Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

طلاق ثلاثہ (۵)

طلاق ثلاثہ (۵)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 631)

البتہ منکرین حدیث کا ان روایات سے استدلال تعجب خیز معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ حدیث رسول اللہﷺ کو سرے سے ماخذ احکام تسلیم نہیں کرتے بلکہ ان کے نزدیک تو حدیث رسولﷺ ایک عجمی سازش ہے اور حدیث نبوی علیہ الصلوٰۃ و التسلیمات سے زیادہ ان کے ہاں یورپین مصنفین کی تحقیقات کی وقعت ہے چنانچہ وہ اسلامی احکام و قوانین کو دشمنان اسلام کی تحریرات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی ہی آواز ملانے کی سعادت حاصل کرتے ہیں لیکن اگر کچھ حدیثیں ایسی مل جاتی ہیں تو حدیث سے اپنے بغض کے جذبہ کو تسکین دینے کے لیے ان پر ضرور بحث کرتے ہیں خصوصاً جبکہ ان احادیث پر سلف امت کا کچھ کام بھی ہو تو ان کو ضرور معرض بحث میں لاتے ہیں تاکہ دھوکہ دیا جا سکے کہ حدیث پاک سے بحث و استدلال کرنے کے مجاز ہیں حالانکہ یہ سراسر دھوکہ اور خداع ہے ان کے نزدیک جب حدیث ماخذاحکام نہیں ہے تو اس سے استدلال سعی لاحاصل ہے۔

اب وہ احادیث سنئے جن کا آپ کو انتظار تھا ان میں سے تین احادیث صحیح مسلم میں ہیں اور ایک حدیث ہم مسند احمد کے حوالہ سے نقل کریں گے:

’’بروایت ابن طائوس عن ابیہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ طلاق رسول اللہﷺ اور ابوبکر و عمررضی اللہ عنہما کی خلافت کے دوسال تک اس طرح تھی کہ تین طلاقوں کو ایک سمجھا جاتا تھا، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس معاملہ میں لوگوں کو صبر و سکون سے کام لینا چاہئے تھا جلد بازی کررہے ہیں اگر ہم ان پر تینوں طلاقیں نافذ کردیں تو کیا ہی اچھا ہو، آخر کار آپؓ نے ان پر نافذ کرہی دیا۔‘‘

ابو الصہبا ء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول کریمﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کی حکومت کے تین سال تک تین طلاقیں ایک سمجھی جاتی تھیں یا تین کو ایک گردانا جاتا تھا؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں۔‘‘

’’طائوس روایت کرتے ہیں کہ ابو الصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ اپنی عجیب وغریب باتیں یا قابل اعتراض باتیں بیان کریں کیا تین طلاقیں رسول اللہﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک تھیں؟ انہوں نے کہا کہ ایسا تھا جب عہد فاروقی آیا تو لوگ پے درپے طلاق دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر تینوں کو نافذ کردیا۔‘‘

 ابو عبدالحاکم نے مستدرک میں عبداللہ بن مؤکل کی روایت سے اس طرح نقل کیا ہے

’’کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں تین طلاقیں ایک طلاق کی طرف رد کی جاتی تھیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں‘‘

البتہ واضح رہے کہ عبداللہ بن مؤکل کی ابن معین، ابو حاتم اور ابن صدی نے تضعیف کی ہے اور امام ابو دائود نے منکر الحدیث کہا ہے ،علاوہ ازیں اس میں انقطاع ہے۔

 عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت ایک ہی روایت ہے جو تھوڑے تھوڑے فرق سے بیان ہوئی ہے سب سے پہلے تو ہم راوی حدیث کا مسلک معلوم کرتے ہیں، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے تقریباً تو اتر سے مروی ہے کہ وہ ایک جملہ میں تین طلاق دینے کو تین طلاقیں سمجھتے تھے موصوف کا یہ مسلک عطائ، عمرو بن دینار، سعید بن جبیر، مجاہد بلکہ طائو س سے بھی مروی ہے اور کسی صحابی کی روایت اگر ان کے مسلک کے خلاف ہو…کو نقل کیا ہے اگر چہ اس کے مقابلہ دوسرا مسلک یہی ہے دوسرا یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ طائو س اس روایت کے نقل کرنے میں منفرد ہیں اس لیے ان کی شذوذ پر عمل نہیں کیا جاسکتا، ابن طائوس اپنے والد سے روایت بیان کرنے میں کہ تین طلاقیں ایک سمجھی جاتی ہیں کذب سے متہم کئے گئے ہیں کما فی تخریج الکرابیسی

علاوہ ازیں طائوس اور ابو الصہباء کے درمیان انقطاع ہے، صحیح مسلم میں بعض احادیث منقطعہ بھی ہیں حضرت شاہ صاحبؒ نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے کہ صحیح مسلم میں بعض احادیث حسن لذاتہ ہیں تو اس طرح صحیح مسلم غالب اکثریت کے اعتبار سے صحیح ہے یہ مطلب نہیں کہ اس کی ہر ہر حدیث صحیح اور متصل ہے۔

 یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ ابو الصہباء اگر مولی ابن عباس ہیں تو بقول امام جرح و تعدیل امام نسائی ضعیف ہیں اور اگر کوئی دوسرے ہیں تو مجہول ہیں پھر جب یہ حدیث قرآن کریم کے اطلاق اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے تو ضعیف اور منقطع روایت کس طرح قبول کی جا سکتی ہے؟

اس حدیث میں ایک قرینہ ہے جو اس حدیث کی صحت کے لیے قادح ہے وہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماجیسے جلیل القدر صحابی جن کو حبر الائمہ کہا گیا ہے اور رسول اکرمﷺ نے جن کو’’اللھم علمہ الکتاب والحکمۃ‘‘ کی دعاء دی اور ان کو ان کا مولی’’ ھات من ھناتک‘‘ کے لفظ سے مخاطب کرے اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااس جملہ کوپی جائیں اور کوئی جواب نہ دیں یا یہ سمجھا جائے کہ سائل نے پہلے سے یہ سمجھ لیا ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ عنہما کے شواذ میں سے کوئی امر ہے جس کو وہ پوچھ رہا ہے اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے شواذ کو جمہور امت نے قابل فتویٰ قرار نہیں دیا اور نہ اس پر عمل کیا۔

 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے زیادہ قرآن کریم کو سمجھنے والا اور پیغمبر ﷺ کی اتباع کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے؟ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور جمہور صحابہ کرامؓ نے جب اس بات پر اجماع کیا کہ تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہے تو حدیث مندرجہ بالا کا اس کے علاوہ  اور کیا مطلب نکل سکتا ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اکرمﷺ کو اپنے اس اختلاف میں حکم نہیں بنایا بلکہ اپنی رائے کو رسول اکرمﷺ کے فیصلہ پر مسلط کیا حاشاھم عن ذلک علوا کبیرا

یا یہ کہنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیاسی طور پر یہ فیصلہ کیا تھا یہ بھی غلط اور سراسر غلط ہے کیونکہ شریعت کے مقابلہ میں سیاست کو ترجیح دیجا سکتی ہے ان تمام ملاحظات کے بعد اگر ہم حدیث کا مطلب سمجھنے کی کوشش کریں تو درج ذیل باتیں سمجھ میں آتی ہیں: حدیث پاک میں یہ جو کہا گیا ہے کہ تین طلاقیں ایک سمجھی جاتی تھیں تو الف لام کو استغراق پر حمل کرتے ہوئے ہر قسم کی طلاق مراد لی جائے اور سمجھایہ جائے کہ ہر قسم کی طلاق ایک سمجھی جاتی تھی تو یہ صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اگر ہر طہر میں ایک ایک طلاق دی جائے اسی طرح تین طلاقیں طہروں میں دیدی جائیں اور وہ ایک سمجھی جائیں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online