Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

طلاق ثلاثہ (۸)

طلاق ثلاثہ (۸)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 634)

سفیان ثوریؒ اور اہل کوفہ کی رائے یہی ہے، امام مالکؒ فرماتے ہیں: اگر وہ عورت مدخول بہا ہے تو تین طلاقیں ہوں گی، امام شافعیؒ فرماتے ہیں: اگر ایک کی نیت کی تو ایک طلاق ہوگی رجوع کرنے کا حق ہوگا اگر دو کی نیت کی تو دوہوں گی اگر تین کی نیت کی تو تین طلاق ہوں گی۔

ایک اضطراب اس حدیث میں ہے کہ یہ مسندابی رکانہ ہے یا مرسل ہے، اس حدیث کے بارے میں محدثین اور اہل حق کی آراء ایک نظر میں کچھ اس طرح ہیں، حدیث سے مراد یہی حدیث ہے جس کو ابھی ہم نے امام احمد سے نقل کیا ہے۔

امام بخاریؒ اس کو معلول فرماتے ہیں اضطراب کی وجہ سے، امام ابن عبدالبر نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے حدیث معلول ہے، ابن حجر فی تخریج احادیث الرافعی حدیث منکر ہے۔

ایک اضطراب اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ طلاق دہندہ ابورکانہ ہیں یا ان کے صاحبزادے رکانہ بن عبدیزید ہیں؟یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ نکارت علت اضطراب طلاق ثلا ثاوالی روایت ہی ہے طلاق البتہ میں نہیں ہے، اسی لیے حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں فرمایا کہ اصل حدیث طلاق البتۃ سے طلاق ثلاثہ کی نیت کر کے دی جاتی تھی۔

 علاوہ ازیں جب اس کے روایان حدیث پر نظر ڈالتے ہیں تو جن ائمہ حدیث نے اس کو معلول فرمایا ہے ان کی تصدیق ہی ہوتی ہے راویان حدیث کا حال یہ ہے۔

محمد بن اسحاق، امام مالک، ہشام بن عروہ ان کی تکذیب کرتے ہیں ،تقدیر کے منکرین میںسے ان کا شمار ہے دوسروں کی حدیثیں اپنی حدیث میں داخل کرنے کے متہم ہیں،صفات باری تعالیٰ کے بارے میں ان کی حدیث غیر معتبر ہے اسی طرح احادیث احکام میں جب ان کی مخالفت دوسری احادیث سے ہواگرچہ یہ تصریح باسماع بھی کریں مغازی میں ان کے اقوال کو معتبر جانا گیا ہے۔

 سفیان ثوریؒ اور اہل کوفہ کی رائے یہی ہے، امام مالکؒ فرماتے ہیں: اگر وہ عورت مدخول بہاہے تو تین طلاقیں ہوں گی۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں: اگر ایک کی نیت کی تو ایک طلاق ہوگی، رجوع کرنے کا حق ہوگا اگر دو کی نیت کی تو دوہوں گی اگر تین کی نیت کی تو تین طلاق ہوں گی۔

ایک اضطراب اس حدیث میں ہے کہ یہ مسندابی رکانہ ہے یا مرسل ہے، اس حدیث کے بارے میں محدثین اور اہل حق کی آراء ایک نظر میں کچھ اس طرح ہیں، حدیث سے مراد یہی حدیث ہے جس کو ابھی ہم نے امام احمد سے نقل کیا ہے۔

امام بخاریؒ اس کو معلول فرماتے ہیں اضطراب کی وجہ سے، امام ابن عبدالبر نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے حدیث معلول ہے، ابن حجر فی تخریج احادیث الرافعی حدیث منکر ہے۔

ایک اضطراب اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ طلاق دہندہ ابورکانہ ہیں یا ان کے صاحبزادے رکانہ بن عبدیزید ہیں، یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ نکارت علت اضطراب طلاق ثلا ثاوالی روایت ہی ہے طلاق البتہ میں نہیں ہے اسی لیے حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں فرمایا کہ اصل حدیث طلاق البتۃ سے طلاق ثلاثہ کی نیت کر کے دیجاتی تھی۔

