Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔634)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 634)

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ دعاء مانگتے ہوئے سنا:

اے اللہ!مجھے اپنے راستے کی شہادت اور اپنے نبی ﷺ کے شہر کی موت نصیب فرما۔میں نے کہا:یہ( ان دوباتوں کا جمع ہونا) کیسے ہوسکتاہے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اللہ چاہے گا تو ایسے کردے گا۔

 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگِ احد کے دن کہا:کیا تم اللہ سے دعاء نہیں مانگتے ہو؟اس پر وہ دونوں حضرات ایک کونے میں گئے اور پہلے حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے یہ دعاء مانگی:اے میرے رب!کل کو جب میں دشمن سے لڑنے جائوں تو میرے مقابلہ میں ایسے بہادر کو مقرر فرما جو سخت حملہ والا ہو اور بہت غصہ والا ہو،میں اس پر زور دار حملہ کروں اور وہ مجھ پر سخت حملہ کرے۔ پھر مجھے اس پر فتح نصیب فرمایہاں تک کہ میں اسے قتل کر کے اس کا مالِ غنیمت لے لوں۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے آمین کہی۔ پھر انہوں نے دعاء مانگی:اے اللہ کل کو میدان جنگ میں ایک بہادر سے میر ا مقابلہ کر جو بہت غصہ والا اور سخت حملہ والا ہو۔ میں اس پر تیری وجہ سے حملہ کروں اور وہ مجھ پر زور دار حملہ کرے، پھر وہ مجھے پکڑ کر میرے ناک اور کان کاٹ دے۔ پھر کل جب تیر ے حضور میں میری پیشی ہو تو تو کہے کہ تیرے ناک اور کان کیوں کاٹے گئے؟ تو میں کہوں :تیری اور تیرے رسول کی وجہ سے۔ پھر تو کہے کہ ہاں! تم نے ٹھیک کہا۔ حضرت سعدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اے میر ے بیٹے! حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی دعاء میری دعاء سے بہتر تھی۔ چنانچہ میں نے دن کے آخری حصہ یعنی شام کو دیکھا کہ ان کے ناک اور کان ایک دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔

 حضرت سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے یہ دعاء مانگی:اے اللہ! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ کل جب میں دشمن سے ملوں تو وہ مجھے قتل کر کے میرے پیٹ کو پھاڑ دے اور میرے ناک اور کان کاٹ دے، پھر تو مجھ سے پوچھے :یہ سب کچھ کیوں ہوا؟تو میں کہوں:(یہ سب کچھ) تیر ے لیے ہوا۔ حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جیسے اللہ نے ان کی قسم کاشروع والا حصہ پورا کردیا ایسے ہی قسم کا آخری حصہ بھی ضرور پورا کریں گے۔

 حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:بہت سے دو پرانی چادروں والے ایسے ہیں کہ ان کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتا( لیکن) اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو ضرور پورا کردے اور ان لوگوں میں سے ایک حضرت براء بن مالک (رضی اللہ عنہ ) بھی ہیں۔ چنانچہ جب جنگ تستر کے دن مسلمانوں کو شکست ہونے لگی تو لوگوں نے کہا:اے برائ!اللہ کی قسم دے کر( فتح کی) دعاء کرو۔ چنانچہ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میر ے رب !میں تجھے قسم دے کر کہتا ہوں کہ تو دشمن کے کندھے ہمارے ہاتھوں میں دے دے اور مجھے اپنے نبیﷺ سے ملادے( یعنی مجھے شہادت کی موت نصیب فرما اور مسلمانوں کو فتح عطا فرما) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ اسی دن شہید ہوگئے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیںجو خود بھی کمزور ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی ان کو کمزور سمجھتے ہیں۔ ان کے پاس اوڑھنے کے لیے صرف دوپرانی چادریں ہوتی ہیں، لیکن اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو ضرور پورا کردے اور ان لوگوں میں سے حضرت براء بن مالک بھی ہیں۔ چنانچہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کا مشرکین کی ایک جماعت کے ساتھ مقابلہ ہوا اور اس دن مشرکوں نے مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچایا تھا۔ تو مسلمانوں نے کہا:اے برائ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر آپ اللہ پر قسم کھائیں تو اللہ آپ کی قسم کو ضرور پورا کردیں گے، اس لیے( آج مسلمانوں کو شکست سے بچانے اور فتح دلوانے کے لیے) آپ اپنے رب پر قسم کھائیں۔ تو حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا:اے میرے رب! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو دشمن کے کندھے ہمارے ہاتھوں میں دے دے۔(چنانچہ اس دن مسلمانوں کو فتح ہوگئی) اس کے بعد پھر سوس کے شہر کے پل پر مسلمانوں کا مشرکوں سے مقابلہ ہوا۔ مشرکوں نے اس دن بھی مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچایا۔اس پر مسلمانوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کہا: اے برائ! آپ اپنے رب پر قسم کھائیں  چنانچہ انہوں نے کہا:اے میرے رب! میں تجھے اس بات کی قسم دیتا ہوں کہ تو دشمن کے کندھے ہمارے ہاتھوں میں دے دے اور مجھے اپنی نبی کریمﷺ کے ساتھ ملادے۔ چنانچہ مسلمانوں کو مشرکوں پر فتح ہوئی اور حضرت براء رضی اللہ عنہ خود شہید ہوگئے۔

حضرت حمید بن عبدالرحمن حمیری کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک صحابی کا نام حممہ رضی اللہ عنہ تھا۔ وہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں اصفہان کے جہاد میں شریک ہوئے تو انہوں نے دعاء مانگی:اے اللہ! حممہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ تیری ملاقات کو یعنی مرنے کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے۔ اے اللہ! اگر وہ( اپنے اس دعوے میں) سچا ہے تو تو اس کی سچائی کی وجہ سے اسے اس کی ہمت وقوت نصیب فرما( کہ وہ خوشی خوشی تیرے راستہ میں شہادت کو گلے لگا لے) اور اگر وہ( اپنے اس دعوے میں) جھوٹا ہے تو چاہے وہ اسے پسند نہ کرے لیکن تو اسے اپنے راستہ کی موت دے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online