Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

مسئلہ زکوٰۃسے متعلقہ ایک اہم استفتاء اور اس کا جواب

مسئلہ زکوٰۃسے متعلقہ ایک اہم استفتاء اور اس کا جواب

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 626)

حضرت مفتی صاحب مدظلہ العالی نے تحریر فرمایا ہے کہ گائے کا نحر کرنا کہیں منقول نہیں ہے۔ اگرچہ مسئلہ یہی ہے کہ گائے میں ذبح سنت ہے لیکن نحر بھی جائز ہے کیونکہ احادیث سے گائے کا نحر بھی معلوم ہوتا ہے۔

روت عمرۃ عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا انھا قالت دخل علینا یوم النحر بلحم تقیل نحر رسول اللّٰہﷺ عن ازواجہ البقر

عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کوگوشت لے کر تشریف لائے تو کہا گیا کہ آپﷺنے اپنی ازواج کی طرف سے گائے نحر کی ہے۔

حافظ عینی لکھتے ہیں:

اما البقر فجاء  فی القرآن ذکر ذبحھا فی السنۃ ذکرنحرھا

گائے کے بارے میں قرآن میں تو ذبح کا ذکر آیا ہے اور حدیث میں نحر بھی آیا ہے اور اس سلسلہ میں فقہاء کے مذاہب اس طرح بیان کرتے ہیں:

جن جانوروں میں ذبح مسنون ہے، اگر ان کو نحر کرلیا جائے یا جن میں نحر ہے، اگر ان کو ذبح کرلیا جائے تو اس میں اختلاف ہے۔ جمہور نے جائز کہا۔ ابن قاسم نے ممانعت کی۔ابن المنذر کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ، ثوری، لیث، مالک، شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ جواز مع کراہت کے قائل ہیں۔ احمد، اسحاق، ابو ثر مکروہ بھی نہیں کہتے اور یہی قول عبدالعزیز بن ابی سلمہ کا ہے۔اشہب کا قول یہ ہے کہ اگر بلا ضرورت ذبح کرلیا جائے تو اس کو نہ کھایا جائے۔

مسئلہ زکوٰۃسے متعلقہ ایک اہم استفتاء اور اس کا جواب

فضیلۃ المفتی!

یہ ثابت ہے کہ ’’آلات المحترفین‘‘ پر زکوٰۃ نہیں ہے، اب سوال یہ ہے کہ کارخانے، صنعت کی مشینیں، ملیں، فیکٹریاں، جہاز، ہوائی جہاز (شرکات النقل کی ملکیت) یہ سب آلات المحترفین (مما ینتفع بعینھا) کے ذیل میں آتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ عروض التجارۃ کی صنف میں تو یہ داخل نہیں۔ زمین کی قیمت کچھ بھی ہو اس پر زکوٰۃ نہیں اس کی پیداوار پر عشر لیا جائے گا۔ کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ آلات المحترفین میں فرق کیا جائے، خواہ وہ کسی نوعیت کے ہوں اور ان کی قیمت کچھ بھی ہو۔ معاشیات کی رو سے اس میں یہ مصلحت نظر آتی ہے کہ صنعت کار پر جو بھی ٹیکس لگایا جاتا ہے، وہ کبھی خود اس کا متحمل نہیں ہوتا بلکہ اس کو پیداوار کے خریداروں (مستہلکین) کے ذمہ ڈال دیتا ہے اس طرح یہ بالواسطہ ٹیکس بن جاتا ہے جس کی شریعت میں گنجائش نہیں۔’’لیس بالمکس ولکنہ النجس‘‘ میں یہی حکمت بتائی گئی ہے۔

حکم شرعی کے ساتھ ایسے حوالے مرحمت فرمائیں جو علمی بحث میں کام آسکیں۔ محترم مولانا بنوری تشریف رکھتے ہوں اور ان کا استصواب ممکن ہو تو’’لیطمئن قلبی‘‘ کا مصداق ہوگا۔

