Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔643)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 643)

ان حضرات نے جب یہاں پڑائو ڈال لیا تو حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو حضورﷺ کا خط دے کر عامر بن طفیل کے پاس بھیجا۔ حضرت حرام رضی اللہ عنہ عامر کے پاس پہنچے تو اس نے خط کی طرف دیکھا ہی نہیں بلکہ حضرت حرام رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے انہیں شہید کردیا، پھر اس نے حضرات صحابہ کرامؓ کے خلاف بنو عامر قبیلہ سے مدد مانگی، لیکن اس کی بات ماننے سے بنو عامر نے انکار کردیا اور یہ کہہ دیا کہ ابو براء ان مسلمانو ںکو پناہ دے چکا ہے ہم اس کے معاہدہ کو توڑنا نہیں چاہتے ہیں۔

 پھر عامرنے بنو سلیم کے قبائل عصیہ اور رعل اور ذکوان سے ان حضرات کے خلاف مدد مانگی۔ انہوں نے اس کی بات مان لی۔ چنانچہ یہ تمام قبائل اکٹھے ہو کر آئے اور جہاں مسلمانوں نے پڑائو ڈالا ہوا تھا وہاں آکر سب طرف سے مسلمانوں کو گھیر لیا۔ جب مسلمانوں نے ان قبائل کو دیکھا تو انہوں نے اپنی تلواریں نکال لیں اور ان کافروں سے لڑنا شروع کردیا یہاں تک کہ سب کے سب ہی شہید ہوگئے۔ اللہ ان حضرات پر رحم فرمائے! بس بنو دینار بن نجار کے حضرت کعب بن زید ہی زندہ بچے۔ ابھی ان میں جان باقی تھی کہ کافر انہیں چھوڑ کرچلے گئے۔ انہیں مقتولین کے درمیان سے اٹھا کر لایا گیا۔ اس کے بعد یہ زندہ رہے اور جنگ ِ خندق کے دن یہ شہید ہوئے۔

اور حضرت عمرو بن امیہ ضمری اور قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے ایک انصاری صحابی یہ دو حضرات مسلمانوں کے جانور لے کر چرانے گئے ہوئے تھے۔ انہیں مسلمانوں کے شہید ہونے کا پتہ اس طرح چلا کہ انہوں نے دیکھا کہ جہاں مسلمانوں نے پڑائو ڈالا تھا مردار خور پرندے اڑ رہے ہیں اور آسمان میں چکر لگا رہے ہیں۔تو ان حضرات نے کہا:اللہ کی قسم! ان پرندوں کے یوں آسمان میں چکر لگانے میں ضرور کوئی بات ہے۔ وہ دونوں حضرات دیکھنے کے لیے آئے آکر دیکھا تو سارے مسلمان خون میں لت پت تھے اور جن گھوڑ سواروں نے ان مسلمانوں کو قتل کیا تھا وہ وہاں کھڑے تھے۔ یہ حالت دیکھ انصاری صحابی نے حضرت عمرو بن امیہ سے کہا:تمہارا کیا خیال ہے؟ حضرت عمرو نے کہا:میرا خیال یہ ہے کہ ہم جا کر حضورﷺ کو اس واقعہ کی خبر دیں۔ انصاری نے کہا کہ میں تو جان بچانے کے لیے اس جگہ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا ہوں ، جہاں حضرت منذر بن عمرو( جیسے آدمی) کوشہید کردیا گیا ہو اور میں یہ نہیں چاہتا کہ میں زندہ رہوں اور لوگوں کو ان کی شہادت کی خبر سناتا رہوں۔ چنانچہ انہوں نے ان کافروں سے جنگ شروع کردی اور آخر شہید ہوگئے۔ ان کافروں نے حضرت عمرو بن امیہ کو قیدی بنالیا۔ جب انہوں نے کافروں کو بتایا کو وہ قبیلہ مضر کے ہیں تو عامر بن طفیل نے ان کو چھوڑ دیا اور ان کی پیشانی کے بال کاٹ دیئے اور عامر کی ماں کے ذمہ ایک غلام آزاد کرنا تھا تو اس نے اپنی ماں کی طرف سے ان کو آزاد کردیا۔

 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت حرام رضی اللہ عنہ کو ستر سواروں کی جماعت کے ساتھ بھیجا( اس علاقہ کے) مشرکوں کے سردار عامر بن طفیل نے حضورﷺ کو تین باتوں میں سے ایک بات اختیار کرنے کا موقع دیا تھا۔ اور اس نے کہا کہ یا تو دیہات والے آپﷺ کے ہوجائیں اورشہروں والے میرے یا پھر آپﷺ کے بعد مجھے آپ کا خلیفہ بنایا جائے یا پھر میں غطفان کے ہزاروں آدمی لے کر آپ ﷺسے جنگ کروں گا۔ عامر اُم فلاں ایک عورت کے گھر میں تھا وہ وہاں طاعون میں مبتلا ہوگیا۔

 اس نے کہا:مجھے توطاعون کا ایسا پھوڑا نکلا ہے جیسے اونٹ کے نکلتا ہے آلِ فلاں کی عورت کے گھر میں(سفر کی حالت میں ایک معمولی عورت کے گھر میں بے کسی و بے بسی کی موت کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہوئے کہا:) میرا گھوڑا لائو۔ اس پر سوار ہو کر چلا اور گھوڑے کی پشت پر ہی اس کی موت ہوئی۔

حضرت اُمّ سلیم رضی اللہ عنہاکے بھائی حضرت حرام اور ایک اور لنگڑے صحابی اور بنو ں فلاں کے ایک آدمی یہ تینوں حضرات چلے۔ حضرت حرام رضی اللہ عنہ نے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ میں ان لوگوں کے پاس جاتا ہوں تم دونوں ذرا قریب رہنا۔ اگر ان لوگوں نے مجھے امن دے دیا تو تم قریب ہی ہوگے اور اگر انہوں نے مجھے قتل کردیا تو اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جانا۔ چنانچہ وہاں جاکر حضرت حرام رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا کہ کیا تم لوگ مجھے امن دیتے ہوتا کہ میں رسول اللہﷺ کا پیغام پہنچا سکوں؟یہ ان لوگوں سے بات کر رہے تھے کہ انہوں نے ایک آدمی کو اشارہ کیا جس نے پیچھے سے آکر ان کو نیزہ مارا۔ ہمام راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ آگے یہ الفاظ تھے کہ ایسا نیزہ مارا جو کہ پار ہو گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت حرام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم! میں تو کامیاب ہوگیا۔یہ دیکھ کر حضرت حرام رضی اللہ عنہ کے دونوں ساتھی مسلمانوں سے جاملے اور لنگڑے صحابی کے علاوہ باقی تمام ساتھی شہید کردیئے گئے اور وہ لنگڑے صحابی ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے ہوئے تھے۔ ان شہید ہونے والوں کے بارے میں ہمارے سامنے یہ آیت نازل ہوئی جو بعد میںمنسوخ کردی گئی:

انالقد لقینا ربنا فرضیی عنا وارضانا

 بے شک ہم اپنے رب سے جا ملے وہ ہم سے راضی ہوا او راس نے ہمیں راضی کیا۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے تیس دن رِعل اور ذکوان اور بنولحیان اور عصیہ قبیلوں کے خلاف بددعاء فرمائی۔ یہ قبیلے وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online