 علاوہ ازیں جب اس کے راویان حدیث پر نظر ڈالتے ہیں تو جن ائمہ حدیث نے اس کو معلول فرمایا ہے کہ ان کی تصدیق ہی ہوتی ہے راویان حدیث کا حال یہ ہے۔

محمد بن اسحاق، امام مالک، ہشام بن عروہ ان کی تکذیب کرتے ہیں، تقدیر کے منکرین میںسے ان کا شمار ہے دوسروں کی حدیثیں اپنی حدیث میں داخل کرنے کے متہم ہیںصفات باری تعالیٰ کے بارے میں ان کی حدیث غیر معتبر ہے اسی طرح احادیث احکام میں جب ان کی مخالفت دوسری احادیث سے ہواگرچہ یہ تصریح باسماع بھی کریں مغازی میں ان کے اقوال کو معتبر جانا گیا ہے۔

دائود بن الحصین خوارج کے مذہب کے داعی ہیں اگر امام مالکؒ ان سے روایت نہ کرتے تو ان کی حدیث بالکلیہ ترک کردی جاتی، امام الجرح ابو حاتم کا یہی قول ہے امام بخاریؒ کے شیخ علی بن المدینی فرماتے ہیں ان کی روایت عکرمہ سے منکر ہوتی ہے جن حضرات نے ان کی روایت کو قبول کیا ہے تو اس شرط پر کہ اس میں نکارت اور دوسرے سے ثقاہت کی مخالفت نہ ہو۔

 عکرمہ بہت سے بدعات سے ان کو ائمہ فن نے متہم کیا ہے سعید بن المسیب عطا بن ابی رباح جیسے حضرات نے ان سے پرہیز کیا ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکی صحیح روایات کے مقابلہ میں یہ شاذ اور منکر روایت کس طرح قبول کی جا سکتی ہے۔

 پوری بحث اور تحقیق کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ حدیث رکانہ کا صحیح متن وہی ہے جس کو امام ابودائود اور امام ترمذی نے نقل فرمایا ہے جس میں طلاق ثلاثا کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ طلاق البتۃ کے لفظ ہیں، جس کی وضاحت پچھلے صفحات میں آچکی ہے۔(و اللہ الموفق)

تین طلاقیں دینے سے تین ہی طلاقیں واقع ہوتی ہیں یا اگر کسی نے ایک ہزار طلاقیں دیں یا سو طلاقیں دیں یا ننانوے ستاروں کی مقدار میں یاآٹھ دیںسب سے تین ہی طلاقیں ہوتی ہیں اس سلسلہ میں رسول اکرمﷺ آپ کے صحابہ، فقہاء اور تابعین کرام سے یہی منقول ہے، مؤطا امام مالک، مصنف ابن ابی شیبہ و سنن البیہقی اور دوسری کتابوں میں روایات موجود ہیں طوالت مضمون کی خاطر ہم نے ان سب کو نظر انداز کردیا۔

مسئلہ زیر بحث میں جب ہم اجماع پر آتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خلفائے راشدین حضرت عمر حضرت عثمان حضرت علی رضی اللہ عنہم اور دوسرے صحابہ کرام کا مذہب بھی یہی تھا کہ تین بار طلاق کا لفظ کہنے سے تین ہی طلاقیں ہوتی ہیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے متعلق تو تفصیل سے وضاحت آچکی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کاایک فتویٰ ابن حزم نے المحلی میں اور ابو بکر بیہقی نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے۔

 ’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو پیش کیاگیا جس نے اپنی بیوی کو ایک ہزارطلاق دی تھیں حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ تم نے طلاق دی ہے تو اس شخص نے کہا میں تو مذاق کررہا تھاآپؓ نے کوڑا اٹھایا اور فرمایا: تجھے صرف تین کافی تھیں۔‘‘

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online