والسلام مع الکرام

محمد یوسف۔ القسم العربی بجامعہ کراتشی

الجواب باسمہٖ تعالیٰ

آلات المتحرفین (صنعت وحرفت والوں کے اوزار) خواہ وہ معمولی حیثیت اور مالیت کے ہوں جیسے کہ بڑھئی کے آلات، سنار کے آلات وغیرہ یا غیر معمولی حیثیت اور مالیت کے ہوں جیسے کہ صنعتی کارخانوں کی مشینیں، ملیں، بحری جہاز، ہوائی جہاز، بسیں، ٹیکسیاں وغیرہ ان سب پر قطعاً زکوٰۃ واجب نہیں بلکہ ان سے جو آمدنی اور پیداوار حاصل ہوگی اس پر حولان حول کے بعد زکوٰۃ کا فریضہ عائد ہوگا، دلائل مختصراً درج ذیل ہیں:

(۱) قرآن کریم میں اس فریضہ مالی کو’’زکوٰۃ‘‘ کے لفظ سے بیان فرمایاہے اور زکوٰۃ کے معنی ’’نماء اور زیادۃ‘‘ کے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ مال نامی سبب زکوٰۃ ہے اور آلات المتحرفین اموال نامیہ میں سے نہیں ہیں جبکہ ان سے مقصد تجارت نہ ہو بلکہ پیداوار کا حصول ہو، کیونکہ اموال نامیہ وہ کہلائے جاتے ہیں جن کے عین سے ’’نمائ‘‘ مطلوب ہونہ کہ ان کے منافع سے۔ شمس الائمہ سرخسی ایک بحث کے ذیل میں بطور کلیہ کے لکھتے ہیں:

ثم مال الزکوٰۃ ما یطلب النماء من عینہ لا من منافعہ

پھر زکوٰۃ کا مال وہ ہے جس کے عین سے نمو (زیادتی) مطلوب ہونہ کہ اس کے منافع سے۔ (ص ۱۶۵ج ۲)

ملک العلماء کا سانی نے شرط نماء پر بڑی سیر حاصل بحث کی ہے فرماتے ہیں:

منھا کون المال نامیاً لان معنی الزکوٰۃ ھو النماء لا یحصل الا من المال النامی ولسنا نعنی بہ حقیقۃ النماء لان ذلک غیر معتبرۃ وانما نعنی بہ کون المال معد الااستنماء بالتجارۃ اوبالا سامۃ لان الاسامۃ سبب الحصول الدروالنسل والسمن والتجارۃ سبب لحصول الربح فیقام السبب مقام المسبب وتعلق الحکم بہ کالسفر مع المشقۃ والنکاح مع الوطی والنوم مع الحدیث ونحو ذلک

ان (اسباب وجوب الزکوٰۃ) میں سے ایک مال کا نامی ہونا ہے اس لیے کہ زکوٰۃ کے معنی ہی نمو (بڑھوتری) کے ہیں اور یہ نمو مال نامی (خود بڑھنے والے مال) میں ہی ہوسکتا ہے۔ ہماری مراد اس نمو سے حقیقتاً نمو کا پایا جانا نہیں ہے اس لیے کہ شریعت میں اس کا اعتبار نہیں ہے بلکہ ہماری مراد اس نمو سے مال کے نامی ہونے کی صلاحیت ہے خواہ یہ (نمو) تجارت کے ذریعے ہو یا (مویشیوں کی) پرورش کے ذریعے ہو اس لیے کہ مویشیوں کی پرورش ان کے دودھ، گھی اور نسل کے حصول کا ذریعہ ہے ( اور یہی ان کا نمو ہے) اور تجارت منافع کے حصول کا ذریعہ ہے (اور یہی منافع تجارت کا نمو ہیں) اور سبب (یعنی تجارت یا مویشیوں کی پرورش) کومسبب ( حصول دودھ، گھی یا نسل کشی) کے قائم مقام کردیا گیا اور اسی سے وجوب زکوٰۃ کا حکم وابستہ کردیا گیا جیسے کہ سفر اور مشقت سفر میں نکاح اور جماع میں اور سونے اور وضو ٹوٹنے میں ۔وغیر ذلک

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online