Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

نفیس پھُول ۔ 634

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 634)

جو کسی صورت ان کو جائز نہ تھا، علمی کتابوں کو دفن کرنے والوں میںیوسف بن اسباط بھی ہیں جو روایت حدیث سے پھر بھی صبر نہ کر سکے مگر روایت میں خلط ملط کرنے لگے جس وجہ سے ان کا ضعیف راویوں میں شمار ہونے لگا۔

 احمد بن خالد کہتے ہیں میں نے شعیب بن حرب کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے یوسف بن اسباط سے پوچھا: آپ نے اپنی کتابوں کا کیا کیا؟ کہنے لگے :میں الجزیرہ میں آیا جب پانی خشک ہوگیا تو میں نے ان کو دفن کردیا اور اوپر سے پانی آگیا اور وہ یوں ختم ہوگئیں میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے: اس لئے کیا تھا تاکہ ایک ہی مشغلہ باقی رہے۔

صاحب کتاب فرماتے ہیں کہ بظاہر یہ کتابیں نفع بخش علم کی تھیں مگر قلت علم نے تفریظ کا یہ رنگ دکھایا کہ جس سے خیر کا قصد کیا تھا وہ شر ثابت ہوا اگر ان کی کتب بھی ثوریؒ کی کتب جیسی ہوتیں کہ ان میں ضعیف راویوں کی روایتیں یوںخلط ہوگئی تھیں کہ تمیز کرنا دشوار ہوگیا تھا تو ان کی بھی بات کچھ بن جاتی مگر ان کا خود وجہ بیان کرنا کہ تاکہ ایک ہی مشغلہ باقی رہے، بتارہا ہے کہ کتابیں ویسی نہ تھیں بس دیکھ لو قلت اہلِ خیر کے ساتھ کیا کچھ گزرتی ہے۔

حدیث کے شعبہ میں ہمیں ایسے حضرات کی خبر بھی ملی جن کی زیارت کو ہم جاتے اور ان کی تعظیم کرتے ہیں کہ وہ دجلہ کے کنارے پر تھے پیشاب کیا تو تمیم بھی ساتھ ہی کرلیا، پوچھا گیا کہ پانی تو قریب ہی موجود تھا کہنے لگے خطرہ ہوا کہ شاید وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔ اس بات سے گو یہ تو پتہ چلتا ہے کہ وہ لمبی اُمید نہیں رکھتے مگر فقہاء جب اس قسم کی بات سنتے ہیں تو انہیں ہنسی آجاتی ہے کیونکہ تمیم تو بہرحال پانی نہ پانے پر ہی ہوتا ہے پانی کے ہوتے ہوئے تمیم کے لئے ہاتھ مارنا ایک عبث عمل ہے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online