Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ(۶)

عائلی قوانین شریعت کی روشنی میں بیٹا بیٹی کی موجودگی میں پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ (۶)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 643)

۱)مسائل ایسے ہوں جن کے متعلق کوئی واضح شرعی بیان کتاب و سنت اورفقہ اسلامی میں موجود نہ ہو۔

 ۲)ان کافیصلہ شخصی رائے فرد واحد کی رائے سے ہرگز نہ کیا جائے بلکہ ارباب مشورہ کی اجتماعی رائے سے فیصلہ کیا جائے۔

 ۳)ارباب مشورہ وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو فقہاء و عابدین کے طبقہ سے ہوں یعنی کتاب و سنت کے علم و بصیرت، تفقہ فی الدین کے ساتھ ساتھ عبادت گذاری اورتقویٰ و طہارت کے ساتھ بھی موصوف ہوں گویا استحقاق اجتہاد کے لئے صرف علم دین ہی کافی نہیں ہے بلکہ عمل اور کردار بھی دینی ہونا ضروری ہے۔

 اس زمانہ میں مذکورہ بالا قسم کے مسائل سے متعلق اسلامی تحقیق کرنے والوں کے رہنما اصول میں رسول اللہﷺ کابیان فرمودہ مذکورہ بالا صول ضرور شامل ہونا چاہیے تاکہ ان کی تحقیق کتاب و سنت کے دائرہ سے خارج نہ ہو اور اتباع سنت رسول اللہﷺ کے اسوہ حسنہ اور انعم اللہ علیہم الخ کے صراط مستقیم سے وہ منحرف نہ ہوں۔

 ہمیں معلوم ہے کہ مخلص مولف نے ایسے مسائل کے متعلق اپنی رائے سے فیصلہ کرنے سے پہلے کم از کم کراچی کے سر فہرست عبادت گذار، تقویٰ شعار علماء دین اوتمام ارباب فقہ و افتاء کی رائے حاصل کرنے کی کافی حد تک کوشش کی مگر مختلف اور متنوع اسباب و عوامل کی بنا پروہ اس میں کامیاب نہ ہوئے جس کاانہیں شکوہ بھی ہے اور بدرجہ مجبوری انہوں نے ان مسائل میں اپنی رائے سے فیصلے کئے کہ اس کے سوا چارہ کار بھی نہ تھا۔

 اب وزارت قانون کا فرض ہے کہ وہ ملک کے ایسے تقویٰ شعار علماء دین اور ارباب فتویٰ جن کے علم و دیانت اور افتاء پر جمہور مسلمانان پاکستان کو اعتماد ہے اور وہ شب وروز احکام شرعیہ معلوم کرنے کے لئے ان کی طرف رجوع کرتے اورفتوے لیتے ہیں ان کے پاس اس کتاب کے مندرجات کے بارے میں استصواب کی غرض سے ایک ایک نسخہ بھیجے اور مناسب وقفہ اور مدت کے بعد کسی مرکزی مقام پر ان کی ایک کانفرنس بلائے اور اس اجلاس میں وہ حضرات باہمی تبادلہ خیالات اور بحث و تنقیح اور متفقہ طور پر ناگزیر ترمیمات کے بعد اسکی توثیق کریں اور اس کے بعد وزارت قانون یا اس کے تحت ادارہ تحقیقات اسلام اس کتاب کو شخصی نام کے بجائے علماء پاکستان کے متفق علیہ’’ مجموعہ قوانین اسلام ‘‘ کے نام سے شائع کر کے عدالتوں کے حکام کے پاس اس کو مجموعی طور پر نافذ کرنے کے لئے بھیجے تاکہ وہ عظیم مقصد جس کے لئے یہ سب کچھ کاوش و کوشش اور جانفشانی کی گئی ہے اور کی جائے گی یعنی پاکستان میں شرعی قوانین کا نفاذ حاصل ہو۔

ہمیں معلوم ہے کہ مولف دل سے یہی چاہتے ہیں اور وزیر قانون جناب ایس ایم ظفر کے انٹرویو میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے یادرکھئے! کہ ادارہ بینات کا نظریہ اس کاوش کے بارے میں تخریبی ہرگز نہیں ہے بلکہ تعمیری ہے اسی لئے وہ رہنما اصول کے بارے میں مذکورہ بالا جزوی اختلاف یا مسائل مندرجہ میں آنے والے چند اختلاف کے باوجود مولف جناب تنزیل الرحمن صاحب کی اس تالیف مجموعہ اسلامی قوانین کے نقش اول کو نہایت فراخدالی سے خو ش آمدید کہتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور کتاب کا ایک ایک لفظ پڑھ کر اور ماخذ( کتب حوالہ) کی مراجعت اورکافی غور و خوض کے بعد چند متفرق مسائل میں کوتاہیوں، غلط فہمیوں یا اغلاط کی مدلل نشاندہی صرف اس توقع پرکرتا ہے کہ

