Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

کفریاتِ پرویز (۶)

کفریاتِ پرویز (۶)

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 615)

قربانی

۱)…حج عالم اسلامی کی بین الملّی کانفرنس کا نام ہے اس کانفرنس میںشرکت کرنے والوں کے خورونوش کے لئے جانور ذبح کرنے کا ذکر قرآن میں آیا ہے بس یہ تھی قربانی کی حقیقت جو آج کیا سے کیا بن کررہ گئی ہے۔

۲)…قرآن کریم میں جانور ذبح کرنے کا ذکر حج کے ضمن میں آیا ہے، عرفات کے میدان میں جب یہ تمام نمائندگان ملت ایک لائحہ عمل طے کرلیں گے تو اس کے بعد منیٰ کے مقام پر دوتین دن تک ان کا اجتماع رہے گاجہاں یہ باہمی بحث وتمحیص سے اس پروگرام کی تفصیلات طے کریں گے ان مذکرات کے ساتھ باہمی ضیافتیں بھی ہوں گی آج صبح پاکستان والوں کے ہاں، شامل کو اہل افغانستان کے ہاں، اگلی صبح اہل شام کی طرف وقس علی ذلک، ان دعوتوں میں مقامی لوگ بھی شامل کرلئے جائیں گے امیر بھی غریب بھی ،اس مقصد کے لئے جو جانور ذبح کئے جائیں گے قربانی کے جانور کہلائیں گے۔

۳)…مقام حج کے علاوہ کسی دوسری جگہ ( یعنی اپنے اپنے شہروں میں) قربانی کے لئے کوئی حکم نہیں، اس لئے یہ ساری دنیا میں اپنے اپنے طور پر قربانیاں ایک رسم ہے ذرا حساب لگائیے کہ اس رسم کو پورا کرنے میں اس غریب قوم کا کس قدر روپیہ ہر سال ضائع ہوجاتا ہے اگر آپ ایک کراچی شہر کو لے لیں تو اس آٹھ دس لاکھ کی آبادی میں سے اگر پچاس ہزار نے بھی قربانی دی ہو اور ایک جانور کی قیمت تیس روپے بھی سمجھ لی جائے تو پندرہ لاکھ روپیہ ایک دن میں صرف ایک شہر سے ضائع ہوگیا، اب اس حساب کو پورے پاکستان پر پھیلائیے اور اس سے آگے ساری دنیا کے مسلمانوں پر اور پھر سوچئے کہ ہم کدھر جارہے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں سوچنا آجائے تو پھر ہماری بربادی کیوں ہو؟

۴)…مذہبی رسومات کی ان دیمک خوردہ لکڑیوں کو قائم رکھنے کے لئے طرح طرح کے سہارے دئیے جاتے ہیں کہیں قربانی کو سنت ابراہیمی قرار دیا جاتا ہے، کہیں اسے صاحب نصاب پر واجب ٹھہرایا جاتا ہے، کہیں اسے تقرب الہٰی کا ذریعہ بتایا جاتا ہے، کہیں دوزخ سے محفوظ گزر جانے کی سواری بنا کر دکھایا جاتا ہے۔

۵)…قربانی تو وہاں کھانے پینے کا سامان مہیا کرنے کا ذریعہ تھی اب جس طرح وہاں جانور ذبح کر کے دبائے جاتے ہیں نہ ہی وہ مقصود خداوندی ہے اور نہ ہی ان کی ہم آہنگی میں ہر جگہ جانوروں کا ذبح کرنا بغیر کسی مقصد و غایت کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے، وہاں بھی سب کچھ ضائع کردیا جاتا ہے اور یہاں بھی …وذلک خسران المبین

تلاوت قرآن کریم:

یہ عقیدہ بلا سمجھے قرآن کے الفاظ دہرانے سے’’ثواب‘‘ ہوتا ہے یکسر غیر قرآنی عقیدہ ہے، یہ عقیدہ درحقیقت عہد سحر کی یادگار ہے۔

 ایصال ثواب:

اس سے آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ ایصال ثواب کا عقیدہ کس طرح مکافات عمل کے اس عقیدہ کے خلاف ہے جو اسلام کا بنیادی قانون ہے۔ خدا جانے اس قوم نے کہاں کہاں سے ان عقائد کو پھر سے لے لیا جنہیں مٹانے کے لئے قرآن آیا تھا اور اس صورت میں جبکہ خود قرآن اپنی اصل شکل میں ان کے پس موجود ہے اس سے بڑاتغیر بھی آسمان کی آنکھ نے کم ہی دیکھا ہوگا۔

 دین کے ہر گوشہ میںتحریف ہوچکی ہے:

