Bismillah

663

۱تا۷صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۲تا۱۸اکتوبر۲۰۱۸ء

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 626)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 626)

حدیث میں یہ جو فرمایا ہے کہ ماں باپ اور بہن بھائی کے بعد ترتیب وارجو رشتہ دار زیادہ قریب ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس سے جس قدر رشتہ داری زیادہ قریب ہو اسی قدر اس کے ساتھ صلہ رحمی اورحسن سلوک کا خاص خیال رکھو، صلہ رحمی کے معنی یہ نہیں کہ مال ہی سے خدمت کیا کرو بلکہ مالی خدمت کرنا، ہدیہ دینا، آنا جانا، غم اور خوشی میں شریعت کے مطابق شریک ہونا، ہنستے کھیلتے ہوئے اچھے طریقہ پر ملنا، یہ سب صلہ رحمی اور حسن سلوک ہے، ان میں اکثر چیزوں میں تو مالی خرچ بالکل ہی نہیں ہوتا اور دلداری ہو جاتی ہے، پس حسب موقع اور حسب حال جس طرح کی صلہ رحمی ہوسکے کرتے رہنا چاہیے۔

جو بدلہ اُتار دے وہ صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص بدلہ اُتار دے وہ صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کا برتائو کیا جائے تو وہ صلہ رحمی کا برتائو کرے۔( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۴۱۹از بخاری)

 اس حدیث پاک میں ان لوگوں کو نصیحت فرمائی جو صلہ رحمی کی ترغیب دینے پر یہ جواب دیتے ہیں کہ ہمیں کون پوچھتا ہے جو ہم صلہ رحمی کریں، ہم فلاں کے پاس جاتے ہیں تو پھوٹے منہ سے بات بھی نہیں کرتا کہ ہمیں کون پوچھتا ہے اور بھتیجے نے یہ زیادتی کررکھی ہے پھر ہمیں کیسے مل سکتے ہیں؟ حضور اکرمﷺ نے فرمایا : جو بھائی، بہن، خالہ، ماموں وغیرہ تم سے اچھی طرح ملتے ہیں صلہ رحمی اور حسن سلوک سے پیش آتے ہیں اور اس کے بدلہ میں تم بھی میل جول رکھتے ہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اورسمجھتے ہو کہ ہم نے صلہ رحمی کردی تو یہ حقیقی صلہ رحمی نہیں ہے، جو شرعاً مطلوب ہے کیونکہ یہ تو بدلہ اُتار دینا ہوا، تعلق جوڑ دینا اور صلہ رحمی کرنا نہ ہوا، ثواب تو اس  کا بھی ملتا ہے لیکن اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جس سے قطع رحمی کا برتائو کیا جائے، تو وہ قطع رحمی کے باوجود صلہ رحمی کرتا رہے، جو قطع رحمی کرے اس سے ملا کرے، سلام کیا کرے کبھی کبھی ہدیہ بھی دے اس میں نفس پر زور تو پڑے گا، لیکن ان شاء اللہ ثواب بہت ملے گا اور جس نے قطع رحمی کررکھی ہے وہ بھی اپنے تغافل سے ان شاء اللہ باز آجائے گا، اگر ہر فریق اس نصیحت پر عمل کرے تو پورا خاندان رحمت ہی رحمت بن جائے۔

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضور اکرمﷺ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے جلدی سے آپﷺ کا دست مبارک پکڑ لیا اور آپﷺ نے  (بھی) جلدی سے میرا ہاتھ پکڑ لیا، پھر فرمایا کہ اے عقبہ!کیا میں تجھے دنیا اور آخرت والوں کے افضل اخلاق نہ بتادوں؟ پھر خود ہی فرمایا : جو شخص تجھ سے قطع تعلق کرے تو اس سے تعلق جوڑے رکھ اور جو شخص تجھے محروم کردے تو اس کو دیا کر اور جو شخص تجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کردیا کر اور فرمایا: خبردار جو یہ چاہے اس کی عمر دراز ہو اور رزق میں وسعت ہو اس کو چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کا برتائو کرے۔ (مستدرک حاکم ص ۱۶۲ ج ۴)

قطع رحمی کا وبال

حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضور اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس قوم پر رحمت نازل نہیں ہوتی جس میں کوئی شخص قطع رحمی کرنے والا موجود ہو۔

فائدہ: جس طرح صلہ رحمی سے اللہ پاک کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں اسی طرح قطع رحمی کی وجہ سے اللہ پاک جلّ شانہٗ اپنی رحمت روک لیتے ہیںاور یہی نہیں کہ صرف قطع رحمی کرنے والے سے بلکہ اس کی پوری قوم سے رحمت روک لی جاتی ے، جس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص قطع رحمی کرتا ہے تو دوسرے لوگ اس کو صلہ رحمی پر آمادہ نہیں کرتے بلکہ خود بھی اس کے جواب میں قطع رحمی کا برتائو کرنے لگتے ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: لفظ رحم لیا گیا لفظ رحمن سے (جو اللہ جلّ شانہٗ کا نام ہے) پس اللہ جلّ شانہٗ نے  فرمایا : (اے رحم) جس نے تجھ سے جوڑے رکھا (یعنی تیرے حقوق ادا کئے) میں اس کو رحمت کے ساتھ اپنے سے) ملا لوں گا اور جس نے  تجھے کاٹ دیا میں اس کو (اپنی رحمت سے) کاٹ دوں گا (یعنی رحمت کے دائرے سے الگ کردوں گا)(مشکوٰۃ المصابیح ص ۴۱۹ از بخاری)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online