نقاش نقش ثانی بہتر کشد زاول

مولف اور تالیف کے متعلق مجموعی طور پر ہماری رائے آخر میں ملاحظہ فرمائیے۔

 (کتاب کے مندرجات کے متعلق مولف کی چند غفلتوں، کوتاہیوں یا غلط فہمیوں کی نشاندہی اور خود مولف کے بیان کردہ رہنما اصول کے تحت مدلل (مع ثبوت تصحیح)

۱)پہلا باب ابتدائی:اس باب کی دفعہ نمبر ۲ کی شق نمبر ۵ کے تحت مولف لکھتے ہیں:

’’اگر مذکورہ صورتوں میں کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو تو عدالتیں اجتہاد سے کام لیں گی مگر شرط یہ ہے کہ اجتہاد قرآن و سنت اور ادلہ شرعیہ کاپابند ہوگا۔‘‘

حیرت ہے مولف کس بے خبری کے عالم میں عدالتوں کے حکام کواجتہاد کا حق دے بیٹھے حالانکہ وہ عدالتوں کے حکام کی دینی لاعلمی کا حال ہم سے بہت زیادہ جانتے ہیں، مصنف کے رہنما اصول پر تبصرہ کے تحت ہم اجتہاد کی اہلیت کے ذیل میںبتلاچکے ہیں کہ اہلیت اجتہاد کے لئے علوم شرعیہ قرآن، حدیث ، تفسیر، فقہ، اصول فقہ کے وسیع و عمیق اور مبسوط علم کے علاوہ فقہی بصیرت اور ملکہ استنباط احکام کی کتنی شدید ضرورت ہیں۔

 مولف کے بیان کردہ رہنما اصول کے تحت مذکورہ ذیل حدیث صحیح کی رو سے مروجہ عدالتوں کے موجودہ حکام کو اجتہاد کا اختیار دینا قطعاً ممنوع اور خود حکام اور عامۃ المسلمین کو گمراہ بنانے کا موجب ہیں۔

اتخذ الناس رؤوسا جھالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا (صحیح بخاری ج ۱ ص ۲۰)

جب عالم دنیا سے اٹھ جائیں گے تو) لوگ جاہل ( دین سے ناواقف) لوگوں کو بڑا( مذہبی پیشوا) بنالیں گے اور پھر ان سے (شرعی مسائل) دریافت کئے جائیں گے تووہ (علم نہ ہونے کے باوجود) فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

 اس شق نمبر ۵ میں درج شدہ صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مذکورہ سابق صحیح مرفوع حدیث کے تحت عدالتوں کے حکام کوعلماء دین اور مفتیان شرع متین سے بصورت استفتادہ و استصواب کر کے ان کے متفقہ فتوے کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند بنانا چاہئے، عدالتوں کے حکام فریقین کو حکم دیں کہ وہ اپنے معتمد علماء دین سے متفقہ فتو یٰ لائیں اگر اتفاقاً فتووں میں اختلاف ہو تو ایک فریق کا فتویٰ دوسرے فریق کے علماء کے پاس بھیج کر اور بحث تنقیح کے بعد متفقہ فتویٰ حاصل کر کے فیصلہ کریں۔

عموماًفتووں میں اختلاف صورت مسئلہ کے اختلاف پر مبنی ہوتا ہے اگر ایسا ہو توحاکم عدالت میں صحیح صورت مسئلہ لکھ کر متعدد مفتیان کرام سے استفتاء کریں بہر صورت رسول اللہﷺ کی نبوت ولاتمضوا فیہ برای خاصۃ کے مطابق ایسی صورتوں میں انفرادی رائے سے ہرگز فیصلہ نہ کیا جائے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے برصغیر ہندو پاکستان میں تقسیم سے پہلے بھی اور تقسیم کے بعد بھی عدالتیں ہمیشہ ایسی صورتوں میں مفتیوں سے استصواب اور ان کے فتووں کے مطابق فیصلے کرتی رہی ہیں مولف ہم سے بہت زیادہ عدالتوں کے اس تعامل سے واقف ہیں۔

(۲)…مسلمان کی تعریف دفعہ(۳) کے ذیل میںلکھتے ہیں:

’’جو کوئی شخص خدا کو ایک اور حضرت محمدمصطفیٰﷺ کو آخری نبی مانتا ہو اور خود کو مسلمان کہتا ہو وہ مسلمان ہے‘‘

اس طرح مولف،مسلمان کی مذکورہ بالا تعریف یہی بالکل عامیانہ عرف کے مطابق کرگئے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ رہنما اصول کے مطابق نہ اس تعریف کا کتاب و سنت وغیرہ ادلہ شرعیہ یا کتب فقہ کا کوئی حوالہ دیا ہے نہ ہی شرح کے حصہ میں اس پر کسی بحث تنقیح کی ضرورت سمجھی ہے حالانکہ نکاح بین المسلم والکافر مسلمان اور کافر مرد یا عورت کے نکاح سے متعلق خود ان کی تفصیلی بحثیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مناکحین کا مسلمان ہونا یا نہ ہو نا صحت نکاح اورعدم صحت نکاح پر کس قدر زبردست اثر انداز ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online