Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔626)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 626)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: اس شخص کے لئے خوشخبری ہو جو اللہ کے راستہ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرے، کیونکہ اسے ہر کلمہ کے بدلہ ستر ہزار نیکیاں ملیں گی اور ان میں سے ہر نیکی دس گنا ہوگی اور اس کے علاوہ مزید بھی اللہ کے ہاں اسے ملے گا۔ حضور اکرمﷺ سے پوچھا گیا: یارسول اللہ! اور خرچہ (کا کیا ثواب ہوگا؟) آپﷺنے فرمایا: خرچ کا ثواب بھی اتنا ہی ہوگا۔ حضرت عبدالرحمنؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: خرچ کا ثواب تو سات سو گنا ہے۔ حضرت معاذرضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری سمجھ تو تھوڑی ہے۔ یہ ثواب تو اس وقت ملتا ہے جب آدمی خود اپنے گھر ٹھہرا ہوا ہو اور غزوہ میں نہ گیا ہو اور (دوسروں پر) خرچ کیا ہو۔ جب آدمی خود غزوہ میں جاکر خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس  کے لئے رحمت کے وہ خزانے چھپا رکھے ہیں جن تک بندوں کا علم پہنچ نہیں سکتا اور نہ بندے اُن کا وصف بیان کرسکتے ہیں۔ یہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ کی جماعت ہی غالب آکر رہتی ہے۔

حضرت علی، حضرت ابو دردائ، حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابو اُمامہ، حضرت ابن عمرو بن العاص، حضرت جابر اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہم فرماتے ہیںکہ حضورِ اقدسﷺ نے فرمایا: جو آدمی اللہ کے راستہ میں خرچ بھیج دے اور خود اپنے گھر ٹھہرا رہے تو اسے ہر در ہم کے بدلے سات سو درہم کا ثواب ملے گا اور جو خود اللہ کے راستہ میں غزوہ کے لیے جائے اور اللہ کی رضاء کے لئے خرچ کرے تو اس کو ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا، پھر حضور اکرمﷺ نے یہ آیت پڑھی:

واللّٰہ یضعف لمن یشائ(اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے)

حضور اکرمﷺ کے جہاد میں جان لگانے اور مال خرچ کرنے کے لئے ترغیب دینے کے باب میں گزر چکا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عباس، حضرت سعد بن عبادہ، حضرت محمد بن مسلمہ اور حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہم اجمعین نے کتنا کتنا خرچ کیا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خرچ کرنے کے باب میں یہ قصے اور تفصیل آئیں گے۔

اللہ کے راستہ میں اخلاصِ نیت کے ساتھ نکلنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور اکرمﷺ سے پوچھا: یارسول اللہ! ایک آدمی جہاد میں اس نیت سے جاتا ہے کہ اسے دنیا کا کچھ سامان مل جائے گا۔ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: اسے کچھ اجر نہ ملے گا۔ لوگوں نے اس بات کو بہت بڑا سمجھا اور اس آدمی سے کہا: تم حضور اکرمﷺ کی خدمت میں جاکر دوبارہ پوچھو، شاید تم اپنی بات حضور اکرمﷺ کو سمجھا نہیں سکے ہو۔ اس آدمی نے کہا: یارسول اللہ! ایک آدمی جہاد میں اس نیت سے جاتا ہے کہ وہ دنیا کا کچھ سامان حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔ لوگوں نے اس بات کو بہت بڑا سمجھا اور اس آدمی سے کہا: جائو، پھر حضور اکرمﷺ سے پوچھو۔ چنانچہ اس نے تیسری مرتبہ حضور اکرمﷺ کی خدمت میں جاکر عرض کیا کہ ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ میں اس نیت سے جاناچاہتاہے کہ اسے دنیا کا کچھ سامان مل جائے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے  حضور اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:  آپ ذرا بتائیے کہ ایک آدمی غزوہ میں شریک ہوکر ثواب بھی حاصل کرنا چاہتا ہے اور لوگوں میں شہرت بھی، تو اسے کیا اجر ملے گا؟ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اس آدمی نے اپنا سوال کئی مرتبہ دہرایا۔ حضورِ اکرمﷺ ہر دفعہ اسے یہی جواب دیتے رہے کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول فرماتے ہیں جو خالص ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لیے کیا گیا ہو۔

حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں میں ایک پردیسی آدمی رہتا تھا، اسے کوئی جانتا نہیں تھا کہ وہ کون ہے؟ لوگ اسے قزمان کہتے تھے۔ جب بھی اس کا تذکرہ ہوتا تو حضور اکرمﷺ فرماتے کہ یہ دوزخ والوں میں سے ہے۔ جنگِ اُحد کے دن اس نے خوب زور و شور سے لڑائی کی اور اس نے اکیلے ہی سات آٹھ مشرکوں کو قتل کر ڈالا اور وہ بڑا جنگجو اور بہادر تھا۔آخر وہ زخموں سے نڈھال ہوگیا تو اسے بنو ظفر کے محلہ میں اُٹھا کر لایا گیا تو بہت سے مسلمان اسے کہنے لگے: اے قزمان! آج تو تم بڑی بہادری سے لڑے ہو۔ تمہیں خوش خبری ہو! اس نے کہا: مجھے کس چیز کی خوشخبری ہو؟ اللہ کی قسم! میں نے تو صرف اپنی قوم کی ناموری کے لیے یہ لڑائی لڑی ہے، اگر میرا مقصد یہ نہ ہوتا تو میں ہرگز نہ لڑتا۔ چنانچہ جب اس کے زخموں کی تکلیف بڑھ گئی تو اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس نے خود کشی کرلی۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online