وہ دین جو محمد رسول اللہﷺ نے دنیا تک پہنچایا تھا اس کا کونسا گوشہ اور کونسا شعبہ ہے جس میں تحریف نہیں ہوچکی۔

 برہمو سماجی مسلمان:

یہ ہر رنگ کی’’خدا پرستی‘‘میں’’نیک عملی‘‘ کی راہیں بتانے والے برہمو سماجی مسلمان کیا جانیں کہ قرآن کی رو سے’’خدا پرستی‘‘ کسے کہتے ہیں اور’’نیک عملی ‘‘ کیا ہوتی ہے۔

 قرآن کی رو سے سارے مسلمان کافر ہوگئے:

اسی حقیقت کو قرآن نے سورہ آل عمران میں زیادہ وضاحت سے بیان کیا ہے اس میں پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام کی راہ کونسی ہے اور اسے حضرات انبیاء کرام نے کس طرح اختیار کیا، اس کے بعد اس حقیقت کا اعلان ہے کہ فوزو فلاح اور سعادت و برکات کی یہی ایک راہ ہے۔

ومن یبتغ غیرالاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ من الخاسرین

 جو قوم اس راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کرلے گی تو اس کی یہ راہ قابل قبول نہیں ہوگی اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ آخر تباہ وبرباد ہوجائے گی۔

اس کے بعد مسلمانوں کی تاریخ سامنے لائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ

کیف یھدی اللّٰہ قوما کفروا بعدایمانھم،بھلا سوچو کہ خدا اس قوم پر زندگی کی راہیں کس طرح کشادہ کردے گا جس نے ایمان کے بعد کفر کی روش اختیار کرلی ہو وشھدواان الرسول حق وجاء ھم البینت حالانکہ ان کی طرف خدا کا واضح ضابطہ حیات آچکا تھا اور وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے تھے ان کے رسول نے اس ضابطہ حیات پر عمل پیرا ہو کر کس طرح تعمیری نتائج پیدا کر دکھائے تھے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد اس قوم نے کفر کی راہ اختیار کرلی ،واللّٰہ لا یھدی القوم الظلمین، سوایسی ظالم قوم کو خدا کس طرح سعادتوں کی راہ دکھائے ، اولئک جزاء ھم ان علیھم العنۃ اللّٰہ و الملئکۃ والناس اجعمین، ان کی اس روش کا فطری نتیجہ یہ ہواکہ یہ قوم ان تمام آسودگیوں سے محروم ہوگئی جو نظام خداوندی سے وابستگی سے حاصل ہوئی تھی اور ان تمام آسائشوں سے بھی محروم ہوگئی جو فطرت کی قوتوں کو مسخر کرنے سے ملنی تھیں حتی کہ ان کی ذلت و پستی کی وجہ سے دوسری قومیں انہیں اپنے پاس نہیں آنے دیتیں اور دور دور رکھتی ہیںلا یخفف عنھم العذاب ولاھم ینظروناس بناء پر کہ انہوں نے اپنا نام مسلمان رکھ چھوڑا ہے ان کی اس تباہی میں کسی طرح کمی واقع نہیں ہو سکتی نہ ہی انہیں اس سے زیادہ مہلت مل سکتی تھی جتنی مہلت خدا کے قانون امہال و تدریج کی رو سے ملا کرتی ہے۔

 دیکھو سلیم قرآن نے واضح الفاظ میں بتادیا ہے کہ اس امت کو جوسرفرا زیاں شروع میں نصیب ہوئی تھیں وہ ان بینات( قرآن کے واضح قوانین)پرچلنے کا نتیجہ تھیں جو انہیں خداکی طرف سے ملے تھے پھر جب انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تویہ ان تمام برکات سے محروم ہوگئے

 پرویزی شریعت میں صرف چار چیزیں حرام ہیں:

(محمد صبیح ایڈوکیٹ نے دارالاشاعت قرآن ٹھٹھہ سے ۹۶ صفحات کا ایک رسالہ شائع کیا تھا جس کا نام ہے حلال و حرام کی تحقیق ماہنامہ طلوع اسلام بابت مئی ۱۹۵۳؁ء میں اس رسالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے جو داد تحقیق دی گئی وہ درج ذیل ہے)

سید صبیح صاحب نے اس رسالہ میں بتایا ہے کہ قرآن کی رو سے صرف مردار، بہتا خون، لحم خنزیر اور غیر اللہ کے نام کی طرف منسوب چیزیں حرام ہیں ان کے علاوہ اور کچھ حرام نہیں۔ یہ قرآن کا واضح فیصلہ ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ ہمارے مروّجہ اسلام میں حرام و حلال کی جو طولانی فہرستیں ہیں وہ سب انسانوں کی خود ساختہ ہیں اور کسی انسان کو حق نہیں کہ کس شے کو حرام قرار دیدے یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online