یا چار مہینہ تک۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں آئندہ کسی لشکر کو اس سے زیادہ ( گھر سے باہر) نہیں روکوں گا۔

 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اللہ کے راستہ کی گردوغبار برداشت کرنے کا شوق

حضرت ربیع بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ راستہ کے درمیان میں درمیانی رفتار سے تشریف لے جارہے تھے کہ اتنے میں آپ ﷺنے ایک قریشی نوجوان کو دیکھا جو راستہ سے ہٹ کر چل رہا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا:کیا یہ فلاں آدمی نہیں ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں! وہی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے بلائو۔ چنانچہ وہ آئے۔ حضورﷺ نے اس سے پوچھا:تمہیں کیا ہوگیا تم راستہ سے ہٹ کر چل رہے ہو؟ اس نوجوان نے کہا:مجھے یہ گردوغبار اچھا نہیں لگتا۔

 آپﷺ نے فرمایا:ارے!اس گردوغبار سے خود کو نہ بچائو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے،!یہ غبار تو جنت کی (خاص قسم کی)خوشبو ہے۔

حضرت ابوالمُصَبّح مَقْرئی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگ روم کے علاقہ میں ایک جماعت کے ساتھ چلے جارہے تھے ، جس کے امیر حضرت مالک بن عبداللہ خثعمی رضی اللہ عنہ تھے کہ اتنے میں حضرت مالک حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے جو کہ اپنے خچر کو آگے سے پکڑے ہوئے چلے جا رہے تھے۔ ان سے حضرت مالک  رضی اللہ عنہ نے کہا:اے عبداللہ! آپ سوار ہوجائیں، اللہ نے آپ کو سواری دی ہے۔ حضرت جابررضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے اپنی سواری کو ٹھیک حالت میں رکھا ہوا ہے اور مجھے اپنی قوم سے سواری لینے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس آدمی کے دونوں قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ پر حرام کردیں گے۔ حضرت مالک رضی اللہ عنہ وہاں سے آگے چل دیئے۔ جب اتنی دور پہنچ گئے جہاں سے حضرت جابررضی اللہ عنہ کو آواز سنائی دے، تو حضرت مالک رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ سوار ہوجائیں کیونکہ اللہ نے آپ کو سواری دی ہے۔ حضرت جابررضی اللہ عنہ حضرت مالک رضی اللہ عنہ کا مقصد سمجھ گئے( کہ حضرت مالک رضی اللہ عنہ چاہتے ہیں کہ حضرت جابررضی اللہ عنہ بلند آواز سے جواب دیں تاکہ جماعت کے تمام لوگ سن لیں) اس پر حضرت جابررضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے جواب دیا کہ میںنے اپنی سواری کو ٹھیک حالت میںرکھا ہوا ہے اور مجھے اپنی قوم سے سواری لینے کی ضرورت نہیں، لیکن میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی کے دونوں قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ پر حرام کردیں گے۔ یہ سنتے ہی تمام لوگ اپنی سواریوں سے کود کر نیچے اُتر آئے۔ میں نے کبھی لوگوں کو اس دن سے زیادہ تعداد میں پیدا چلتے ہوئے نہیں دیکھا۔

ابو یعلیٰ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بندے کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ ان دونوں قدمو ں پر آگ کو حرام فرمادیں گے۔ یہ سنتے ہی حضرت مالک رضی اللہ عنہ اور تمام لوگ بھی اپنی سواریوں سے نیچے اتر کر پیدل چلنے لگ پڑے اور کسی دن بھی لوگوں کو اس دن سے زیادہ تعداد میں پیدل چلتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online