Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

حضرت ہود علیہ السلام (عہد زریں۔634)

حضرت ہود علیہ السلام

عہد زریں (شمارہ 634)

احقاف حقف کی جمع ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں ریت کے لمبے لمبے اونچے ٹیلے…جو عمان سے یمن تک پھیلے ہوئے تھے،  یہیں سے نکل کرعاد گردوپیش کے ممالک میں پھیلے اور کمزور قوموں پرچھا گئے، بحیرئہ عرب کے ساحل پر واقع یمن کے موجود شہر مکلا سے تقریباً ۲۰۰ کلومیٹر شمال کی جانب حضرموت میں ایک مقام ہے جہاں لوگوں نے حضرت ہودعلیہ السلام کا مزار بنا رکھاہے اور وہ قبر ہود کے نام ہی سے مشہور ہے۔ یہ قبر اگر چہ تاریخی طور پر ثابت نہیں تاہم مقامی روایات اسی علاقے کو قوم عاد کا علاقہ قرار دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ حضرموت میں کئی کھنڈرایسے ہیں جن کو مقامی باشندے آج تک دارِ عاد کے نام سے جانتے ہیں۔

 ہزاروں برس پہلے احقاف میں شاندار تمدن رکھنے والی قوم آباد تھی اور یہ علاقہ سرسبز وشاداب تھا مگر آج ایک لق ودق ریگستان ہے جس کے اندرونی حصوں میں جانے کی کوئی ہمت نہیں رکھتا۔ ۱۸۴۳ء میں بویریا( جرمنی) کا ایک فوجی آدمی اس کے جنوبی کنارے پر پہنچ گیا تھا۔ اس کے بقول حضرموت کی شمالی سطح مرتفع پر سے کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فٹ نشیب میں نظر آتا ہے۔ اس میں جگہ جگہ ایسے سفید ریتلے قطعے ہیں جن میں کوئی چیز گر جائے تو وہ ریت میں غرق ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں کی ریت بالکل باریک سفوف کی طرح ہے۔ اس جرمن نے ایک شاقول اس ریت میں پھینکا تو وہ ۲۵ منٹ کے اندر اس میں غرق ہوگیا حتی کہ اس رسی کاسراگل گیا جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا تھا۔ (’’قصص القرآن‘‘ حصہ اول ازمولانا سیوہاروی)

شبام اور تریم:یمن کی بندرگاہ عدن سے تقریباً۵۰۰ کلومیٹرشمال مشرق میں مکلا کی بندر گاہ ہے۔ مکلا سے ۶۵ کلومیٹر مشرق میں الشحرکی بندر گاہ ہے۔ مکلا اور الشحر سے ۲۰۰ کلومیٹر شمال میں وادی حضر موت ہے۔ اس وادی کے کنارے البحر الصافی، شبام اور تریم کے قصبے ہیں۔ شبام ال شبوہ نے حضر موت آکر آباد کیا تھا۔ شبام کے مشرق میں تقریباً۴۰ کلومیٹر دور تریم واقع ہے جس کے پاس حضرت ہود علیہ السلام کی قبر بتائی جاتی ہے یہی احقاف کا علاقہ تھا۔ یہیں سے وادی المسیلہ نامی ندی نکلتی ہے جو جنوب مشرق کا چکر کاٹ کر مصینعہ کے قریب بحیرئہ عرب میں جا گرتی ہے۔ مصینعہ کی قدیم بستی بھی ان دنوں کھنڈروں کی شکل میں موجود ہے۔ احقاف کے مشرق میں مہرہ علاقہ ہے جو عمان کی سرحد اور بحیرئہ عرب تک پھیلا ہوا ہے۔ آج یہاں وادی المسیلہ کے سوا کوئی اور ندی یا دریا نہیں، کہیں کہیں بر ساتی نالے ضرور موجود ہیں۔ حضر موت کے شمال میں کثیر نامی سطح مرتفع ہے۔

٭…٭…٭

Ehad-e-Zareen Naqsha-634

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online